کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر جھوٹ کے واقعی رنگ ہوتے تو شاید لوگ اس سے اتنی آسانی سے محبت نہ کرتے مگر جھوٹ نے خود کو بہت چالاکی سے ”سفید“ کا نام دے دیا ہے، جیسے وہ کوئی بے ضرر چیز ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ روزانہ نہ چاہتے ہوئے بھی سفید جھوٹ بول جاتے ہیں اور پھر خود کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتے ہیں کہ ”اس سے کسی کا کیا نقصان ہوا؟“ لیکن میں جتنا زندگی کو دیکھتی اور لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں، اتنا ہی اس بات پر یقین بڑھتا جاتا ہے کہ ہر جھوٹ، چاہے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اپنے پیچھے کسی نہ کسی سیاہ حقیقت کو ضرور چھوڑ جاتا ہے۔
میں نے محسوس کیا ہے کہ سفید جھوٹ ہماری روزمرہ زندگی کا اتنا معمول بن چکا ہے کہ اب ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ایک دوست فون کرے تو ہم کہہ دیتے ہیں: ”میں راستے میں ہوں“، حالانکہ ہم ابھی گھر سے بھی نہیں نکلے ہوتے۔ کوئی پوچھ لے۔ ”کیسے ہو؟“ تو جواب آتا ہے، ”بالکل ٹھیک ہوں“، جب کہ اندر ہی اندر انسان ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ کبھی ہم کسی دعوت میں نہ جانے کے لیے بہانہ بنا لیتے ہیں، کبھی کسی کا دل رکھنے کے لیے ایسی تعریف کر دیتے ہیں جس پر خود بھی یقین نہیں ہوتا۔ یہ سب ہمیں معمولی لگتا ہے مگر یہی معمولی جھوٹ آہستہ آہستہ ہماری شخصیت کا حصہ بننے لگتے ہیں۔
دوستی کا رشتہ اعتماد پر قائم ہوتا ہے لیکن افسوس کہ سب سے زیادہ سفید جھوٹ بھی اکثر دوستوں کے درمیان ہی بولے جاتے ہیں۔ کبھی ملاقات سے بچنے کے لیے، کبھی ناراضی چھپانے کے لیے، کبھی کسی اور کو ترجیح دینے کے باوجود مصروفیت کا بہانہ بنا دیا جاتا ہے۔ شاید! اس وقت ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے معاملہ سنبھال لیا مگر حقیقت یہ ہے کہ سامنے والا اکثر الفاظ سے زیادہ رویّے کو سمجھ لیتا ہے۔ اعتماد جب کمزور ہونے لگتا ہے تو دوستی کی مضبوط دیوار بھی آہستہ آہستہ گرنے لگتی ہے۔
گھروں میں بھی یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ والدین بچوں سے بعض حقیقتیں چھپا لیتے ہیں اور بچے اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سفید جھوٹ بول دیتے ہیں۔ بہن بھائی ایک دوسرے سے، میاں بیوی آپس میں، حتیٰ کہ کبھی انسان اپنے آپ سے بھی سچ نہیں بولتا۔ وہ اپنی کمزوریوں کو حالات کا نام دیتا ہے، اپنی غلطیوں کو مجبوری کہہ دیتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کے لیے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا دیتا ہے۔ میرے نزدیک خود سے بولا جانے والا جھوٹ سب سے خطرناک جھوٹ ہے کیونکہ جب انسان اپنے ضمیر کو خاموش کر دیتا ہے تو پھر اسے سچ سنائی دینا بھی بند ہو جاتا ہے۔
آج سوشل میڈیا نے بھی سفید جھوٹ کو ایک نیا لباس پہنا دیا ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت ترین رخ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے۔ کامیابیاں نمایاں ہوتی ہیں، ناکامیاں چھپ جاتی ہیں۔ مسکراہٹیں نظر آتی ہیں، آنسو نہیں۔ دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ سب خوش ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی اپنی آزمائشوں سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس بناوٹی دنیا نے ہمیں حقیقت سے زیادہ تصویر کا اسیر بنا دیا ہے۔
بطور لکھاری میں نے ہمیشہ یہی محسوس کیا ہے کہ قلم صرف کہانیاں نہیں لکھتا بلکہ معاشرے کا آئینہ بھی بنتا ہے۔ جب میں لوگوں کے رویّوں پر غور کرتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم سچ سے اس لیے نہیں بھاگتے کہ وہ غلط ہے بلکہ اس لیے کہ کبھی کبھی وہ ہمیں ہماری اصل شکل دکھا دیتا ہے۔ جھوٹ آسان راستہ دکھاتا ہے جبکہ سچ انسان سے حوصلہ مانگتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سچ سخت لہجے میں نہیں بولا جاتا اگر نیت صاف ہو اور الفاظ میں نرمی ہو تو سچ بھی دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ چاہے کتنی ہی خوبصورتی سے بولا جائے، اس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ ڈھ جاتی ہے اور اس کے نیچے چھپی حقیقت سب کے سامنے آ جاتی ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں یہ سیکھا ہے کہ عزت، اعتماد اور محبت خریدے نہیں جا سکتے، یہ صرف سچائی سے کمائے جاتے ہیں۔ جو انسان سچ بولنے کی ہمت رکھتا ہے، وہ وقتی مشکل میں ضرور آ سکتا ہے مگر آخرکار وہی سرخرو ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سفید جھوٹ وقتی سکون تو دے دیتا ہے لیکن بعد میں وہی سکون بے چینی میں بدل جاتا ہے۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے دوسرا جھوٹ، پھر تیسرا،ل اور پھر ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کا اختتام اکثر پچھتاوے پر ہوتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے دیانت دار ہوں، ہمارے دوست ہم پر اعتماد کریں، ہمارے رشتے مضبوط رہیں اور ہمارا معاشرہ اخلاقی بنیادوں پر کھڑا ہو، تو ہمیں اپنی روزمرہ زندگی کے ان چھوٹے چھوٹے سفید جھوٹوں کا محاسبہ کرنا ہوگا جنہیں ہم معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اصلاح ہمیشہ اپنے آپ سے شروع ہوتی ہے۔ جب ہم اپنی زبان کو سچ کا عادی بنا لیں گے تو ہمارا کردار بھی مضبوط ہوگا اور ہمارے تعلقات بھی۔
آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ سفید جھوٹ کبھی حقیقت کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ چند لمحوں کے لیے سچ پر پردہ ضرور ڈال دیتا ہے مگر وقت وہ ہوا ہے جو ہر پردہ ہٹا دیتا ہے۔ تب انسان کے سامنے صرف دو چیزیں رہ جاتی ہیں: ایک اس کا کردار اور دوسرا اس کے اعمال کی سچائی۔ میری نظر میں یہی وہ لمحہ ہے جہاں سفید جھوٹ اپنا رنگ کھو دیتا ہے اور اس کے پیچھے چھپے سیاہ حقائق پوری شدت کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم وقتی آسانی کے بجائے دائمی سچائی کا انتخاب کریں کیونکہ سچ شاید آزماتا ہے مگر آخرکار انسان کو سربلند بھی وہی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں

بدچلنی، طلاق اور بچے،تحریر:خالد شہزاد

عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف


تبصرہ کتب،الف سے اے آئی تک،تحریر: مبراء عبدالقیوم

افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی

