سہرا نگاری ،تحریر صغیر جعفری
نقطہ نظر
مصنف:
سہرا نگاری ،تحریر صغیر جعفری
شادی بیاہ کی رسمیں کسی نہ کسی صورت میں ابتدائے حیات سے چلی آ رہی ہیں۔
ان رسوم میں دولہے،( پشتو میں زوم،مردانہ ھلک ) کے سر پر سہرا سجانا بھی ہماری روایات کا لازمی حصہ رہا ہے۔
سجاوٹ کے لئے سہرے میں سنہری تاروں، موتیے کے پھولوں اور آج کل کرنسی نوٹوں کو پرویا جاتا ہے۔
ادبی اعتبار سے سہرا نگاری کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ خطابیہ انداز میں جو تہنیتی نظم بالعموم قصیدہ کی ہئیت میں لکھی جاتی ہے اور عام طور پر اس کی ردیف ؛ سہرا ؛ پر رکھی جاتی ہے جسے سہرا نگاری کہا جاتا ہے۔
سہرا نگاری میں جزئیات و رشتہ داریوں پر گہری نظر رکھی جاتی ہے۔ سہرا نگاری ایک خارجی طرز اظہار ہے اس میں جزئیات، ربط و تسلسل، ترنم، روانی ، خارجیت عصری رحجانات اور دعا کے عناصر شامل ہوتے ہیں
سہرا کسی قادر الکلام شاعر کے مشاہدے اور فکر پر مبنی ہوتا ہے
یہ خالصتا" محبت و اپنائیت کے اظہار کا مظہر ہوتا ہے
اردو ادب میں سہرا نگاری کو باقاعدہ صنف کا درجہ تو نہیں ملا مگر اس کی مقبولیت میں کبھی بھی کمی واقع نہیں ہوئی
ہے اور یہ آج تک جاری ہے
زمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو سہرا نگاری کی روایت مرزا غالب سے شروع ہوتی ہے۔ شاہوں کا قرب حاصل کرنے کے لئے قصائد لکھے جاتے تھے۔قصیدے کے اجزاء ترکیبی میں تان حسن طلب اور دعا پر ٹوٹتی ہے جبکہ سہرا نگاری میں اپنائیت اور دعا کے پہلو ہی غالب رہتے ہیں
امکان ہے کہ مرزا غالب سے پہلے بھی سہرے لکھے جاتے ہوں گے مگر ان کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ملتا۔
مرزا غالب نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا جواں بخت کا سہرا لکھا اس سہرے میں غالب کا منفرد اسلوب اپنی پرشکوہ جھلک کے ساتھ موجود ہے
** خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر پر سہرا
باندھ شہزادے جواں بخت کے سر پر سہرا
کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے
ہے تیرے حسن دل افروز کا زیور سہرا
نائو بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی
ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بھی بڑھ جائے
رہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا
ہم سخن ہیں غالب کے طرفدار نہیں
دیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بڑھ کر سہرا
ابراہیم ذوق نے بھی غالب کے اس سہرے کے بعد جواب آں غزل کے طور پر سہرا لکھا۔مگر ذوق اپنے اشعار میں غالب جیسا حسن تاثیر پیدا نہیں کر سکے
در خوش آب مضامین سے بنا کر لایا۔ واسطے تیرے ترا ذوق ثنا گر سہرا
جس کو دعوی' ہو سخن کا یہ سنا دے اس کو
دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخن ور سہرا
غالب کے اشعار کے مقابل دیکھا جائے تو ذوق کے ہاں تعقید قبیح اور غیر وقوعی چیزیں نظر آتی ہیں
غالب و ذوق سے لے کر آج تک بےشمار شعراء نے سہرا نگاری میں اپنے منفرد اسلوب کے ساتھ کمال دکھایا ہے مگر طوالت کے خوف سے اسی پر اکتفا کرتے ہوئے سید ضمیر جعفری کے لکھے ہوئے میرے سہرے پر اختتام کر رہا ہوں۔۔۔۔
2 سہرا نگاری گزشتہ سے پیوستہ
اب آئیں میرے سہرے کی طرف
نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد یہی محسوس ہوتا ہے کہ کل کی بات ہے جب 1973ء کے دسمبر کی 26 تاریخ کو میری شادی ہوئی۔
مشہور شاعر، مزاح نگار، نثر نگار، سید ضمیر جعفری صاحب جو کہ میرے چچا بھی ہیں انہوں نے میرا سہرا لکھا جو کہ خاصا طویل ہے۔اختصار کے ساتھ صرف تین اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں کہ کس قدر نفیس و نستعلیق انداز میں میرے پیاروں کے اسماء مبارکہ کو اس سہرے میں کس خوبصورتی کے ساتھ منطبق فرمایا ہے
سید ضمیر جعفری صاحب نے
میرے والد صاحب سید فضل الرحمن شاہ جعفری کو انہوں نے * رب کا فضل عمیم* کہا
۔بچیاں اللہ تعالٰی کی رحمت ہوتی ہیں تو میری بیوی جو میرے چچا جان کی بیٹی ہیں ان کے والد یعنی میرے سسر سید عبدالرحیم شاہ جعفری کو انہوں نے * رحمت الرحیم * لکھا
۔ میرے دادا جان سید ولایت شاہ صاحب جو سید ضمیر جعفری کے استاد بھی تھے۔انہیں سید ضمیر جعفری مرحوم نے * شاہ ولایت * کا لقب دیا۔ملاحظہ فرمائیں سید ضمیر جعفری کے لکھے ہوئے میرے سہرے کے تین اشعار
دل نے لکھا صغیر کا سہرا
میرے اپنے ضمیر کا سہرا
رب کے فضل عمیم کا سہرا
رحمت الرحیم کا سہرا
یہ سہرا ہے خیر و برکت کا
اس پر سایہ ہے شاہ ولایت کا
مزید پڑھیں





