Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دل سنبھال کر رکھیے، تحریر:شاہد نسیم چوہدری

نقطہ نظر
shahid naseem

دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی قدر ہمیں ان کے چھن جانے کے بعد ہوتی ہے۔ صحت بھی انہی نعمتوں میں سے ایک ہے اور دل… اس نعمت کا وہ مرکز ہے جو ہماری زندگی کی خاموش کتاب کا ہر صفحہ اپنی دھڑکن سے لکھتا ہے۔ جب تک دل دھڑکتا رہتا ہے، زندگی ہمیں اپنے ہونے کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ مگر ایک لمحے کے لیے اس دھڑکن میں ٹھہراؤ آجائے تو انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی دولت دراصل وہی تھی جسے وہ معمولی سمجھ کر ہر روز نظرانداز کرتا رہا۔

29 ستمبر، عالمی یومِ قلب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دل کا خیال رکھنا صرف ایک طبی ضرورت نہیں، زندگی سے محبت کرنے کا نام بھی ہے۔ اپنے دل کو صحت مند رکھیے، اپنی غذا، نیند، جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون کا خیال رکھیے۔ مگر آج میں دل کی ایک اور صحت کی بات کرنا چاہتا ہوں… ایسی صحت جس کا تعلق کسی اسپتال، لیبارٹری یا دوا سے نہیں، بلکہ ہمارے کردار، ہماری زبان اور ہمارے رویوں سے ہے۔

ہم اپنے دل کو کولیسٹرول سے بچانے کے لیے محتاط ہوتے ہیں، نمک کم کرتے ہیں، چکنائی سے پرہیز کرتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں۔ یہ سب ضروری ہے۔ لیکن کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم دوسروں کے دلوں کے لیے کتنے خطرناک ہیں؟

ہماری ایک تلخ بات کسی کے دل میں برسوں تک چبھ سکتی ہے۔ ایک بےرحمانہ جملہ کسی کی مسکراہٹ چھین سکتا ہے۔ کسی کی تضحیک، کسی کی تحقیر، کسی کے خلوص پر شک، کسی کی محبت کا مذاق… یہ سب ایسے زخم ہیں جن پر نہ پٹی باندھی جا سکتی ہے، نہ ایکسرے میں دکھائی دیتے ہیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم جسم پر لگنے والے زخم کے لیے فوراً مرہم تلاش کرتے ہیں، مگر دل پر لگائے ہوئے زخم کو اکثر یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں:

’’میں نے تو بس بات ہی کی تھی۔‘‘

نہیں… الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے۔

الفاظ کبھی دعا بن جاتے ہیں، کبھی بددعا۔

کبھی مرہم بن جاتے ہیں، کبھی خنجر۔

کبھی کسی کو جینے کا حوصلہ دیتے ہیں اور کبھی کسی کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔

اس لیے آج عالمی یومِ قلب پر ایک عہد اپنے جسم کے دل کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کے دل کے لیے بھی کیجیے کہ ہم کسی کے دل کو اپنی زبان سے بیمار نہیں کریں گے۔

دل انسانی جسم کا وہ خاموش مسافر ہے جو پیدائش سے آخری سانس تک ہمارے ساتھ چلتا ہے۔ ہم سوتے ہیں، یہ جاگتا ہے۔ ہم تھک جاتے ہیں، یہ اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ ہم پریشان ہوتے ہیں، یہ دھڑکتا رہتا ہے۔ خوشی ملتی ہے تو یہی دل مسرور ہوتا ہے، غم آتا ہے تو یہی دل بوجھل ہوجاتا ہے۔

اور محبت؟

محبت تو جیسے دل ہی کی زبان ہے۔

آنکھیں بہت کچھ دیکھ سکتی ہیں، زبان بہت کچھ کہہ سکتی ہے، عقل بہت کچھ سمجھ سکتی ہے، مگر محبت محسوس صرف دل کرتا ہے۔

ماں کی محبت ہو، باپ کی شفقت، اولاد کی چاہت، دوست کی وفا، شریکِ حیات کا ساتھ، استاد کی دعا یا کسی اجنبی کی بےلوث مدد… ہر خوب صورت جذبے کے پیچھے دل ہی تو کھڑا ہوتا ہے۔

