جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تلخ حقائق میں حسین تصورات،تحریر: مہوش شفیق

نقطہ نظر

انسان کی سب سے بڑی قوت نہ اس کی دولت ہے، نہ اس کا منصب ہے اور نہ ہی اس کے پاس موجود اسباب ہیں۔ انسان کی اصل قوت اس کے ذہن میں پوشیدہ ہے، وہ ذہن جو تلخ ترین حقائق کے درمیان بھی حسین تصورات کی پرورش کرتا ہے۔ یہی وہ کمال ہے جسے کوئی زوال نہیں، جسے کوئی موسم ماند نہیں کر سکتا اور جسے کوئی طوفان بجھا نہیں سکتا۔ یہی وصف انسان کو دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔تاریخِ عالم گواہ ہے کہ جن اقوام نے عروج پایا، وہ وہی تھیں جنہوں نے تاریکی میں روشنی کا خواب دیکھا۔ جب ہر سمت ناامیدی چھائی ہوئی تھی، جب راستے مسدود تھے، جب حالات نے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا، تب بھی کچھ ذہن ایسے تھے جو پکار رہے تھے کہ ابھی صبح باقی ہے۔ انہی تصورات نے شکست کو فتح میں بدل دیا اور ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ ہر بڑی تبدیلی سے پیشتر ایک چھوٹا سا خواب تھا، جسے لوگوں نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔آج کے انسان کو دیکھیے۔ وہ گرانی، بیکاری، بیماری، ناانصافی اور رشتوں کی بے حسی جیسے تلخ حقائق میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ ہر صبح اس کے سامنے نئی آزمائش ہے اور ہر شام نیا دکھ ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے بچے کے لیے روشن مستقبل کا خواب دیکھتا ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے گھر میں بھی محبت کا چراغ جلائے رکھتا ہے۔ وہ خالی جیب کے ساتھ بھی عزت کی روٹی کا تصور کرتا ہے۔ کیا یہ کم کمال ہے کہ انسان ٹوٹ کر بھی جڑنے کی امید رکھتا ہے۔تلخ حقائق انسان کے قدم روک سکتے ہیں، مگر اس کی سوچ کو قید نہیں کر سکتے۔ زندان کی دیواریں جسم کو روک سکتی ہیں، مگر تصور کو نہیں۔ مفلسی ہاتھ خالی کر سکتی ہے، مگر دل کو خالی نہیں کر سکتی۔ بیماری جسم کو ناتواں کر سکتی ہے، مگر امید کو ناتواں نہیں کر سکتی۔ حیوان صرف حال میں جیتا ہے، مگر انسان حال میں رہ کر مستقبل کا خواب بنتا ہے۔ یہی قوتِ فکر اس کی سب سے بڑی عبادت اور سب سے بڑی طاقت ہے۔ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تلخ حقائق کو اتنا بڑا کر دیا ہے کہ حسین تصورات حقیر لگنے لگے ہیں۔ ہم بچوں کو ڈراتے ہیں، ان سے کہتے ہیں کہ دنیا بہت ظالم ہے، کچھ نہیں ہو سکتا، محنت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم ان کے ذہنوں میں مایوسی بو دیتے ہیں، پھر شکوہ کرتے ہیں کہ نئی نسل مایوس کیوں ہے۔ حالانکہ ہمیں ان کو یہ سکھانا چاہیے تھا کہ تلخیاں راہ کا پتھر ہیں، منزل نہیں۔ پتھر سے ٹھوکر کھا کر رکنا نہیں، اسے ہٹا کر آگے بڑھنا ہے۔

حسین تصورات پالنا فرار نہیں، یہ سب سے بڑی بہادری ہے۔ فرار وہ کرتا ہے جو حقیقت سے آنکھیں بند کر لے۔ بہادر وہ ہے جو حقیقت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے اور پھر بھی کہے کہ میں بہتر کل بناؤں گا۔ ایک مزدور جو دن بھر اینٹیں اٹھاتا ہے اور رات کو اپنے بیٹے کو طبیب بننے کا خواب سناتا ہے، وہ مایوس نہیں، وہ فاتح ہے۔ ایک ماں جو خود بھوکی سوتی ہے مگر بچوں کو کہانی میں بادشاہوں کا محل دکھاتی ہے، وہ کمزور نہیں، وہ سب سے زیادہ توانا ہے۔

تصورات ہی انسان کو عمل پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب تک ذہن میں کوئی تصویر نہیں بنتی، ہاتھ حرکت نہیں کرتے۔ پہلے انسان نے اڑنے کا تصور کیا، پھر ہوائی جہاز بنا۔ پہلے اس نے چاند پر جانے کا خواب دیکھا، پھر وہاں قدم رکھا۔ پہلے اس نے روشنی کا تصور کیا، پھر چراغِ برقی ایجاد ہوا۔ ہر ایجاد سے پیشتر ایک تصور تھا، ہر انقلاب سے پیشتر ایک خواب تھا۔ اس لیے جو قوم اپنے خواب مار دیتی ہے، وہ اپنی ترقی مار دیتی ہے۔ خوابوں کے بغیر قومیں زندہ لاشوں کی مانند ہو جاتی ہیں۔لیکن یاد رکھیے، حسین تصورات کا مطلب ہوائی قلعے بنانا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے بہتر راہ نکالی جائے۔ جو شخص صرف خواب دیکھتا ہے اور عمل نہیں کرتا، وہ خواب نہیں دیکھ رہا، وہ خود کو دھوکا دے رہا ہے۔ اصل کمال یہ ہے کہ خواب کو مقصد بنایا جائے، اور مقصد کو عمل سے جوڑا جائے۔ خواب کے ساتھ محنت نہ ہو تو وہ بوجھ بن جاتا ہے، اور محنت کے ساتھ خواب نہ ہو تو وہ تھکن بن جاتی ہے۔آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے گھروں میں، اپنے مکاتب میں اور اپنی محفلوں میں پھر سے حسین تصورات کو زندہ کریں۔ بچوں کو بتائیں کہ حالات برے ہو سکتے ہیں، مگر تمہارا ذہن برا نہیں ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کو بتائیں کہ اگر آج اندھیرا ہے تو کل روشنی تمہارے ہی ہاتھ سے آئے گی۔ بزرگوں کو بتائیں کہ ان کی دعائیں اور ان کے تجربات ہی ہماری امید ہیں۔ اگر ہم نے امید کا دیا بجھا دیا تو پھر ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔آخر میں اتنا ہی کہوں گی کہ تلخ حقائق گزر جائیں گے، حکومتیں بدل جائیں گی، موسم بدل جائیں گے، مگر انسان کا وہ ذہن جو حسین تصورات پالنا جانتا ہے، وہ کبھی زوال پذیر نہیں ہوگا۔ کیونکہ جسم کو زوال ہے، دولت کو زوال ہے، طاقت کو زوال ہے، مگر سوچ کو کوئی زوال نہیں۔ اور جس کی سوچ زندہ ہے، اس کا مستقبل بھی زندہ ہے۔