Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار، 9 فیصد خودکشی کا سوچنے لگے،سروے


بھارت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے مقرر کردہ پینل کے سروے میں 9 فیصد طلبہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران اکثر یا بہت زیادہ خودکشی کے خیالات آنے کی اطلاع دی ہے۔


نیشنل ٹاسک فورس کے ملک گیر سروے میں 2 لاکھ 43 ہزار سے زائد طلبہ کی رائے شامل کی گئی، جن میں 67 فیصد کا تعلق ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات سےتھا 15 فیصد طلبہ نے بتایا کہ گزشتہ 6 ماہ کےدوران وہ کئی ہفتوں تک شدید ذہنی دباؤ یا بے چینی کا شکار رہے, تقریباً 34 فیصد طلبہ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے کسی نہ کسی حد تک کیمپس میں خود کو دوسروں سے الگ یا باہر کا فرد محسوس کیا۔


طلبہ کی جانب سے اداروں میں دستیاب معاونت کے حوالے سے بھی مختلف آرا سامنے آئیں،56 فیصد طلبہ نے کہا کہ انہیں اعتماد ہے کہ انتظا میہ سنگین معاملات کو منصفانہ انداز میں نمٹائے گی، تاہم تقریباً 32 فیصد نے بتایا کہ ان کے ادارے میں کونسلنگ کی سہولت موجود نہیں،طلبہ میں تعلیمی انتخاب اور مستقبل میں روزگار کے حوالے سے مسلسل فکرمندی بھی نمایاں رہی۔


https://x.com/PTI_News/status/2104797722532585476?s=20


یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی خودکشیوں پر ایک بار پھر بحث جاری ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ٹی بمبئی میں 2 طلبہ کی اموات کے بعد بھی اس معاملے پر شدید تشویش سامنے آئی تھی۔


سپریم کورٹ کے پینل نے اپنی رپورٹ میں اعلیٰ تعلیم کے دوران طلبہ کو درپیش سماجی اور ادارہ جاتی مسائل کی بھی نشاندہی کی ہےجبکہ طلبہ نے گہرے سماجی امتیاز، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں جنسی ہراسانی اور بعض جامعات میں اساتذہ کی جانب سے صنفی امتیاز کی شکایات کیں۔


طلبہ نے داخلوں، گریڈنگ، زبان کے فرق اور اساتذہ کی توجہ کے معاملے میں ذات کی بنیاد پر مبینہ تذلیل اور امتیاز کی بھی شکایات کیں، جبکہ نیٹ یو جی (NEET-UG) اور جے ای ای (JEE) رینکس کی بنیاد پر طلبہ کی ذات کی شناخت کا معاملہ بھی رپورٹ میں شامل تھا۔


تاہم ٹاسک فورس کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ موجودہ سروے کے نمونے کی عدم نمائندگی کے باعث ان مشاہدات کو ابتدائی اورعارضی سمجھنےکی ضرورت ہے،ابتدائی رجحانات طلبہ کے لیے معیاری معاونتی نظام، اساتذہ کی تربیت، ذہنی صحت سے متعلق منفی تاثر کم کرنے، بحرانی صورت حال سے نمٹنے کے واضح طریقہ کار اور طلبہ کی ذہنی صحت کی باقاعدہ نگرانی کی ضرور ت ظاہر کرتے ہیں۔


ٹاسک فورس نے سروے کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں کے دورے اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت بھی کی۔ اب تک دہلی اور این سی آر، تمل ناڈو، کرناٹک، آسام اور مغربی بنگال میں 19 اداروں کے مقامات پر 30 اجلاس کیے جا چکے ہیں، مختلف اداروں میں طلبہ نے سخت حا ضری پالیسی، بھاری تعلیمی شیڈول، میڈیکل اور کلینیکل شعبوں میں اضافی بوجھ اور میڈیکل طلبہ کے طویل آن کال اوقات کو مسائل میں شمار کیا۔


انجینئرنگ کالجوں میں گریڈنگ اور ملازمتوں کے لیے سخت معیار کے باعث شدید مسابقت، ریاستی جامعات میں اساتذہ کی کمی اور ناکافی تعلیمی معاونت کی شکایات بھی سامنے آئیں، ڈینٹل اور نرسنگ سمیت بعض شعبوں میں عملی تربیت کی کمی کے باعث طلبہ نے خود کو پیشہ ورانہ عملی کام کے لیے ناکافی طور پر تیار محسوس کرنے کی نشاندہی کی، جبکہ پی ایچ ڈی طلبہ نے بعض سپروائزرز کی جانب سے غفلت، حد سے زیادہ کنٹرول اور استحصال کی شکایات بھی بیان کیں۔


نیشنل ٹاسک فورس کو سپریم کورٹ نے مارچ 2025 میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی خودکشیوں، ذہنی صحت اور فلاح و بہبود سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لیے قائم کیا تھا۔ پینل کی حتمی رپورٹ 31 اکتوبر تک پیش کیے جانے کی توقع ہے۔