Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اے آئی ڈیٹا سینٹر، ایک نئی ڈیجیٹل تہذیب ،تحریر: پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں معلومات محض کتابوں، لائبریریوں اور انسانی حافظے میں محفوظ نہیں رہیں۔ اب علم کا ایک بڑا حصہ ایسی مشینوں کے سینوں میں سانس لے رہا ہے جنہیں ہم ڈیٹا سینٹر کہتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، جسے ہم اختصار سے AI کہتے ہیں، بظاہر ہماری اسکرین پر چند لمحوں میں جواب دیتی ہے، مگر اس ایک جواب کے پیچھے کہیں دُور ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے جہاں ہزاروں سرورServers) (،طاقتور GPU، بے شمار کیبلیں، بجلی کے وسیع نظام اور حرارت کو قابو میں رکھنے والے پیچیدہ Cooling Systems مسلسل کام کر رہے ہوتے ہیں۔یوں سمجھ لیجیے کہ AI کی دنیا کا اصل کارخانہ ہماری جیب میں موجود موبائل فون نہیں بلکہ وہ عظیم الشان ڈیٹا سینٹرز ہیں جو دُنیا کے مختلف خطوں میں خاموشی سے پھیل رہے ہیں۔


یہ ڈیٹا سینٹر دراصل ایسی خصوصی عمارتیں ہیں جہاں بڑی تعداد میں کمپیوٹر سرورز نصب ہوتے ہیں۔ AI کے جدید ماڈلز کی تربیت، ان کی مسلسل Operation، Cloud Computing، ڈیٹا اسٹوریج اور اربوں Computational Operations انہی مراکز میں انجام پاتے ہیں۔ جس رفتار سے ChatGPT، Image Generation، Autonomous Systems اور دیگر AI Applications ہماری زندگی میں داخل ہو رہے ہیں، اسی رفتار سے ان کے لیے درکار Computing Infrastructure بھی بڑھ رہا ہے۔


لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے, مصنوعی ذہانت کی یہ دُنیا آخر چلتی کس چیز سے ہے؟جواب ہے, بجلی، پانی، زمین، معدنیات اور انسانی وسائل۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں ٹیکنالوجی کا سوال ماحولیاتی سوال بن جاتا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی، IEA، کے مطابق دنیا کے ڈیٹا سینٹرز نے 2024 ء میں تقریباً 415 terawatt-hours بجلی استعمال کی، جو عالمی بجلی کے استعمال کا تقریباً ڈیڑھ فیصد تھی۔ اندازہ ہے کہ 2030 ء تک یہ کھپت تقریباً 945 TWh تک پہنچ سکتی ہے۔یہ اعداد محض اعداد نہیں۔ ان کے پیچھے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس، ٹرانسمیشن لائنز، cooling systems اور وسائل کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔

AI کے لیے بنائے جانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں GPU-based computing کی وجہ سے بجلی کی طلب مزید بڑھ رہی ہے۔ بعض جدید مراکز سیکڑوں میگاواٹ بجلی کے پیمانے پر کام کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ڈیٹا سینٹر بعض اوقات ایک پورے صنعتی شہر کے بجلی کے نظام پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔لیکن بجلی کے بعد دوسرا اہم مسئلہ پانی ہے۔کمپیوٹر مشینیں بھی انسانوں کی طرح حرارت پیدا کرتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انسان پسینے سے ٹھنڈا ہوتا ہے اور سرورز کے لیے انتہائی پیچیدہ cooling systems استعمال کیے جاتے ہیں۔ کچھ Cooling Technologies میں پانی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے ڈیٹا سینٹر کا قیام اس علاقے کے آبی وسائل پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔یہ مسئلہ ان علاقوں میں مزید حساس ہو جاتا ہے جہاں پہلے ہی پانی محدود ہو۔ اگر کسی خشک خطے میں ایک طرف شہری آبادی پانی کی قلت سے دوچار ہو اور دوسری طرف بڑے ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا کے لیے پانی درکار ہو تو یہ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ معاشرتی اور ماحولیاتی منصوبہ بندی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

دُنیا میں ڈیٹا سینٹرز کی بڑی تعداد امریکہ، چین اور یورپ میں موجود ہے۔ امریکہ عالمی data-centre infrastructure کا سب سے بڑا مرکز ہے، جبکہ چین بھی تیزی سے اپنی computing capacity بڑھا رہا ہے۔ شمالی ورجینیا، ٹیکساس، کیلیفورنیا، آریگان اور دیگر امریکی خطے بڑے data-centre hubs بن چکے ہیں۔ یورپ میں آئرلینڈ، جرمنی، نیدر لینڈ، برطانیہ، اور نارڈک ممالک بھی اہم مراکز ہیں۔ایشیا میں جاپان، سنگاپور اور ملائیشیا میں بھی تیزی سے نئے ڈیٹا سینٹرز تعمیر ہورہے ہیں۔ جبکہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت اور cloud infrastructure کو اپنی مستقبل کی معیشت کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


