بی آر ٹی یلو لائن کرپشن کیس: سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر کی ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری

سندھ ہائیکورٹ نے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ییلو لائن منصوبے میں ساڑھے 8 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے کیس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواستِ ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں تفتیش کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے قرار دیا کہ کیس کی تحقیق میں کئی نقائص چھوڑے گئے ہیں اور بظاہر چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو انکوائری یا تفتیش کا قانونی اختیار حاصل ہی نہیں تھا۔ فیصلے کے مطابق اگر مناسب قانونی طریقہ کار اختیار کیا جاتا تو کیس کے نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔
عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار پر مالی غبن یا فنڈز کی خرد برد کا کوئی براہِ راست الزام نہیں ہے، بلکہ ریکارڈ پر واحد الزام مناسب نگرانی کے بغیر فنڈز کا اجرا ہے استغاثہ بھی الزام کی قانونی نوعیت واضح کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ زیرِ تفتیش رقم سرکاری اور ڈونر ایجنسیو ں کی ہے,بادی النظر میں یہ ضمانت مسترد کرنے کا کیس نہیں بنتا کیونکہ ملزم پر عائد کردہ الزامات قابلِ ضمانت جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
تفتیشی افسر ملزم سے متعلق کافی مواد اکٹھا کر چکا ہے، اس لیے مزید تفتیش کے لیے ملزم کی حراست ضروری نہیں ہے,درخواست گزار کے وکیل نے بینک گارنٹیوں سے متعلق دستاویزات پیش کیں، تاہم قانون کے مطابق ضمانت کے مرحلے پر مقدمے کی گہری جانچ یا تفصیلی جائزہ مطلوب نہیں ہوتا, اگر متعلقہ حکام چاہیں تو ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کروانے کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں





