Baaghi TV Logo

افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی

safdar bhatti

(یہ مکمل چودہ صفحات کا ناولٹ ہے جن میں سے چار صفحات حاضرِ خدمت ہیں امید ہے پسند آئیں گے)

اوئلِ دسمبر کی خنک سہہ پہر … ابر کےچھوٹے بڑے قطعات آسمان کے وسیع آنگن میں چہل قدمی میں مشغول تھے جو وقتاً فوقتاً ابدی منبعِ ضیاء کو پردے سے ڈھانک کر اہلِ زمین کو آفتاب کی لطیف حدت سے محروم کر دیتے. اور پھر دفعتاً سردی سے ٹھٹھرتے پرندوں پر ترس کھاتے ہوئے ربِّ ذوالجلال اس حجاب کوایک طرف کھینچ کر ناسپاس مخلوق کی شادمانی کاسامان فراہم کر دیتے.

دفتری امور، جن میں قریب ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی اُس کی دلچسپی نہ ہونے کےبرابر تھی، نمٹانے کے بعد جب وہ مسکن پر پہنچا تو اشتہا کے باوجود کھانا موخر کر کے سیدھا کمرے میں آ گیا. دفتری لباس تبدیل کر چکنے کے بعد اُس نے اپنا انتہائی ارزاں موبائل فون قمیص کی سامنے والی جیب میں رکھا اور بھورے رنگ کی اُون سے بنی چادر میں لپٹ کر کمرے کے سامنے والے لان میں رکھے لوہے کے بنچ کی نکڑ میں بیٹھ گیا.

بتیس برس کا نحیف جوان….. جو دور سے دیکھنے والوں کو اپنی لاغر جسامت کے باعث چودہ پندرہ سالہ لڑکا جبکہ قریب والوں کو سر کے آدھے بالوں کی معدومی ، چہرے کی جھریوں اور وقت کے بے رحم تھپیڑوں سے رونما ہونے والی بوسیدگی کے سبب کوئی پنتالیس پچاس برس کا بوڑھا دکھائی دیتا.

وہ لڑکا جوان یا بوڑھا… آپ اب اُسے جس لقب سے بھی پکاریے… لوہے کے اُس پنچ پر بیٹھا لان کے دوسرے کونے میں کھڑے زرد پتوں کے زیور سے آراستہ درختوں کو فسردگی سے دیکھ رہا تھا. کبھی کبھی جب بادلوں کا پردہ سمٹ کر سورج کو دنیائے عالم کی دگرگوں رعنائیوں پر جھانکنے کی اجازت دیتا تو وہ جوان رو بہ قفا ہو کر آفتاب پر بھی نظر کر لیتا.

اچانک اُس نے اپنی جیب میں رکھا رابطے کا جدید آلہ نکالا اور مخصوص حروف میں محفوظ ایک نمبر ملانے لگا. فون بجتے بجتے منقطع ہو گیا اور ” مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہو رہا ” کا اعلان نشر کیا جانے لگا. وہ یہی عمل مسلسل دہرائے جا رہا تھا اور دوسری طرف سے وہی اعلان نشر کیا جا رہا تھا. لگ بھگ پچیس بار کی دلدوز کوشش کے بعد آخرِ کار ایک جانی پہچانی نسوانی آواز نے رکشوں کے شور میں عجلت کے ساتھ ” ہاں جی ” کہا

کہاں ہو ؟
کاملی چوک
کہاں گئی تھی ؟
ابھی گاؤں سے آ رہی ہوں تھوڑی دیر بعد گھر پہنچ جاؤں گی تب فون کرنا”. اور رابطہ منقطع ہو گیا

