Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سرد مہری کی زد میں ہمارا معاشرہ،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

انسانی رشتے، اخلاقی اقدار اور باہمی رواداری کسی بھی زندہ معاشرے کا طرۂ امتیاز ہوتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی معاشرے دنیا میں سرخرو ہوئے جنہوں نے مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی اخلاقی حدود کی پاسداری کی۔ مگر افسوس کہ آج کا دورِ حاضر ایک ایسی بھیانک دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جہاں انسانیت کا درد دم توڑ رہا ہے اور اس کی جگہ بے حسی اور نفسانفسی نے لے لی ہے۔ ہم رفتہ رفتہ ایک ایسی روش پر چل پڑے ہیں جہاں ہر شخص صرف اپنی ذات کے خول میں بند ہو کر رہ گیا ہے اور دوسروں کی تکلیف سے بالکل بے نیاز ہو چکا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہمسائے کو ہمسائے کی خبر نہیں ہوتی اور راہ چلتے کسی مظلوم کی دادرسی کرنے کے بجائے، لوگ دور کھڑے ہو کر اس کی بے بسی کا تماشہ دیکھتے ہیں۔ یہ خطرناک رجحان ہماری مجموعی معاشرتی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔اس بڑھتی ہوئی سرد مہری کی بنیادی وجہ مادی دوڑ، اخلاقی گراوٹ اور غیر یقینی حالات ہیں جنہوں نے انسان کو اندھا کر دیا ہے۔ آج کے انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ بن چکا ہے کہ وہ راتوں رات امیر ہونا چاہتا ہے، خواہ اس کے لیے اسے دوسروں کے حقوق ہی کیوں نہ پامال کرنے پڑیں۔ اس اندھی دوڑ میں دوسروں کے جذبات، دکھ اور تکالیف کے لیے اب دلوں میں کوئی جگہ باقی نہیں بچی۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نئی نسل کی تربیت سے اب ایک دوسرے کی مدد کرنے کا درس غائب ہوتا جا رہا ہے۔ ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں؛ ہم اپنے بچوں کو اچھے انسان بنانے کے بجائے صرف پیسہ کمانے والی مشینیں بنانے میں مگن ہیں۔ اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا، تو بہت جلد ہم ایک زندہ معاشرہ نہیں بلکہ صرف مادی مفادات کے اسیر انسانوں کا ایک ایسا ہجوم بن کر رہ جائیں گے جس میں کوئی کسی کا سچا ہمدرد نہیں ہوگا۔ لہٰذا، اس بیمار ذہنیت کو بدلنا اب ہماری اخلاقی ضرورت بن چکا ہے۔اس سنگین مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ ہم سب مل کر انفرادی اور اجتماعی سطح پر فوری جدوجہد کا آغاز کریں۔ سب سے پہلے گھروں کے اندر اخلاقی تربیت کا نظام درست کرنا ہوگا، جہاں والدین اپنے بچوں کو صرف دنیاوی کامیابی کے پیچھے بھگانے کے بجائے انہیں انسانیت کا احترام اور ہمدردی کا عملی درس دیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو سکھانا ہوگا کہ اصل کامیابی کسی گرتے ہوئے کو سہارا دینا ہے۔ دوسرے مرحلے پر، تعلیمی اداروں میں اساتذہ پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف کتابی اسباق نہ پڑھائیں، بلکہ طلبہ کی سیرت سازی اور ان میں معاشرتی ذمہ داری کا احساس اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔ علم کا اصل مقصد انسان کو بااخلاق اور حساس بنانا ہے۔اس کے ساتھ ہی، ہمارے ذرائع ابلاغ کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اخبارات اور دیگر ذرائع کو چاہیے کہ وہ ایسے موضوعات کو سامنے لائیں جو معاشرے میں باہمی محبت اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی تحریک پیدا کریں۔ انفرادی سطح پر ہم میں سے ہر ایک کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے اردگرد بسنے والے لوگوں کی تکالیف سے بے خبر نہیں رہیں گے۔ اگر ہمارے سامنے کوئی مصیبت میں ہو، تو ہمیں تماشائی بننے کے بجائے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامنا ہوگا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں اور اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ معاشرے کو ایک خوبصورت گلدستہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر پھول ایک دوسرے کے ساتھ جڑا رہے۔ ہمیں نفسانفسی کی اس دلدل سے نکل کر ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا؛ ورنہ یاد رکھیے، تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL