شانزہ کو کتابیں جمع کرنے کا خبط تھا۔
میز پر چار کتابیں ایک دوسرے پر دھری تھیں۔ "سوچ بدلو زندگی بدلو"، "پرسکون صبح کا راز"۔ ہر کتاب کے پہلے صفحے پر وہ مارکر سے لکیر کھینچتی، اور سمجھتی کہ زندگی سمجھ آ گئی۔
صبح ساڑھے چھ بجے ماں کی آواز باورچی خانے سے آئی۔
شانزہ! اٹھ جا، آٹا گوندھنا ہے۔
شانزہ نے کمبل میں سے ہی کہا، ماں بس پانچ منٹ۔ یہ صفحہ مکمل کر لوں۔ صفحے پر لکھا تھا "کامیاب لوگ سورج سے پہلے جاگتے ہیں"۔
ماں نے آ کر کمبل کھینچا، تیری کتابوں سے چولہا نہیں جلے گا۔ اٹھ۔۔۔
وہ منہ بنا کر اٹھی۔ ہاتھ آٹے میں تھے، دماغ کتاب میں۔
دوپہر کو ابا آیا۔ قمیض پسینے سے چپکی ہوئی۔ ہاتھ میں بجلی کا بل تھا جو پچھلی بار سے دو ہزار زیادہ تھا۔
کہنے لگا، شانزہ پتر، ذرا دیکھ، بارہ ہزار بل آ گیا ہے۔ تیرا کیا خیال ہے؟
شانزہ نے بل کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ بولی، ابا آپ ہر وقت ٹینشن لیتے ہیں۔ میری کتاب میں لکھا ہے، کائنات کو مثبت سگنل دو تو پیسہ خود کھنچا آتا ہے۔ابا نے کچھ نہ کہا۔ بل کو تہہ کر کے جیب میں ڈالا اور نلکے سے منہ دھونے لگے۔ اسے سگنل نہیں، اگلے دن کے لیے ادھار چاہیے تھا۔
ساڑھے چار بجے اس کا چھوٹا بھائی بلال بستہ گھسیٹتا ہوا آیا۔ اس کی آنکھیں لال تھیں۔
باجی، میری تختی والی قلم ٹوٹ گئی۔ قاری صاحب ماریں گے۔
شانزہ نے اسی فلسفیانہ لہجے میں کہا، بلال، ٹوٹنا برا نہیں ہوتا۔ ٹوٹنے سے ہی انسان بنتا ہے۔
بلال نے اسے غصے سے دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں دو ٹکڑے تھے۔ وہ زور سے چلایا، مجھے بننا وننا نہیں ہے! مجھے قلم چاہیے!
اس کا رونا چیخوں میں بدل گیا۔ اس رونے میں کوئی فلسفہ نہیں تھا، صرف اسکول کا ڈر تھا۔
مغرب کے بعد نسرین آئی۔ اس کی چادر کے ایک کونے پر چائے گری ہوئی تھی، اور بائیں آنکھ کے نیچے ہلکا سا نیل تھا۔
وہ دبے لفظوں میں بولی، اس نے کہا ہے گھر سے نکل جا۔ بچے بھوکے ہیں۔
شانزہ نے فوراً کہا، نسرین، تمہیں باؤنڈریز سیٹ کرنی ہوں گی۔ تم ٹاکسک ریلیشن شپ میں ہو۔ تمہیں خود مختار ہونا ہو گا۔ نسرین نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کا ہاتھ ٹھنڈا تھا۔
بولی، شانزہ، مجھے انگریزی نہیں آتی۔ مجھے صرف آج رات کے لیے ایک چارپائی دے دے۔ تیری یہ کتابیں میرے بچوں کو روٹی دے دیں گی؟
شانزہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس باب پر کتاب خاموش تھی۔ نسرین اٹھ کر چلی گئی۔ اس کے جوتے کی آواز دیر تک سیڑھیوں میں آتی رہی۔
رات کے گیارہ بجے بجلی چلی گئی۔ ساتھ ہی یو پی ایس نے بھی جواب دے دیا۔
کمرے میں حبس تھا، پسینہ ماتھے سے ٹپک رہا تھا۔ میز پر پڑی ساری موٹی کتابیں اندھیرے میں ایک جیسی لگ رہی تھیں۔ بے کار۔
اسے اچانک اپنے پیٹ میں بھوک کا گولا سا اٹھتا ہوا محسوس ہوا۔ دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ ڈر بھی لگ رہا تھا۔
اس نے آہستہ سے کہا، ماں۔
ماں سوئی نہیں تھی۔ وہ اسی اندھیرے میں اٹھ کر آئی۔ اس نے کوئی لیکچر نہیں دیا۔ بس اپنے دوپٹے کے پلو سے اس کے ماتھے کا پسینہ پونچھا، جو نمکین تھا۔
پھر گھپ اندھیرے میں ٹٹول کر باورچی خانے سے وہی صبح کی بچی ہوئی روٹی لائی، جسے اس نے توے پر دوبارہ گرم کیا تھا، اور ساتھ آم کا اچار۔
شانزہ نے روٹی ہاتھ میں لی۔ وہ کھردری تھی، کنارے سے تھوڑی جلی ہوئی تھی۔
اس ایک لمحے میں اسے سمجھ آیا۔
کتابیں جھوٹ نہیں بولتیں، مگر وہ ادھورا سچ بولتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ مضبوط کیسے بننا ہے، مگر یہ نہیں بتاتیں کہ جب چھوٹے بھائی کی قلم ٹوٹے تو اسے نئی لا کر کیسے دینی ہے۔ وہ خود مختاری کا مطلب سمجھاتی ہیں، مگر یہ نہیں بتاتیں کہ بھوکی سہیلی کو چارپائی کیسے دینی ہے۔
جو فلسفہ بھوکے کو روٹی نہیں دے سکتا، جو روتے کو چپ نہیں کرا سکتا، جو ڈرے ہوئے کے ماتھے سے پسینہ نہیں پونچھ سکتا، وہ بے روح ہے۔اس نے روٹی کا نوالہ توڑا۔ وہ گرم تھا۔ اس میں فلسفہ نہیں تھا، زندگی تھی اس رات اس نے پہلی بار کتابیں بند نہیں کیں، ایک طرف کر دیں۔ اور کھڑکی کھول دی۔ باہر گلی میں سے رات کی ٹھنڈی ہوا آئی، جس میں کچرے، چنبیلی اور دور کہیں پکتی ہوئی روٹی کی ملی جلی بو تھی۔ اس ہوا میں کوئی فلسفہ نہیں تھا، مگر سانس تھی۔
مزید پڑھیں