دل صاف ہو تو دنیا خوب صورت دکھائی دیتی ہے۔

دل میں کدورت ہو تو بہار بھی خزاں محسوس ہوتی ہے۔

اسی لیے اہلِ معرفت نے دل کو صرف جسم کا حصہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسان کے باطن کا آئینہ قرار دیا۔ دل میں جو ہوتا ہے، وہ کبھی نہ کبھی آنکھوں، لہجے اور رویے سے ظاہر ہوجاتا ہے۔ آپ کتنی ہی خوب صورت گفتگو کر لیں، اگر دل میں نفرت ہو تو لفظوں کی خوشبو زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔

دل صاف رکھیے۔

یہ زندگی بہت مختصر ہے۔

کسی سے بدلہ لینے کے لیے عمر بہت چھوٹی ہے۔

کسی سے نفرت پالنے کے لیے وقت بہت کم ہے۔

اور محبت کرنے کے لیے بھی یہی زندگی ہے۔

ہم جانے کتنے لوگوں سے ملتے ہیں، کتنے چہرے ہماری زندگی میں آتے ہیں، کچھ چند لمحوں کے لیے، کچھ چند برسوں کے لیے اور کچھ آخری سانس تک ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ہماری کون سی بات کس شخص کی آخری یاد بن جائے گی۔

اس لیے جب بھی کسی سے بات کریں، ذرا سوچ کر کریں۔

ہوسکتا ہے سامنے والا پہلے ہی کسی ایسے دکھ سے گزر رہا ہو جس کا آپ کو علم نہ ہو۔

ہوسکتا ہے وہ مسکرا رہا ہو مگر اندر سے ٹوٹا ہوا ہو۔

ہوسکتا ہے آپ کی ایک محبت بھری بات اسے وہ حوصلہ دے دے جس کی اسے کئی دنوں سے تلاش تھی۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا ایک طنزیہ جملہ اس کے اندر موجود آخری امید کو بھی خاموش کردے۔

اس لیے بولنے سے پہلے لفظوں کو دل کی چھلنی سے گزار لیا کریں۔

تلخی سے پہلے محبت کو یاد کر لیا کریں۔

غصے سے پہلے رشتے کو دیکھ لیا کریں۔

اور شکایت سے پہلے اس شخص کی وہ تمام محبتیں یاد کر لیا کریں جو اس نے کبھی آپ کے لیے کی تھیں۔

زندگی میں ہر شخص کامل نہیں ہوتا۔ ہم بھی نہیں۔

ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ ہم سب کبھی نہ کبھی کسی کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ مگر عظمت یہ نہیں کہ انسان کبھی غلطی نہ کرے؛ عظمت یہ ہے کہ غلطی کا احساس ہوجائے تو دل بڑا کر معافی مانگ لے۔

اور اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ جب کوئی آپ سے معافی مانگے تو اس کے لیے اپنے دل کا دروازہ بند نہ کریں۔

معاف کرنا کمزوری نہیں۔

معاف کرنا دل کو آزاد کرنے کا نام ہے۔

نفرت دل میں رکھنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے کو جلانے کے لیے اپنے ہاتھ میں انگارہ پکڑے رکھے۔ نقصان پہلے اسی کا ہوتا ہے جو اسے تھامے رہتا ہے۔

تو پھر کیوں نہ آج اپنے دل کی صفائی بھی کر لی جائے؟

کچھ پرانے شکوے نکال دیجیے۔

کچھ گلے بھلا دیجیے۔

کسی روٹھے ہوئے کو منا لیجیے۔

کسی سے معذرت کر لیجیے۔

کسی کو معاف کر دیجیے۔

اور کسی ایسے شخص کو فون کر لیجیے جس سے مدت سے بات نہیں ہوئی۔

یقین کیجیے، کبھی کبھی ایک چھوٹی سی ’’کیسے ہیں آپ؟‘‘ کسی انسان کے لیے بہت بڑی خوشی بن جاتی ہے۔

دل کی صحت صرف اس بات میں نہیں کہ ہماری شریانیں صاف ہوں؛ دل کی ایک صحت یہ بھی ہے کہ اس میں دوسروں کے لیے جگہ باقی ہو۔

اپنے دل کو نفرتوں کا گودام نہ بنائیں۔

اسے محبت کا گھر بنائیں۔

ایسا گھر جہاں تھکا ہوا انسان کچھ دیر بیٹھ سکے، جہاں اداس شخص کو تسلی ملے، جہاں کمزور کو حوصلہ ملے، جہاں شکست خوردہ کو یہ احساس ہو کہ دنیا ابھی مکمل طور پر بےرحم نہیں ہوئی۔

