معاشرتی ساخت، قانونی شکنجوں اور مذہبی روایات میں جب بھی کوئی خاندانی تنازع جنم لیتا ہے، اس کا سب سے سنگین اور تباہ کن بوجھ خواتین اور معصوم بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ ایک دردناک حقیقت ہے کہ اگر مرد بدچلنی کا مظاہرہ کرے تو اس کا اخلاقی دھبہ عورت کے دامن پر لگایا جاتا ہے، اور اگر بات طلاق تک پہنچ جائے تو معاشرتی طعنے، بے دخلی اور سگی اولاد کی پرورش کے کٹھن مسائل کی صورت میں سزا پھر بھی عورت ہی بھگتتی ہے۔معاشرہ، ریاست کا قانون اور کلیسیائی (چرچ) اصول مرد اور عورت کی علیحدگی یا طلاق کے مسئلے پر تقسیم کا شکار تو نظر آتے ہیں، مگر اس بات پر اب بھی کوئی واضح اور مشترکہ حکمت عملی موجود نہیں کہ اس ٹوٹتے ہوئے خاندانی نظام کے بچوں پر نفسیاتی، سماجی اور معاشی اثرات کیا مرتب ہوں گے۔چرچ، مسیحی قوانین اور طلاق کے بعد متبادل کا فقدان کیتھولک چرچ کے مطابق شادی ایک مقدس اور ناقابلِ فسخ عہد (Sacrament) ہے، جس میں طلاق کی گنجائش نہیں ہوتی۔
دوسری جانب، دیگر پروٹسٹنٹ اور اینگلیکن فرقے مخصوص حالتوں (مثلاً زنا یا شدید ناانصافی) میں طلاق کو قبول تو کرتے ہیں، لیکن میاں بیوی کے درمیان رشتے کو قائم رکھنے یا ٹوٹے ہوئے رشتے کے بعد ان کی مثبت رہنمائی کے لیے ان کے پاس بھی کوئی ٹھوس عملی یا نفسیاتی متبادل حل موجود نہیں۔یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ "کیا مسیحی کمیونٹی شادی اور طلاق کے علاوہ بائبل کے تمام قوانین کی مکمل پابند ہے؟”حقیقت یہ ہے کہ دورِ حاضر میں بہت سے معاشرتی، معاشی اور انتظامی معاملات میں دیگر قوانین اور قانونی راستے اختیار کیے جاتے ہیں، لیکن جب خاندانی ٹوٹ پھوٹ کا وقت آتا ہے تو یکایک مذہب کی سخت تشریحات، روایتی بندشیں اور معاشرتی دباؤ آگے آ جاتے ہیں۔ اگر بائبل کے محبت، رحم، معافی، اور عورت و بچے کے حقوق کے بنیادی اصولوں کو عملی زندگی میں اپنایا جائے تو طلاق کی نوبت آنے سے پہلے ہی کونسلنگ اور تصفیے کی راہیں نکل سکتی ہیں۔خاندانی تنازعات کو عدالتوں، تھانوں اور وکیلوں کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے اگر ماہرینِ نفسیات ، فیملی کونسلرز اور تھراپسٹ کے پاس لے جایا جائے، تو بہت سے گھر اجڑنے سے بچ سکتے ہیں، بہت سا روپیہ کورٹ کچہری کے منشیوں، بابوؤں اور پولیس کو دینے کی بجائے بچوں کی صحت و تعلیم پر خرچ ہو سکتا ہے۔ کورٹ کچہری کی فضا میں انتقام، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو زدوکوب کرنے کی دوڑ ہوتی ہے، جو میاں بیوی کے درمیان بچے ہوئے احترام کو بھی ختم کر دیتی ہے، جو فا صلوں کو کئی سالوں تک دور لے جاتا ہے جہاں سے واپسی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے نعفرت، انا پرستی اور بہن بھائیوں کی مشاورت سے ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے کسی ماہر نفسیات رابطہ استوار کرنا چاہیے کیونکہ ماہرِ نفسیات جوڑے کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ تنازع کی اصل وجہ کیا ہے۔ اگر رشتے کا قائم رہنا ممکن نہ بھی ہو، تو تھراپی کے ذریعے دونوں فریقین کو اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ باہم احترام کے ساتھ، بچوں کے بہترین مفاد میں "باہمی رضا مندی “ کا راستہ اختیار کریں۔ طلاق کے معاملے میں سب سے زیادہ پسنے والے بچے ہوتے ہیں۔
