Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کیا شادی واقعی ضروری ہے؟تحریر : محمد سبحان شوق

subhann

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کسی بالغ انسان سے اس کی ملازمت، آمدنی، خواب اور ذہنی سکون کے بارے میں بعد میں پوچھا جاتا ہے، سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ ’’شادی کب کر رہے ہو؟‘‘

جیسے شادی نہ ہوئی تو زندگی میں کوئی بنیادی کمی رہ گئی۔
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر ایک سوال کرنا چاہیے کہ کیا شادی واقعی ہر انسان کے لیے ضروری ہے؟

یہ سوال سنتے ہی ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ ناراض ہو جائے گا۔ کچھ لوگ اسے خاندانی نظام کے خلاف بغاوت سمجھیں گے، کچھ اسے مغربی سوچ قرار دیں گے اور کچھ کہیں گے کہ شادی کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ لیکن کسی سوال کو صرف اس لیے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہماری عادتوں کو چیلنج کرتا ہے۔

شادی یقیناً ایک خوبصورت رشتہ ہو سکتی ہے۔ دو انسان ایک دوسرے کا سہارا بن سکتے ہیں، ایک گھر آباد کر سکتے ہیں، اولاد کی تربیت کر سکتے ہیں اور زندگی کے دکھ سکھ بانٹ سکتے ہیں۔ لیکن یہی شادی اگر صرف معاشرتی دباؤ، تنہائی کے خوف، خاندان کی خواہش یا لوگوں کی زبان بند کرنے کے لیے کی جائے تو کیا وہ واقعی شادی رہ جاتی ہے؟

ہم اکثر کہتے ہیں کہ ’’وقت پر شادی کر لو‘‘۔
مگر کبھی یہ نہیں کہتے کہ ’’صحیح انسان سے شادی کرو۔‘‘

ہم عمر دیکھتے ہیں، خاندان دیکھتے ہیں، ملازمت دیکھتے ہیں، شکل دیکھتے ہیں، جہیز دیکھتے ہیں، ذات دیکھتے ہیں، مگر مزاج کتنے لوگ دیکھتے ہیں؟ ذہنی ہم آہنگی کتنے لوگ دیکھتے ہیں؟ غصے کا انداز، اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت، ذمہ داری کا احساس اور دوسرے انسان کی عزت کرنے کا شعور کتنے لوگ دیکھتے ہیں؟

نتیجہ ہمارے سامنے ہے ایک ہی گھر میں دو انسان برسوں ساتھ رہتے ہیں مگر ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ ایک چھت ہوتی ہے، مگر گھر نہیں ہوتا۔ رشتہ قائم رہتا ہے، مگر تعلق ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر بھی معاشرہ کہتا ہے کہ ’’شادی بچاؤ۔‘‘

کیوں؟

صرف اس لیے کہ طلاق بری لگتی ہے؟ اگر دو انسان ایک دوسرے کو مسلسل توڑ رہے ہوں تو کیا صرف شادی کا قائم رہنا کامیابی ہے؟ اور اگر دو انسان عزت کے ساتھ الگ ہو کر اپنی زندگی بہتر بنا لیتے ہیں تو کیا وہ ناکام ہو گئے؟

یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے۔ ہمارے ہاں غیر شادی شدہ شخص کو اکثر ادھورا سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک ناخوش شادی شدہ شخص سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم واقعی خوش ہو یا نہیں۔ شاید ہمیں شادی کو منزل سمجھنے کے بجائے ایک ذمہ دارانہ انتخاب سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہر انسان کو شریکِ حیات کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے، مگر ہر انسان ایک ہی عمر، ایک ہی وقت اور ایک ہی طریقے سے اس ضرورت کو محسوس نہیں کرتا۔ کچھ لوگ تنہائی میں بھی مطمئن ہوتے ہیں، کچھ رفاقت کے بغیر ٹوٹ جاتے ہیں۔ کچھ کے لیے خاندان زندگی کا مرکز ہے، کچھ اپنے کام، علم، فن یا کسی اور مقصد میں اپنی زندگی کا مفہوم تلاش کرتے ہیں۔

اس لیے مسئلہ شادی کا ہونا یا نہ ہونا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا انسان اپنی زندگی کا فیصلہ خود سمجھ بوجھ سے کر رہا ہے یا صرف اس لیے کہ لوگ سوال کرنا بند کر دیں شادی ضرور کیجیے، اگر آپ کسی انسان کے ساتھ زندگی بانٹنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر صرف اس لیے شادی نہ کیجیے کہ عمر نکل رہی ہے، رشتہ دار باتیں بنا رہے ہیں یا محلے میں سب پوچھ رہے ہیں۔

کیونکہ شادی دو انسانوں کے درمیان معاہدہ نہیں، دو زندگیوں کی ذمہ داری ہے۔ اور شاید ہمیں اپنے معاشرے میں پہلی مرتبہ یہ جملہ قبول کرنا ہوگا کہ شادی زندگی کا ایک خوبصورت راستہ ہے، مگر زندگی کا واحد راستہ نہیں۔ ضروری یہ نہیں کہ ہر انسان شادی کرے۔ ضروری یہ ہے کہ جو بھی فیصلہ کرے، سوچ کر کرے، ذمہ داری سے کرے اور کسی دوسرے انسان کی زندگی برباد کرکے نہ کرے۔