ایران جنگ، امریکی ایوانِ نمائندگان میں فوج واپس بلانے کی قرارداد منظور

امریکی ایوان نمائندگان نے جنگی اختیارات سے متعلق ایک قرارداد منظور کرلی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں امریکی افواج کی شرکت ختم کرنے اور انہیں واپس بلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ قرارداد 220 ووٹوں کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ 7 ریپبلکن ارکان نے اپنی جماعت سے ہٹ کر قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ قرارداد ڈیموکریٹ رکنِ ایوان نمائندگان سیٹھ مولٹن نے پیش کی تھی۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی حملے شروع کیے جانے کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے صدر کے جنگی اختیارات پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک رکن اور ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے رینکنگ رکن گریگوری میکس نے کہا کہ تقریباً 200 روز کی فوجی شمولیت کے باوجود انتظامیہ اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ اس دوران حکومت کے اربوں ڈالر خرچ ہوئے اور معاشی مشکلات بھی پیدا ہوئیں۔ گریگوری میکس نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے یہ ایوان کی جانب سے منظور کی جانے والی تیسری وار پاورز قرارداد ہے۔ ان کے مطابق صدر کو جنگ ختم کرکے حقیقی سفارت کار مقرر کرنے چاہئیں اور کثیرالجہتی سفارتی حل کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملے شروع کیے جانے کے بعد سے اس تنازع میں 19 امریکی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 750 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران گیس کی قیمتوں اور رہن کے قرضوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا، جبکہ اس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا اور امریکی انتظامیہ اپنے تزویراتی اہداف حاصل نہیں کرسکی۔
مزید پڑھیں





