ماں بیٹی کے لیے مثال،تحریر:ردا فاطمہ اعوان
نقطہ نظر
دنیا میں آنے کے بعد ہم جس سے سب سے زیادہ سیکھتے ہیں وہ ہے ہماری ماں۔
ماں بیٹی کے لیے سب سے انمول رشتہ ہوتی ہے
میری یہ تحریر صرف ایک ماں کے لیے نہیں بلکہ دنیا کی ہر ماں کے لئے ہے۔
ماں اور بیٹی کا رشتہ ایک ایسا بندھن ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔
ایک ماں کا اپنی اولاد خاص کر بیٹی کودیا گیا سب سے بہترین تحفہ تربیت ہے۔
ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کی ایسی تعلیم و تربیت کرے کہ دیکھنے والے بے اختیار کہہ اٹھیں کہ " بیٹی ہو تو ایسی"
یہ حقیقت ہے کہ بچوں پر سب سے زیادہ اثر ماں کا پڑتا ہے۔ جب ماں باادب ،بااخلاق اور سلیقہ مند ہوگی تو اولاد بھی ایسی ہوگی۔
بیٹیوں کو بچپن سے ایسے کام سپرد کریں کہ وہ شوق اور اچھی طرح سے کر سکیں اور وقت کی پابندی سیکھ جائیں۔
بچپن سے ہی انہیں نماز اور تلاوتِ قرآن مجید کی تائید کریں تاکہ وہ دین دار بن سکیں۔
اک بڑی مشہور بات ہے کہ جو کام ماں کرتی ہے وہی بیٹی بھی کرتی ہے۔
اگر ماں نیک فرمابردار اور سلیقہ مند ہوگی تو وہ اپنی بیٹی میں بھی یہی سب پائے گی۔
حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس بنوتمیم قبیلےکی چند عورتیں آئیں۔ انہوں نے باریک لباس پہنا ہوا تھا۔حضرت عائشہ نے کہا کہ "اگر تم مومن عورتیں ہو تو سن لو یہ لباس مومن عورتوں کا نہیں اگر تم مومن نہیں تو جو چاہے پہنو۔
بیٹیاں ہمیشہ اپنی ماں کے نقشے قدم پر چلتی ہیں۔
اگر ماں باپردہ ہوگی تو بیٹی بھی اپنی ماں کو دیکھا دیکھی پردا کرے گی۔
اگر ماں صبر کرنے والی ہے تو چاہے کتنی بھی بڑی مشکل کیوں نا ہو بیٹی بھی صبر و تحمل سے کام لے گی۔
کیونکہ اس نے اپنی ماں کو دیکھا ہے صبر کرتے۔
جیسا کہ آج کل طلاق کے واقعات میں کافی تیزی آ رہی ہے وجہ وہ بے صبر پن ہے۔
کیونکہ آج کی مائیں اپنی بیٹوں کو سکھاتی نہیں عزت و احترام کرنا۔
بیٹی کی زندگی کامیاب بنانے کےلئے ماں کو ایک نیک مثال پیش کرنی چاہیے۔
جب بیٹی سمجھ دار ہو جائے اور اس کی شادی کی منزل قریب آئے تو اچھے سے سمجھائے کہ خاوند اور اس کے والدین کا ادب مثال اپنے والدین کرے اور ہر حال میں ان کی مرضی اول رکھے خواہ دکھ ہو یا تکلیف صبر و تحمل سے کام لے۔
اسلام لڑکیوں کی اچھی تعلیم و تربیت کا حکم دیتا ہے۔
رسول اللہ ص نے فرمایا" جس کی دو یا تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ انہیں آداب سکھائے، ان کی اچھی تعلیم و تربیت کرے، ان کی شادی کرے تو اسے جنت ملے گی۔
بیٹیوں کی تربیت ایسے کریں جسے کسی محل میں رہ رہی ہیں۔
اور آپ نے دیکھا کہ شہزادیاں باحیا لباس اور باادب تربیت کی مالک ہوتی ہیں
انہیں محرم ، نامحرم کا فرق بتائیں۔
انہیں بتائیں کہ حضرت بی بی فاطمہ ع کیسے خود کو ڈھانپ کے رکھتی تھی۔
بچپن کی تربیت گیلی مٹی کی طرح ہوتی ہے۔
اس سے جو چاہے بنا لیں۔
جو بچپن سے سکھا ہو گا وہی قبر تک ساتھ جائے گا۔
اولاد سیکھتی ہے ماں باپ سے
تربیت ظاہر ہوتی ہے کردار سے
مزید پڑھیں





