اقوام متحدہ اور امریکہ پر صیہونی لابی کا گہرا اور مؤثر اثرورسوخ

امریکہ کی خارجہ پالیسی اور اقوامِ متحدہ کے بعض فیصلوں پر صیہونی لابی اور پرو-اسرائیل تنظیموں کا ایک گہرا اور مؤثر اثرورسوخ پایا جاتا ہے-
روسی میڈیا کے مطابق حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ولادیمیر پیوٹن آئی سی سی (ICC) کے وارنٹِ گرفتاری کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب نہیں کر سکے، لیکن بنجمن نیتن یاہو آئی سی سی کے وارنٹِ گرفتاری کے باوجود اقوامِ متحدہ میں خطاب کر سکتے ہیں! اقوامِ متحدہ اور امریکہ پر صیہونی لابی کا گہرا کنٹرول ہے-
ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے لیے ’دی ہیگ‘ (عالمی عدالت) کے دروازے کھلنے کے بجائے، اقوام متحدہ کے مائیکروفون کھولے جا رہے ہیںمجب بین الاقوامی پلیٹ فارم انصاف سے فرار کا ذریعہ بن جائے، تو سمجھ لیجیے کہ بین الاقوامی نظام اپنی اخلاقی دیوالیہ پن کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکا ہےٓ
ناقدین اور سیاسی محققین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں موجود صیہونی تنظیمیں (جیسے امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی - AIPAC) مالی امداد اور انتخابی مہمات کے ذریعے امریکی اراکینِ کانگریس اور صدارتی امیدواروں کی پالیسیوں کو متاثر کرتی ہیں ان کا مؤقف ہے کہ اس اثر و رسوخ کی وجہ سے واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں زیادہ تر اسرائیل کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف قرا ردادوں کے خلاف امریکہ کا بار بار ویٹو کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی ادارے کے فیصلے بڑ ی طاقتوں کےمفادات سے جڑے ہیں، ناقدین کا الزام ہےکہ صیہونی لابی سفارتی دباؤ کےذریعے اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے خلاف تنقید یا پابندیوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے-
مزید پڑھیں