یہاں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ایک طرف AI ماحول کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، دوسری طرف یہی AI ماحول کو بچانے میں مدد بھی دے سکتی ہے۔AI بجلی کے پیداواری یونٹس کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے، renewable energy کی forecasting، بجلی کے مانگ کے نظام کو سمجھنے، صنعتی فضلہ کم کرنے اور موسمیاتی ماڈلنگ میں مدد دے سکتی ہے۔ IEA کے مطابق AI توانائی کے شعبے میں افادیت بہتر بنانے اور Transmission Infrastructure کے زیادہ مؤثر استعمال میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

گویا مسئلہ AI نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم AI کو کس توانائی کے نظام پر چلاتے ہیں۔اگر ڈیٹا سینٹر کی بجلی کوئلے سے پیدا ہو تو اس کا Carbon Footprint مختلف ہوگا، اور اگر وہی بجلی سورج کی روشنی، ہوا، پانی یا نیوکلئیر ذرائع سے آئے تو ماحولیاتی اثرات کی نوعیت مختلف ہوگی۔اسی لیے دنیا میں اب صرف ڈیٹا سینٹر بنانے کی دوڑ نہیں بلکہ سبز ڈیٹا سینٹرز بنانے کی کوشش بھی جاری ہے۔سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ AI کو روک دیا جائے۔

سوال یہ ہونا چاہیے کہ AI کو پائیدار کیسے بنایا جائے۔کیا ڈیٹا سینٹر ایسے علاقوں میں قائم کیے جائیں جہاں renewable energy وافر ہو؟کیا cooling کے لیے potable water کے بجائے recycled یا treated water استعمال کیا جا سکتا ہے؟کیا ایسے chips تیار کیے جا سکتے ہیں جو کم بجلی میں زیادہ computing انجام دیں؟کیا AI models کو زیادہ efficient بنایا جا سکتا ہے؟کیا data-centre operators اپنی waste heat کو صنعتی یا شہری مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب مستقبل کی ٹیکنالوجی کا ماحولیاتی چہرہ متعین کریں گے۔

ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے, ڈیٹا سینٹرز صرف بجلی اور پانی استعمال نہیں کرتے۔ ان میں استعمال ہونے والی ایڈوانس چپس، سرورز، بیٹریز، کیبل اور دوسرے آلات کے لئے تانبا، لیتھیم، کم یاب زمینی عناصراور دیگر معدنی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ ان معدنیات کی کان کنی بھی زمین، پانی اور ماحولیاتی نظام پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔اس لیے AI کی اصل ecological footprint صرف اس وقت شروع نہیں ہوتی جب ہم ChatGPT سے کوئی سوال پوچھتے ہیں۔ اس کی ایک طویل کہانی معدنیات کی کان سے شروع ہو کر chip manufacturing، server assembly، transportation، data-centre construction، electricity generation اور cooling تک پہنچتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی AI پالیسی میں صرف“کتنی computing power؟”کا سوال کافی نہیں ہوگا۔


ہمیں پوچھنا ہوگا:کتنی بجلی؟……کتنا پانی؟……کتنی زمین؟……کتنی معدنیات؟……اور کتنا ماحولیاتی بوجھ؟ درکار ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ بحث ابھی سے اہم ہے۔ اگر مستقبل میں یہاں بڑے AI یا cloud data centres قائم ہوتے ہیں تو ہمیں صرف سرمایہ کاری اور روزگار کے اعداد نہیں دیکھنے چاہیے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کس گرڈ سے بجلی لیں گے، ان کے cooling systems کیا ہوں گے، پانی کہاں سے آئے گا اور مقامی آبادی و ماحول پر ان کا کیا اثر ہوگا۔ اور خاص کر …………کراچی جیسے شہر میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے، جہاں پانی، بجلی، گرمی اور شہری infrastructure پہلے ہی بڑے مسائل ہیں۔ یہاں کسی بھی بڑے ڈیٹا منصوبے کو صرف“ٹیکنالوجی کی ترقی”کے عنوان سے دیکھنا کافی نہیں ہوگا؛ اسے توانائی، پانی اور شہری ماحول کے مجموعی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

مصنوعی ذہانت انسان کی تخلیق ہے۔ مگر انسان خود فطرت کی تخلیق ہے۔اگر AI ہمیں زیادہ ذہین بناتی ہے تو اس ذہانت کا پہلا امتحان یہی ہونا چاہیے کہ ہم اپنی ٹیکنالوجی اور اپنے ماحول کے درمیان توازن قائم کر سکیں۔ہم نے صدیوں میں دریا، جنگلات، زمین اور معدنیات کو استعمال کرکے تہذیبیں تعمیر کی ہیں۔ اب ہم computing power کے ذریعے ایک نئی ڈیجیٹل تہذیب تعمیر کر رہے ہیں۔ مگر تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ تہذیبیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں جو اپنے وسائل کو لامحدود سمجھ بیٹھتی ہیں۔

شاید آنے والے برسوں کا سب سے اہم سوال یہ نہ ہو کہ AI انسان سے کتنی ذہین ہو جائے گی؟بلکہ یہ ہو:”کیا انسان اتنا سمجھ دار ہو جائے گا کہ اپنی مصنوعی ذہانت کو قدرتی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کر سکے؟“کیونکہ اگر مصنوعی ذہانت کے لیے قدرتی وسائل ہی ختم ہونے لگیں تو پھر سوال AI کی ذہانت کا نہیں، انسان کی دانائی کا ہوگا۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL