اہمیت الفاظ کی ہوتی ہے، مگر اثر ہمیشہ لہجوں کا ہوتا ہے۔تحریر:بشریٰ سلیم
نقطہ نظر
زندگی کے اس خوبصورت سفر میں انسان روزانہ کتنے ہی لوگوں سے ملتا ہے، لاتعداد گفتگو کرتا ہے اور طرح طرح کے تجربات سے گزرتا ہے، اور اس روزمرہ کے میل جول میں اگر کوئی چیز انسان کے دل پر سب سے گہرا نقش چھوڑتی ہے، تو وہ الفاظ کا انتخاب اور بولنے کا انداز ہوتا ہے کیونکہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ اہمیت الفاظ کی ہوتی ہے، مگر دلوں پر اثر ہمیشہ لہجوں کا ہی ہوتا ہے۔
الفاظ محض منہ سے نکلے ہوئے کچھ بے جان حروف یا آوازیں نہیں ہیں، بلکہ یہ انسان کی عقل، تربیت، سوچ اور اس کے باطن کا آئینہ ہوتے ہیں، جہاں ایک ہی بات کو کہنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں اور اگر الفاظ کا چناؤ درست اور شائستہ ہو، تو وہ بکھرے ہوئے رشتوں کو جوڑ سکتے ہیں، کسی ٹوٹے ہوئے دل کو تسلی دے سکتے ہیں اور غصے کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس اگر الفاظ کا استعمال لاپرواہی سے کیا جائے تو وہ تیز دھار تلوار کی طرح کام کرتے ہیں جن کے زخم جسم پر تو نہیں لگتے لیکن روح پر ایسے گہرے نشان چھوڑ جاتے ہیں جو عمر بھر نہیں مٹتے، کیونکہ کہتے ہیں کہ انسان کیا کہتا ہے، یہ اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا کہ وہ کس انداز میں کہتا ہے یہ اہم ہوتا ہے۔
یہی اندازِ گفتگو یعنی لہجہ کہلاتا ہے جہاں بعض اوقات بہت سخت اور تلخ بات بھی اگر نرم اور محبت بھرے لہجے میں کی جائے تو سامنے والا اسے خندہ پیشانی سے قبول کر لیتا ہے، جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی بہت اچھی اور سچی بات بھی طنزیہ، حقارت آمیز یا اونچی آواز میں کی جائے، تو اس کی ساری خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے اور وہ دل کو لگنے کے بجائے دل دکھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ اثر ہمیشہ الفاظ سے زیادہ انسان کے لہجے کا ہوتا ہے۔
ہمارے روزمرہ کے تعلقات کی عمارت زیادہ تر الفاظ اور لہجوں کی بنیاد پر ہی کھڑی ہوتی ہے جہاں ایک میٹھا بول، ایک خلوص بھرا جملہ اور احترام کا لہجہ کسی اجنبی کو بھی اپنا بنا لیتا ہے، اور اس کے مقابلے میں تکبر اور تلخ لہجہ اپنوں کو بھی پرایا کر دیتا ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی بڑی جنگیں صرف غلط الفاظ اور تلخ لہجوں کی وجہ سے برپا ہوئیں، اور دوسری طرف بڑی بڑی دشمنیاں بھی صرف نرم الفاظ اور عاجزی بھرے لہجے کی بدولت دوستی میں بدل گئیں۔
اس لیے ہمارا دینِ مبین اسلام بھی ہمیں بات کرنے کے آداب اور بہترین اخلاق کی تلقین کرتا ہے جہاں قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اچھے اور نرم الفاظ بولنے کا حکم دیا ہے اور اسے ایک عمدہ صدقہ قرار دیا ہے، اور پیارے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے جن کا لہجہ ہمیشہ نرم، شیریں اور دلوں کو موہ لینے والا ہوتا تھا، یہی وجہ تھی کہ سخت سے سخت دشمن بھی آپ کے اخلاق اور شیریں گفتاری کا قائل ہو جاتا تھا، کیونکہ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر کسی کے ساتھ نیکی یا بھلائی کرنا ممکن نہ ہو، تو کم از کم اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا بھی ایک صدقہ ہے۔
ان تمام باتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے، اور اسے خوبصورت بنانے کے لیے ہمیں اپنے الفاظ اور لہجوں پر خاص توجہ دینی چاہیے کیونکہ ہمیں ہمیشہ ایسے الفاظ کا انتخاب کرنا چاہیے جو دوسروں کے لیے راحت، سکون اور خوشی کا باعث بنیں نہ کہ تکلیف اور دکھ کا۔ اس لیے آئیے آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی میں مٹھاس، نرمی اور خلوص کو اپنا شعار بنائیں گے تاکہ ہمارے الفاظ کسی کے لیے زخم نہ بنیں بلکہ مرہم بن جائیں کیونکہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو دلوں میں اترنے اور ایک بہتر انسان بننے کی طرف لے جاتا ہے، اور اس سے نہ صرف ہمارے اپنے دل کو سکون ملتا ہے بلکہ ہمارے اردگرد کا معاشرہ بھی ایک پُرامن، محبت کرنے والا اور خوبصورت معاشرہ بن جاتا ہے جہاں ہر شخص دوسرے کے احترام کا خیال رکھتا ہے اور یوں زندگی کا یہ سفر بہت خوشگوار ہو جاتا ہے۔





