Baaghi TV Logo

عورت کمزور نہیں،تحریر: شازیہ حنیف

women

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

آج میں جس موضوع پہ تبصرہ کرنے لگی ہوں اسکا عنوان کچھ یوں ہے "عورت کمزور نہیں” عورت کو صدیوں سے کمزور سمجھنے کی روایت آج بھی ہمارے معاشرے میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ کبھی اسے فیصلہ کرنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا، کبھی اس کی رائے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور کبھی اس کی خاموشی کو اس کی کمزوری تصور کر لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر عورت کو کب تک کمزور سمجھا جاتا رہے گا؟یہ سوال اس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب ہم محکمہ تعلیم کی طرف دیکھتے ہیں۔ تعلیم کا محکمہ وہ ادارہ ہے جو معاشرے کی سوچ بدلنے، نئی نسل کی تربیت کرنے اور انسان کو اس کے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ لیکن اگر اسی شعبے میں کام کرنے والی عورت کو کمزور، کم تر یا حقیر سمجھا جائے تو پھر سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ہم نئی نسل کو مساوات اور احترام کا درس کیسے دیں گے؟محکمہ تعلیم میں خواتین کی تعداد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اساتذہ کی بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔ وہ صبح سویرے گھروں سے نکلتی ہیں، تعلیمی اداروں میں پہنچتی ہیں، بچوں کو پڑھاتی ہیں، ان کی تربیت کرتی ہیں، دفتری ذمہ داریاں نبھاتی ہیں اور پھر گھر واپس جا کر خاندان کی ذمہ داریاں بھی پوری کرتی ہیں ـپھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عورت ایک ہی وقت میں استاد، منتظم، ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے کردار نبھا سکتی ہے تو اسے کمزور کس بنیاد پر سمجھا جاتا ہے؟کیا صرف اس لیے کہ وہ عورت ہے؟اگر کسی دفتر، کسی ادارے یا کسی محکمے میں کسی خاتون کی بات کو صرف اس کی جنس کی بنیاد پر کم اہم سمجھا جائے تو یہ صرف ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے ـخواتین افسران اور خواتین اساتذہ کو بھی وہی عزت، اعتماد اور پیشہ ورانہ مقام ملنا چاہیے جو کسی مرد کو حاصل ہے۔ کسی خاتون کی صلاحیت کا فیصلہ اس کے کام سے ہونا چاہیے اس کی جنس سے نہیں۔یہ بھی درست ہے کہ ہر جگہ عورت کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوتی اور ہر مرد عورت کو کمزور نہیں سمجھتا۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے مرد موجود ہیں جو خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہیں، ان کا احترام کرتے ہیں اور ان کی ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن جہاں کہیں عورت کو محض عورت ہونے کی وجہ سے دبایا، نظر انداز یا حقیر سمجھا جائے، وہاں آواز اٹھانا ضروری ہے ـآخر جس محکمے کا بنیادی مقصد تعلیم اور شعور پھیلانا ہے، وہاں عورت کو ہی کمزور کیوں سمجھا جائے؟ہمیں یہ سوال صرف محکمہ تعلیم سے نہیں بلکہ پورے معاشرے سے کرنا ہوگا۔عورت کو رعایت نہیں چاہیے اسے برابری کا حق چاہیے۔اسے خصوصی سلوک نہیں چاہیے اسے منصفانہ سلوک چاہیے۔اسے کسی عہدے کا تحفہ نہیں چاہیے اسے اپنی قابلیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع چاہیے اور سب سے بڑھ کر اسے یہ احساس چاہیے کہ اس کی محنت، رائے اور صلاحیت کی قدر کی جاتی ہے۔عورت کمزور نہیں۔ وہ اس نظام کا فعال حصہ ہے۔ وہ استاد ہے تو قوم کے معمار تیار کرتی ہے، افسر ہے تو انتظامی معاملات سنبھالتی ہے، منتظم ہے تو ادارے کو نظم و ضبط دیتی ہے اور ماں ہے تو ایک پوری نسل کی پہلی درسگاہ بنتی ہے۔ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔عورت کی خاموشی کو اس کی کمزوری نہ سمجھیں۔ ممکن ہے وہ خاموش اس لیے ہو کہ اسے اپنے وقار کا خیال ہو۔ اس کے صبر کو اس کی بے بسی نہ سمجھیں۔ ممکن ہے وہ صرف اس لیے برداشت کر رہی ہو کہ وہ اپنے ادارے اور اپنے فرض سے مخلص ہے۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور عزت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔محکمہ تعلیم ہو، صحت ہو، انتظامیہ ہو یا کوئی اور شعبہ؛ کسی بھی ادارے کی ترقی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک وہاں کام کرنے والی خواتین کو برابر کا احترام، محفوظ ماحول اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع نہ ملیں۔ہمیں ایسی سوچ پیدا کرنی ہوگی جہاں عورت کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہ پڑے کہ وہ کمزور نہیں۔ اس کی قابلیت ہی اس کا تعارف ہو، اس کی محنت ہی اس کی پہچان ہو اور اس کا کردار ہی اس کی قدر و منزلت کا پیمانہ ہو ـکیونکہ عورت کو کمزور سمجھنا دراصل معاشرے کی اپنی سوچ کی کمزوری ہے۔عورت کمزور نہیں ہے اسے کمزور سمجھنے والی سوچ کمزور ہے اور اگر ہم واقعی تعلیم کے ذریعے معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں تو تبدیلی کا آغاز ہمیں اپنے اداروں سے ہی کرنا ہوگا۔عورت کو حقیر نہ سمجھیں، اسے برابر سمجھیں ـاسے دبائیں نہیں اس کی صلاحیت کو راستہ دیں ـاسے خاموش نہ کریں، اس کی بات سنیں کیونکہ جس معاشرے میں عورت کو عزت ملتی ہے، وہاں صرف عورت نہیں، پورا معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