اکثر قانونی اور معاشرتی جنگ میں بچوں کو بطور "ہتھیار” یا ایک فریق کو سزا دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔بچوں کی نگران کون؟ باپ کی مالی حیثیت یا ماں پر لگائے گئے بے بنیاد الزام کی بنیاد پر اگر بچوں کو ماں سے جدا کر دیا جائے، تو بچیوں اور بچوں کی شخصیت میں ناقابلِ تلافی خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ طلاق یافتہ گھرانوں کے بچوں میں احساسِ جرم (یہ سوچنا کہ شاید والدین ان کی وجہ سے الگ ہوئے)، غصہ، تنہائی، تعلیمی پسماندگی اور مستقبل میں رشتوں سے خوف (Attachment Issues) جیسی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ خصوصاً بچیوں کو معاشرتی نظروں اور غیر محفوظ ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طلاق کی صورت میں عورت کی سب سے بڑی جدوجہد مالی خودمختاری اور بچوں کی کفالت ہوتی ہے۔بیشتر حالات میں عورت شادی کے بعد گھر داری میں لگ جاتی ہے اور معاشی طور پر مرد پر منحصر ہوتی ہے۔ طلاق کے بعد اچانک اسے بغیر کسی مالی سہارے کے تن تنہا سزا کے طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ بچوں کے سکول، خوراک اور رہائش کے اخراجات کا بوجھ بھی اسی پر آن پڑتا ہے ، جبکہ خرچہ نفقہ حاصل کرنے کے لیے عورت کو سالہا سال عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں، اور مقررہ رقم اکثر افراطِ زر اور بنیادی ضروریات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جسکے اثرات نا صرف عورت کی جسمانی صحت پر پڑتے ہیں بلکہ زہنی طور سے بھی وہ تناؤ کا شکار رہتی ہے جسکی وجہ سے وہ بچوں پر مکمل توجہ نہیں دے پاتی اس لیے زیادہ تر بچے کم عمر ہی میں ماں کا مالی سہارا بننے کی خاطر تعلیم و ہنر سے دور ہو جاتے ہیں۔
عدالت جانے سے قبل قانونی طور پر یہ لازم قرار دیا جائے کہ میاں بیوی سرکاری خرچ پر ماہرِ نفسیات اور کونسلر کے ساتھ کم از کم کچھ سیشنز مکمل کریں تاکہ صلح یا باوقار علیحدگی کی کوئی راہ نکل سکے، چرچ اور مذہبی رہنماؤں کو محض طلاق کی ممانعت تک محدود رہنے کے بجائے شادی سے قبل اور شادی کے بعد کونسلنگ کا باقاعدہ نظام قائم کرنا چاہیے، جہاں زوجین کو معاشی ، معاشرتی اور اخلاقی و نفسیاتی سپورٹ ملے۔بچوں کی حوالگی کا فیصلہ محض والد کی مالی برتری یا والدہ کے سخت معاشرتی حالات کو دیکھ کر نہیں، بلکہ بچے کی ذہنی اور جذباتی وابستگی اور حفاظت کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔قانونی و معاشی طلاق کی صورت میں عورت اور بچوں کے لیے فوری مالی امداد اور باوقار نفقہ کا قانونی طریقہ کار آسان اور تیز رفتار بنایا جائے تاکہ ماں کو بچوں کی پرورِش کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے۔
معاشرے اور قانون کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ شادی کا مقصد انسانی زندگی میں سکون اور ترقی لانا ہے نہ کہ عذاب۔ اگر دو افراد کا ساتھ رہنا ناممکن ہو جائے، تو اس کا ازالہ بچوں اور عورت کی تذلیل سے نہیں، بلکہ بصیرت، نفسیاتی رہنمائی اور انصاف پر مبنی رویوں سے ہونا چاہیے۔ تاکہ طلاق سے پہلے خاندان طلاق کے خسارہ سے بچ جائے۔
مزید پڑھیں

عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف


تبصرہ کتب،الف سے اے آئی تک،تحریر: مبراء عبدالقیوم

افسانہ،صفراوی ،صفدر بھٹی

سفید جھوٹ، سیاہ حقائق،تحریر: اقراء علوی