” جانے کس کے پاس سے آ رہی ہے”؟ اور اسی نوعیت کے دیگر سوالات و خیالات نے اُس کے ذہن کو جہنم کر دیا. مگر اب وہ اس دوزخ کا عادی ہو چکا تھا اور اُن شدت آمیز جذباتی صدمات کو جو نوواردان کو خون رُلا دیا کرتے ہیں خاموشی سے سہنے کا ڈھنگ سیکھ چکا تھا. لیکن وہ اضطراب جو غالباً محبت کی روح ہوتا ہے سے بھلا کون چشم پوشی کر سکتا ہے. ایسی ہی بے چینی نے اُسے دو منٹ بعد دوبارہ فون ملانے پر مجبور کر دیا
” میں ابھی راستے میں ہوں ” دوسری طرف سے قدرے ہانپتی ہوئی آواز اُبھری، ” صبح بہن کو ملنے جانا ہے وہ زچگی کی زد پر ہے اور میرے پاس پیسے ہیں نہیں گھر جا کر صبا سے کہتی ہوں کہ دو ہزار پندرہ سو ادھار دے دے”
” کس جگہ پہنچی ہو”؟

” جس گلی کو انہوں نے نیا بنانے کے لیے اکھاڑ رکھا ہے وہاں، لیکن تمیہں پتا نہیں ہو گا کیونکہ جب سے یہ شروع ہے تم نہیں آئے ہو”

” ٹھیک ہے گھر پہنچ کر صبا سے بات کر لو پھر بتانا” یہ کہہ کر نوجوان نے فون منقطع کر دیا

شیری….. فون پر بات کرنے والی عورت اسی نام سے پہچانی جاتی تھی، کہتی ہے میرے ابا مجھے شیرو کہ کر پکارتے تھے، اُس کی ساس بھی اسے شیرو ہی بلاتی تھی لیکن دھندے کی دنیا میں سننے والوں کے دلوں میں جازبیت کا رس گھولنے کیلیے اُس نے ‘ شیری ‘ ایسا خوش کن نام اپنا رکھا تھا. مگر صفراوی .. صفراوی نوجوان کا نام تھا، نے جب پہلی ملاقات میں نام دریافت کیا تو اُس نے ان دونوں سے مختلف ایک تیسرا نام بتایا تھا.

شیری سے ہونے والی گفتگو سے صفراوی کا دل بیٹھ سا گیا. ہمدردی اور محرومی کے خیالات کی زد پر وہ خاموش، سوچوں میں غرق دل ہی دل میں خود سے ہمکلام تھا. اُس کے اکاؤنٹ میں ساڑھے تین ہزار روپے موجود تھے جن میں سے اٹھائیس سو اُس نے ایک موٹر سائیکل کی قسط بھرنے کیلیے رکھے ہوئے تھے جو چھ ماہ پہلے ایک عزیز کو دلوائی گئی تھی اور اسی طرح کی ضروریات پوری کرتے کرتے چھ میں سے تین اقساط ادا کر پایا تھا. شیری کی تقریباً ہمیشہ کی بے اعتنائی اور ناروا سلوک کے باوجود اُس نے یہی فیصلہ کیا کہ چلو دو ہزار دے دیتے ہیں بے چاری کس سے مانگتی پھرے گی. اور ساتھ ہی دوبارہ فون لگا دیا

‘ ہاں صبا سے بات ہو گئی’؟
‘ نہیں، ابھی تو پہنچی ہوں ‘
‘ میں دے جاؤں ‘؟
‘ دے جاؤ، جیسے تمہاری مرضی’ وہ ذرا بے رُخی سے بولی
‘ پندرہ سو کافی ہیں ‘؟
‘ نہیں، بہن کو چادر اور گرم کپڑے خرید کر دینے ہیں، ذاکر ( شیری کا شوہر ) اور امی بھی ساتھ جائیں گے پانچ سو تو کرایہ لگ جائے گا’
‘ چلو ٹھیک ہے میں دے جاتا ہوں’
‘ کب تک پہنچو گے’ شیری نے استفسار کیا
‘ پانچ چھ گھنٹے لگ جائیں گے ‘
‘ چلو ٹھیک ہے، میں فتیں سے بات کرتی ہوں اُسی کے ہاں رات گزاریں گے’
فتیں اُس کی نند تھی جس نے ایک مکان کرایہ پر لے رکھا تھا جہاں عورتوں سے دھندہ کرواتی تھی

(جاری)