Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

صوبے میں دہشت گردی ہو اور حکام جلسوں میں مصروف تو ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیرہو جاتا ہے

kpk-police

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال تشویش ناک ہے؛ دہشت گردی کے واقعات عوام کے جان و مال کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔


صوبے میں قانون کی حکمرانی اور ریاستی رٹ کو مؤثر طور پر بحال کرنا ناگزیر ہے دہشت گردوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور قومی سلامتی کے لیے مربوط حکمتِ عملی ضروری ہے,منتخب نمائندوں کی اولین ذمہ داری عوام کا تحفظ ہے، نہ کہ ذاتی سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دینا۔


جب صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دے، تو اس کی کارکردگی اور آئینی ذمہ داریوں کا سنجیدہ جائزہ ضروری ہو جاتا ہے وزیرِاعلیٰ کی ترجیحات پر سوال ہے، صوبے میں دہشت گردی جاری ہو اور وہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیں تو ایمر جنسی جیسے اقدام ناگزیر ہو جاتے ہیں-


دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملے پر  حساس اداروں کی رپورٹس کے بعد وفاقی کابینہ اجلاس میں مختلف تجاویز  پیش کی گئیں۔ 


اس حوالے سے تجویز دی گئی کہ سکیورٹی صورتحال کےتناظرمیں آرٹیکل232کےتحت پورے صوبے میں ایمرجنسی لگائی جائے، بےامنی کا شکار خیبرپختونخوا کے 12اضلاع کے انتظامی امور کا معاملہ الگ سے دیکھا جائے، سابق فاٹاکے 8 اور ڈی آئی خان، لکی مروت ،کر ک،کوہاٹ اضلاع کا کنٹرول وفاق کے پاس ہوگا۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنرفیصل کریم کنڈی کو ہی صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے اختیار سونپے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ وفاقی کابینہ وزارت قانون، وزارت داخلہ کی تجاویزکی روشنی میں فیصلوں کی منظوری دےگی۔