Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک دوسرے کی مدد کیجے ،تحریر:ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

نقطہ نظر
dr shahid m shahid

انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے جو اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسے ہر قدم پر دوسروں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کرنا اخلاقی فرض سمجھا جاتا ہے۔ دوسروں کی مدد کرنا نہ صرف ایک اعلیٰ اخلاقی خوبی ہے بلکہ یہ انسانیت کی اصل روح بھی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے کام آتے ہیں، وہی حقیقت میں کامیاب اور باوقار زندگی گزارتے ہیں۔

دوسروں کی مدد کا مطلب صرف مالی تعاون نہیں بلکہ ہر وہ عمل جس سے کسی کو سہارا ملے، مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ کسی کو اچھا مشورہ دینا، کسی غم زدہ کو تسلی دینا، کسی کمزور کا سہارا بننا یا کسی پریشان حال کی رہنمائی کرنا۔ یہ مدد کی مختلف صورتیں ہیں۔ بسا اوقات ایک چھوٹا سا عمل، جیسے مسکرا کر بات کرنا یا کسی کو راستہ بتانا بھی کسی کے لیے بڑی مدد ثابت ہو سکتا ہے۔

ہماری روزمرہ زندگی میں بے شمار مواقع آتے ہیں جہاں ہم دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ سکول میں اگر کوئی طالب علم پڑھائی میں کمزور ہو تو ہم اسے سمجھا سکتے ہیں۔ گھر میں والدین کے کاموں میں ہاتھ بٹانا بھی مدد کی ایک شکل ہے۔ سڑک پر کسی بوڑھے شخص کو سڑک پار کروانا، کسی ضرورت مند کو کھانا دینا یا کسی بیمار کی تیمارداری کرنا یہ ایسے کام ہیں جو نہ صرف دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں بلکہ ہمارے اپنے دل کو بھی سکون دیتے ہیں۔

دوسروں کی مدد کرنے سے معاشرے میں محبت، بھائی چارہ اور اتحاد پیدا ہوتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں تو نفرتیں ختم ہو جاتی ہیں اور اعتماد بڑھتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوں، وہاں امن اور خوش حالی قائم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر لوگ خود غرض ہو جائیں اور صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچیں تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

دوسروں کی مدد کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے۔ مدد کرنے والا شخص زیادہ ہمدرد، صابر اور بردبار ہوتا ہے۔ اس کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے جذبات کو بہتر طور پر سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے لوگ معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور ان کی قدر کی جاتی ہے۔

تقریبا ہر مذہب کی تعلیمات میں دوسروں کی مدد پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ہمیں سکھایا گیا ہے کہ ہم اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنا، زکوٰۃ اور صدقہ دینا، یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھنا یہ اعمال ہمیں ایک بہتر انسان بناتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف دنیا میں سکون ملتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اس کا اجر ملتا ہے۔

آج کے دور میں جب ہر شخص اپنی مصروفیات میں گم ہے، دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ اکثر اپنے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں اور دوسروں کے مسائل سے بے پروا ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہمیں مزید کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس جذبے کو زندہ رکھیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی شروع سے ہی یہ سکھانا چاہیے کہ دوسروں کی مدد کرنا ایک عظیم عمل ہے۔

یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مدد ہمیشہ خلوصِ نیت سے کرنی چاہیے۔ اگر ہم کسی کی مدد صرف دکھاوے یا تعریف حاصل کرنے کے لیے کریں تو اس کا اصل مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقی مدد وہی ہے جو بغیر کسی لالچ کے کی جائے اور جس کا مقصد صرف دوسروں کی بھلائی ہو۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا ایک ایسی عادت ہے جو نہ صرف معاشرے کو بہتر بناتی ہے بلکہ انسان کی اپنی زندگی کو بھی خوش گوار بناتی ہے۔ اگر ہر شخص یہ عہد کر لے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی مدد کرے گا تو دنیا ایک خوب صورت اور پُرامن جگہ بن سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے کام آئیں اور ایک مثالی معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL