ادب کی دولت انسانیت کماتی ہے،تحریر: ظفر اقبال ظفر
نقطہ نظر
انسانی قدروں سے غافل معاشرے میں درد کے ہاتھ اُٹھاکر کئی بار یہ دُعا مانگی ہے کہ اے خالق کائنات یا حالات بدل دے یا خیالات بدل دے، اس دنیااور میرے مزاج کاتضاد مجھے سکون سے جینے بھی نہیں دیتا۔ دنیااپنے ہم مزاج لوگوں کوہی راس آتی ہے اورمجھے فکر انسانی کی لت لگی ہے۔جسمانی طور پر زندہ، ضمیر کے اعتبار سے مردہ لوگ، اچھائی برائی کے ملے جھلے مردہ،نیم،مردہ لوگوں کی بھیڑ جو مال ودولت کے بتوں کی پجاری جن کاعقیدہ ہے کہ پیسا ہو چاہیے جیسا ہو۔
میں یہ شرک نہیں کر سکتا،میں گنہگار ہو سکتا ہوں مگر منافق نہیں،میں نے اپنے ایمان کو ابہام زدہ دین پیش کرنے والی مذہبی جماعتوں کے کم علم نمائندوں کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننے دیا، نہ ضمیر کی مسجد کا امام فرقہ و جماعت پرست بننے دئیے۔یار صاف صاف کہوں تو سچ یہ ہے کہ میں نے خدا کے ساتھ مخلص اور خدا کے بندوں کے ساتھ منافق لوگوں سے کبھی اظہار یکجہتی نہیں کیا۔بکھرے ہوئے حقائق میں رب تلاش کرنے کی زہنی و قلبی تھاوٹ اُتارنے کے لیے خدا نے کتابوں کے جہان سے وابستہ کردیا۔ میں نے ادب کو احساس کی دعوت دینے والا پایا اور کچھ ہی کتابیں پڑھنے کے بعد پختہ فیصلہ کر لیا کہ آئندہ میرا مسلک بس یہی ہوگاکہ، زندہ رہنے کے لیے لکھو، اور لکھنے کے لیے زندہ رہو۔
میں بھی اس زہنی بیمار بنانے والے حالات و معاشرے میں جینے پر مجبور ہوں مگرہم حالات کی بجائے خیالات بدل کر جینا آسان بنا سکتے ہیں۔اس کے لیے ادب کا لنگر قلم سے بانٹنے کو کاغذ کے دسترخوان پر لفظوں کے برتن میں لزیز خیال پیش کیے جائیں،جو زہن کے معدے میں پہنچتے ہی بیمار رُوح پر شفابخش اثرات ڈالے، لفظوں کے ذائقے اور منظرکشی کے مزے میں قاری کو مد ہوش کرکے خود غرضی کا آپریشن کرنے والے لکھاری معالج ہی تو ہوتے ہیں۔
ہم سسٹم کے گٹر میں اتر کر ناپاک ہو نے کی بجائے باہر بیٹھے لوگوں کا حصہ رہتے ہوئے نظام کی بدبو کا علاج نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے حصے کی خوشبو پھیلانے کی کوشش تو کی جائے۔سیاست،مذہب، قومیت،کی بنیاد پربھٹکے ہوئے لوگوں کی وجہ سے پھیلی نفرتوں کی آگ پر ادب کا ٹھنڈا پانی ڈالا جائے اورنفرت کے مریضوں کو محبت کی دوا دی جائے اس کے لیے ادب کا وسیع مزاج اپنانالازم ہے، کیونکہ ادب۔سیاسی،مذہبی،قوم پرستی کی جنگ لڑنے والوں سے ہتھیار چھین کر انہیں امن و سلامتی کے پھول پیش کرنا سیکھاتا ہے،سب کو فقط انسان سمجھ کر سینے سے لگاتا ہے۔
ظفریاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے قلم و کتاب کا قد بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ادبی محفلوں کے بجھے ہوئے آتش دان بھی روشن کیے۔ ادب کی درسگاہیں، عالم نہیں عارف بناتی ہیں کیونکہ ہر عالم عارف نہیں ہوتا،مگر ہر عارف عالم ہوتا ہے۔فرقہ پرست اپنے نظریے کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں اور ادب سب کو خدا کی تخلیق مان کر کھلی آنکھوں سے قبول کرتا ہے جب خدا نے انسانی اعضاء دیتے وقت کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی تو ہم افضل و کمتر کیوں سمجھیں،ہمارا فرض احترام آدمیت ہی رہے گا،حلانکہ اس احساس نے زمانے بھر کے انسانوں کا درد میرے سینے میں بھر دیا اور حالات و معاملات کی تکلیف دہ صورتحال نے احساس انسانیت میں بہت خاموش اور سنجیدہ کر دیا ہے،اسے قبول کرنا چاہیے کہ قدرتی سنجیدگی میں رہنا پیغمبرانہ صفت ہے،یہ خداکی سکھائی ہوئی صفت ہے اس کو پریشانی یا دُکھی کیفیت سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔
عظمت غربت کے گہواروں میں پیدا ہوتی ہے، اللہ نے کہا بعض لوگوں کو امیر کر دوں تو کافر ہو جائیں اور بعض کو غریب کردوں تو کافر ہو جائیں۔غریب کی شرافت بزدلی دیکھائی دیتی ہے تو بزدل امیر کی طاقت بھی تو اس کا پیسہ ہے۔دولت کی چکی کے گرد گھومنے والے گدھے کی بجائے انسانی قدروں کی راہوں پر سیدھا سیدھا چلنا خدا سے ملاتا ہے۔
کوئی قدرت کی پلیٹ میں رحمت کے پھول آپ کو پیش کرے تو اس کے ہاتھ چومنے کی خواہش مچلتی ہے۔کمزور انسانوں کے مدد کے تناظر میں خدا نے فرمایا کہ تم میں سے کون ہیں جو خدا کو قرض حسنہ دیں؟ آپ کسی مجبور ضرورت مند کو بڑی رازداری کے ساتھ اس کی عزت نفس مجروع کیے بغیر کچھ آسانیوں کا سامان سونپتے ہوئے اس کے ہاتھ ان جملوں سے چوم لیں کہ، مجھے اجر کمانے کا موقع دینے پر آپ کا دل سے شکریہ۔۔۔اور پھر خاموش ہو جائیں۔۔ اس کے لرزتے ہونٹوں اورچمکتی آنکھوں سے ٹپکتے ہوئے آنسوؤں میں جودُعا نکلے اسے فقط الفاظوں کا مجموعہ مت سمجھیں یہ قدرت کی طرف سے انعام کا اعلان ہیں جو خدا کے فرشتے زبان انسان سے کر تے ہیں۔
خدا نے اپنے حقوق معاف کرنے کا اعلان کیا ہے مگر اپنے بندوں کے حقوق نہیں۔ قیامت کے دن اگر کوئی انسان آپ کے خلاف خدا کی عدالت میں کھڑا نہ ہوا تو خدا آپ کو بخش دے گا۔آپ خدا تک پہنچنا چاہتے ہیں تو آسمان کو سیڑھیاں مت لگائیے بلکہ اس کے کسی مجبور ضرورت مند انسان کے دل کا دروازہ کھولیے اور مل لیجئے۔





