نجکاری کے بعد بھی قومی اثاثوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے، سحر کامران

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور سینئر رہنما سحر کامران نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں نجکاری کے عمل کو شفاف، مسابقتی اور مارکیٹ کی بنیاد پر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سحر کامران نے اپنی ایکس پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے نجکاری کے عمل میں اثاثوں کی مناسب قدر بندی اور ریزرو پرائس کے تعین، نجکاری کے بعد مؤثر ریگولیشن، نیپرا کی نگرانی اور باقاعدگی سے مالی و کارکردگی کے آڈٹ کی ضرورت پر زور دیا۔پی آئی اے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے ادارے میں لگائے گئے 80 ارب روپے کی حیثیت کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے وزارت سے مطالبہ کیا کہ نئے مالکان کی معاہدے کے تحت ذمہ داریوں کی نگرانی کے لیے مؤثر مانیٹرنگ میکنزم وضع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس میکنزم کے تحت نئے مالکان کی سرمایہ کاری کے وعدوں، سروس کے معیار، فضائی بیڑے کی جدید کاری اور ملازمین کے تحفظ سے متعلق اقدامات کی نگرانی کی جائے اور قائمہ کمیٹی کو باقاعدگی سے رپورٹس پیش کی جائیں۔سحر کامران نے کہا کہ قومی اثاثوں کی نجکاری کے بعد بھی شفافیت برقرار رہنی چاہیے، شفافیت صرف بولی کے مرحلے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
اجلاس میں پوسٹل لائف انشورنس کے زیر التوا کلیمز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سحر کامران کے مطابق جون 2026 تک پوسٹل لائف انشورنس کی واجبات کی مالیت 15.5 ارب روپے ہے، جس سے تقریباً 55 ہزار 450 پالیسی ہولڈرز متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اضافی 8 ارب 45 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 3 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، جس کے باعث پالیسی ہولڈرز اپنے جائز کلیمز سے محروم ہیں۔
ان کے مطابق کلیمز کی ادائیگی وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز کی فراہمی سے مشروط ہے۔ قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ دسمبر 2026 میں سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے اضافی فنڈز فراہم کرنے کی تجویز پر غور کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ کلیمز، بالخصوص مستحق اور کمزور پالیسی ہولڈرز کے دعوے، نمٹائے جا سکیں۔





