Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خود علاجی سے علاج بہتر ہے ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

انسانی جسم قدرت کا ایک ایسا حساس اور پیچیدہ شاہکار ہے جس کے اندر اربوں خلیات اور درجنوں نظام باہم مربوط ہو کر کام کرتے ہیں۔ جب بھی اس نظم و ضبط میں ذرا سا خلل واقع ہوتا ہے، تو جسم علامات کی صورت میں مدد کی پکار بلند کرتا ہے۔ کبھی یہ پکار سر کے ہلکے سے درد کی شکل میں ہوتی ہے، کبھی سینے کی گھٹن، کبھی معدے کی جلن اور کبھی ہلکی سی تھکن یا بے چینی کی صورت میں۔ المیہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں شعور، آگہی اور معلومات کے سیلاب کے باوجود انسان نے اس پکار کو سمجھنے کے بجائے اسے خاموش کرنے کا آسان راستہ چن لیا ہے۔ ہمارے معاشرے کا مزاج کچھ یوں بن چکا ہے کہ تکلیف نمودار ہوتے ہی ہم معالج کے بجائے گھر کے کسی دراز میں بچی ہوئی گولیوں، محلے کے پنسار، میڈیکل اسٹور کے ملازم کے مشورے یا سوشل میڈیا کے ٹوٹکوں پر بھروسہ کر بیٹھتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کو ہم سہولت، کفایت شعاری یا عقل مندی کا نام دیتے ہیں، مگر درحقیقت یہ 'خود علاجی' کا وہ خاموش راستہ ہے جو بظاہر راحت کا مژدہ سناتا ہے مگر اس کا انجام اکثر بڑی معذوری، پیچیدہ بیماری یا موت کے دہانے پر جا کر ہوتا ہے۔

یہ مغالطہ عام ہے کہ خود علاجی کے بھیانک نتائج صرف کیمیائی یا ایلوپیتھک ادویات کے غلط استعمال سے ہی جنم لیتے ہیں۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے؛ طریقہ علاج خواہ کوئی بھی ہو، جب تک وہ تشخیص اور علم کے بغیر اپنایا جائے گا، وہ زہرِ قاتل ہی بابت ہوگا۔ ایلوپیتھک کے میدان میں درد کی عام گولیاں یا پین کلرز بلا ضرورت اور بغیر ناپ تول کے نگلتے رہنے سے گردوں کا سکڑ جانا اور معدے میں ناسور بن جانا روز کا معمول بن چکا ہے۔ ادھوری مقدار میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال جسم کے اندر ایسے جراثیم کو جنم دے رہا ہے جن پر دنیا کی طاقتور ترین ادویات بے اثر ہو چکی ہیں، اور معمولی سا نمونیا یا پیشاب کا انفیکشن مریض کو لقمہ اجل بنا دیتا ہے۔ لیکن کیا روایتی، جڑی بوٹیوں یا ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں خود ساختہ فیصلے محفوظ ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہومیوپیتھی جیسے لطیف طریقہ علاج میں بھی بغیر انفرادیت اور عوارض کے توازن کو سمجھے دوا کی غلط طاقت یا غلط انتخاب مرض کی بیرونی علامات کو دبا دیتا ہے، جس سے اندرونی حیاتی قوت مفلوج ہو کر بیماری کو اعصابی یا جسمانی سطح پر مستقل بگاڑ کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ اسی طرح جڑی بوٹیوں، حکیمی معجونوں اور دیسی قہووں کو بے ضرر سمجھ کر مہینوں تک استعمال کرنا اکثر جگر کے فیل ہونے یا بلڈ پریشر کے شدید بگاڑ کا سبب بنتا ہے، کیونکہ خالص سے خالص قدرتی جڑی بوٹی بھی اپنے اندر مخصوص کیمیائی اور مزاجی خواص رکھتی ہے جس کا غلط وقت پر استعمال جسمانی اعضاء کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

خود علاجی دراصل بیماری کا خاتمہ نہیں کرتی بلکہ اس کی نشانیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ جب کوئی شخص سینے یا معدے کی شدید جلن پر اینٹی ایسڈ یا سوڈا پی کر تسلی پا لیتا ہے، تو وہ انجانے میں دل کے دورے کی ابتدائی لہر کو دبا رہا ہوتا ہے، جو چند گھنٹوں بعد اچانک حرکتِ قلب بند ہونے کی صورت میں موت کا پروانہ بن کر سامنے آتی ہے۔ مسلسل سر درد کو عام تھکن یا گیس کا غبار سمجھ کر سکون آور ادویات سے دبائے رکھنا کسی اندرونی رسولی یا خاموش برین ہیمرج کے راستے ہموار کر دیتا ہے۔ پیٹ کے نچلے حصے کے درد کو عارضی مروڑ جان کر درد کش سیرپ پینا اپینڈکس کو پھٹنے کا موقع دیتا ہے، جس کا زہر خون میں پھیلتے ہی چند ساعتوں میں زندگی کا چراغ گُل کر دیتا ہے۔ ہم علامت کو مٹا کر سمجھتے ہیں کہ شفا مل گئی، حالانکہ ہم نے اس خطرے کی گھنٹی کا تار کاٹ دیا ہوتا ہے جو مکان میں لگی آگ کی خبر دے رہی تھی۔

یہاں بنیادی سوال یہ جنم لیتا ہے کہ خود علاجی کیوں نہیں اور باقاعدہ علاج ہی کیوں بہتر ہے؟ اس کا جواب 'تشخیص' کے مقدس مفہوم میں پوشیدہ ہے۔ ایک مستند معالج صرف علامت کا نام سن کر دوا تجویز نہیں کرتا، بلکہ وہ مریض کی عمر، اس کی پرانی بیماریوں، موروثی اثرات، طرزِ زندگی، اعضاء کی کارکردگی اور مرض کی بنیادی جڑ کا سائنسی و تشخیصی مشاہدہ کرتا ہے۔ علاج ایک منظم عمل ہے جس میں دوا کی خوراک، اس کا وقت، اس کے سائیڈ ایفیکٹس کی نگرانی اور مریض کی قوتِ مدافعت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ جب ہم بغیر کسی نگرانی کے خود ڈاکٹر بنتے ہیں، تو ہم درحقیقت ایک اندھے مسافر کی طرح بارود کے ڈھیر پر دیا سلائی جلا رہے ہوتے ہیں۔ انسانی جان اتنی سستی یا غیر اہم نہیں ہے کہ اسے چند لمحوں کی سستی یا چند پیسوں کی بچت کی خاطر غیر مستند تجربات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔

معاشرتی سطح پر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس غیر سنجیدہ رویے کا بائیکاٹ کریں۔ چھوٹی چھوٹی تکالیف پر اپنے یا دوسروں کے لیے معالج بننے کا خبط ترک کرنا ہوگا۔ یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ شفا دوا کی گولی میں نہیں، درست علم، باقاعدہ تشخیص اور معالج کی دیانت دارانہ رہنمائی میں مضمر ہے۔ بیماری خواہ معمولی ہو یا گہری، اس کے حل کے لیے مستند طبیب کی دہلیز پر دستک دینا ہی دانشمندی ہے، کیونکہ دوا بیماری کو مٹانے کے لیے بنائی گئی ہے، نا سمجھی میں انسان کو مٹانے کے لیے نہیں۔ خود علاجی وقتی خوش فہمی اور دائمی پچھتاوا ہے، جبکہ باضابطہ علاج زندگی کی بقا کی واحد محفوظ ضمانت ہے۔