ہم دوسروں کے لیے کیا ہیں، شاید یہی ہماری اصل پہچان ہے۔

آپ کے پاس دولت کتنی ہے، یہ وقت بتا دے گا۔

آپ کا عہدہ کتنا بڑا ہے، یہ بھی وقت کے ساتھ بدل جائے گا۔

آپ کتنے مشہور ہیں، یہ بھی تاریخ کے صفحات طے کریں گے۔

لیکن کسی کے دل میں آپ نے جو محبت چھوڑی، وہ آپ کے بعد بھی زندہ رہ سکتی ہے۔

کسی ماں کے لبوں پر آپ کے لیے نکلی ہوئی دعا، کسی دوست کی آنکھ میں آپ کی یاد، کسی شاگرد کے دل میں استاد کے لیے احترام، کسی ضرورت مند کی زبان پر آپ کا شکریہ… یہی وہ دولت ہے جو انسان کے جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔

اس لیے دل کو سنبھال کر رکھیے۔

اپنے دل کو بیماریوں سے بچائیے۔ صحت مند غذا اختیار کیجیے، جسم کو حرکت دیجیے، اپنی صحت کی باقاعدہ نگرانی کیجیے اور ضرورت ہو تو طبی ماہر سے مشورہ لیجیے۔ مگر اس کے ساتھ اپنے باطن کی صحت کا بھی خیال رکھیے۔

دل میں حسد کم کیجیے۔

غصہ کم کیجیے۔

نفرت کم کیجیے۔

شکوے کم کیجیے۔

اور محبت بڑھائیے۔

کیونکہ کبھی کبھی جسم کا دل ڈاکٹر بچاتا ہے، مگر انسان کا دل انسان ہی بچاتا ہے۔

کسی کے لیے آپ ایک اچھا لفظ بول کر اس کا دل بچا سکتے ہیں۔

کسی کو گلے لگا کر اس کی تنہائی کم کر سکتے ہیں۔

کسی کو معاف کرکے برسوں کا بوجھ اتار سکتے ہیں۔

کسی کا ہاتھ تھام کر اسے یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ وہ اکیلا نہیں۔

اور شاید یہی زندگی کی سب سے خوب صورت معرفت ہے کہ دل صرف خون کی گردش کا نام نہیں، محبت کی گردش کا نام بھی ہے۔

آج 29 ستمبر ہے۔

آئیے عالمی یومِ قلب پر صرف اپنے دل کی دھڑکن نہ سنیں، اپنے اردگرد موجود دلوں کی خاموش آواز بھی سنیں۔

اپنے دل سے پوچھیں:

کیا میری وجہ سے کسی کا دل دکھا ہے؟

کیا میری زبان نے کسی کو زخمی کیا ہے؟

کیا کوئی مجھ سے محبت کرتا تھا اور میری بےتوجہی سے دور ہوگیا؟

کیا کسی کو میری ایک مسکراہٹ کی ضرورت ہے؟

اگر جواب ’’ہاں‘‘ میں ہے تو ابھی دیر نہیں ہوئی۔

ایک فون کر لیجیے۔

ایک معافی مانگ لیجیے۔

ایک گلے لگا لیجیے۔

ایک محبت بھرا جملہ کہہ دیجیے۔

کیونکہ زندگی کی سب سے خوب صورت دوا کبھی کبھی محبت کا ایک لفظ ہوتی ہے۔

دل کا بہت خیال رکھیے… صرف اپنا نہیں، دوسروں کا بھی۔

اپنے دل کو بیماریوں سے بچائیے،

اور دوسروں کے دل کو اپنی تلخیوں سے۔

دل کو صاف رکھیے، محبت سے بھریے، نفرت سے خالی کیجیے۔

کیا خبر، آپ کی صاف نیت، نرم گفتگو اور محبت بھرا رویہ کسی ایسے دل کے لیے زندگی بن جائے جسے دنیا نے تھکا دیا ہو۔

دل دھڑکتا رہے تو زندگی چلتی ہے،

مگر دل محبت سے دھڑکے تو زندگی خوب صورت بن جاتی ہے۔اسی لئے کہتے ہیں کہ دل جسم میں بھی دھڑکتا ہے اور رشتوں میں بھی !.