اے ستمبر!کہ نہ آیا کر تو
تیرے آنے سے کچھ لوگ یاد بہت آتے ہیں
بچھڑ گئے ہیں جو مجھ سے اس جہاں میں
وہ جانے والے مہرباں یاد بہت آتے ہیں
بھولنا ان کو تو اس حیات میں ممکن نہیں
مگر تیرے آنے سے
یادیں بکھر سی جاتی ہیں
آوازیں انکی ہر سو
پھر سے آنے لگتی ہیں
خوشبو ان کی ہر طرف
مہکنے سی لگتی ہے
تجھے میں کیسے کہوں یہ سب
فقط اتنی التجا ہے تم سے
اے ستمبر!کہ نہ آیا کر تو
تیرے آنے سے کچھ لوگ یاد بہت آتے ہیں
مزید پڑھیں

بدچلنی، طلاق اور بچے،تحریر:خالد شہزاد
15 گھنٹے پہلے

عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف
15 گھنٹے پہلے


تبصرہ کتب،الف سے اے آئی تک،تحریر: مبراء عبدالقیوم
15 گھنٹے پہلے

افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی
15 گھنٹے پہلے

سفید جھوٹ، سیاہ حقائق،تحریر: اقراء علوی
15 گھنٹے پہلے
