ایک اور ماں کا لخت جگر زندگی کی بازی ہار گیا،تحریر:مرزا عارف رشید
نقطہ نظر
انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دوکھ اپنی جوان اولاد کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھنا ہوتا جوان اولاد کی لاش جب والدین اپنے کندھوں پر اٹھا کر جنازے گاہ تک لیے جاتے ہیں پھر ان کو اولاد کا بچپن یاد اتا ہے کسی طرح لاڈ پیار سے اس کی پرورش کی تھی ماں باپ اپنی اولاد کی خوشی کے لیے سب کچھ قربان کر دیتا ہے ماں بچپن میں لوری سناتی ہے میرے لال جیسا کوئی نہیں ہے جب بیٹا کچھ چلنے کے قابل ہو جاتا ہے کبھی گرتا کبھی کھڑا ہو جاتا ہے تب ماں باپ کی خوشی دیکھنے لائق ہوتی جب وہی بچہ بولنے لگ جاتا ہے اور ماں ماں کہتا ہے تب ماں اپنی ہر خوشی اپنے بچہ پر نچھاور کر دیتی ہے راتوں کو ماں سے لیپٹ کر سونا پوری پوری رات ماں کرواٹ نہیں بدلتی کہی میرا لال بے آرام نہ ہو جائے اپنے لال کو تیار کرنا بالوں میں کنگھی دینی پہلے دن سکول لئے کر جانا ٹیچر سے کہنا اس کا خیال رکھنا جب تک ماں کا لال سکول سے واپس گھر نہ آئے ماں کی نظریں دروازے پر لگی رہنی ماں قدرت کا ایسا تحفہ ہے اس جیسا کوئی اور ہو نہیں سکتا ماں ہمیشہ اپنی اولاد کے لیئے خیر کی دعا کرتی رہتی ہے جب ماں باپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپکا لال آپ کا جگر گوشہ اب اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے تب ان ماں باپ پر گیا گزرتی ہوگی جب ماں باپ کے سامنے آن بچہ کی لاش رکھی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس کو غسل دینا ہے اس کے جنازے کا اعلان بھی کرنا ہے جنازے کا وقت کیا رکھنا ہے تب ماں باپ کے سامنے اپنے لخت جگر کا بچپن یاد ا جاتا جس کو تھوڑی سی بھی چوٹ لگنے پر ماں کا برا حال ہو جاتا تھا آج اس کے لخت جگر کو مٹی تلے دبا دیا جائے گا کچھ عرصہ بعد ماں باپ کا لال ایک کہانی بن کر رہے جاتا ہے ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے کبھی سوچا کسی نے بڑے نام اور ان ناموں کے ساتھ ڈگریاں لگی ہوتی ہیں بہاول پور کے ایمرجنسی واڈ کے ایک کمرے میں تمام ڈاکٹر موجود تھے گپ شپ چائے چل رہی تھی ڈاکٹر ایک مسیحا کے طور جانا جاتا ہے ڈاکٹر مریض کی زندگی بجا سکتا ہے بار بار لواحقین ڈاکٹر کی خدمت پیش ہوتے ہیں ڈاکٹر کے شعبہ سے وابستہ انسان کیوں بھول جاتا ہے کہ ڈاکٹر بعد میں بنتا ہے پہلے وہ انسان ہے افسوس اس بات کا بھی ہے تمام ڈاکٹرز نے اتنی تکلیف نہ کی جا کر مریض کو چیک کر سکے ایمرجنسی کا کس کو کہا جاتا ہے ایمرجنسی کا مطلب بھی مریض کو بتانا ہوتا ہے داخلہ بنوا کر مریض کو نا تجربہ کا جھوٹے ڈاکٹروں کے حوالہ کر دیا جاتا انسانی جان کو مذاق بنا دیا جاتا ہے حکومت کی طرف سے تمام مشنری ادویات ہسپتالوں کو دینے کے باوجود بھی کوئی پرسان حال نہیں اگر مریض کے لواحقین کسی ڈاکٹر سے سوال کر بھی لئے تو اس مریض کے کیا جانے والا سلوک اس طرح کا ہوتا ہے کہ نہ تو اس مریض کو چیک کیا جاتا ہے نہ ہی اس پر توجہ دی جاتی ہے ایسے ہی اس مریض کے ساتھ ہوا ایمرجنسی کے واڈ میں جگہ تو مل گئی لیکن کسی بھی ڈاکٹر نے توجہ نہ دی جب مریض کی حالت خراب ہونے لگی تو فوری طور پر اس مریض کو سرجیکل 3 میں شفٹ کر دیا گیا مریض کا بلڈ پریشر بہت کم تھا ایم ایس وکٹوریہ ہسپتال کو شفارش کروانی گئی ایم ایس نے سرجیکل 3 میں کال بھی کی لیکن مریض کی حالت ٹھیک نہ ہوسکی پوری رات مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں رہا بوڑھا باپ اور بھائی ڈاکٹروں کے کمرے چکر لگاتے رہے آخر کار صبح کا سورج طلوع ہوگیا بڑے ڈاکٹر کا انتظار ہونے لگا 9 بج گے پھر 10 بج گئے 11 بجے سینیئر ڈاکٹر کے بارے میں معلومات ملی ہو سکتا ہے اج سیئنیر ڈاکٹر چیک کرنے نہ ا سکے مریض کی حالت بہت خراب تھی درد سے چیخ ریا تھا جب ڈاکٹر سے بات کی گئی تو کسی نے بھی ہماری بات پر توجہ نہ دی اور کہا کہ جلدی سے اپنے مریض کو واڈ سے شفٹ کروا لیے ہمارے پاس آپکے مریض کا کوئی علاج نہیں ہم اپنے مریض کو کہا لیئے جاتے ایک مسیحا اس طرح کی بات جب کرے گا تو لواحقین کی حالت کیا ہوگی ہمارے پوچھنے پر جواب ایا کی سرجیکل 3 کے ڈاکٹر نے نہیں انا مریض کو آئی سی یو کے واڈ میں شفٹ کرنا ہوگا سرجیکل 3 کے ڈاکٹروں نے کہا ہم مریض کو مزید نہیں رکھ سکتے ایم ایس وکٹوریہ ہسپتال کے پاس جا کر فریاد کی محترم ہمارے مریض کی حالت بہت خراب ہوتی جا رہی ہے اپ مہربانی کر دے انہوں نے مہربانی کی سرجیکل واڈ نمبر 3 میں کال کی لیکن ڈاکٹروں نے ایم ایس کی بات بھی نہ سنی بلکہ مریض کے چاٹ پر لکھ دیا اس مریض کو واڈ سے شفٹ کیا جائے آخر کار ہم بھاگ کر آئی سی یو گئے واہاں سینیئر ڈاکٹر سے گزارش کی انہوں نے ایک جونئیر ڈاکٹر سرجیکل 3 میں روزانہ کیا اور ہدایت جاری کی کہ مریض کو چیک کر کے بتاو جونئیر ڈاکٹر نے مریض کو چیک کیا اور کہا کہ اس کا بلڈ پریشر بہت کم ہے جب تک اس کا بلڈ پریشر ٹھیک نہیں ہوگا ہم اس مریض کو آئی سی یو کے واڈ میں داخل نہیں کر سکتے دوپہر کے 3 بج گے تھے مریض کی حالت اسی طرح تھی جیسے پہلے تھی سرجیکل 3 کے کسی ڈاکٹر نے بھی چیک نہ کیا دونوں واڈ کے ڈاکٹر نے جواب دے دیا ایم ایس اپنے گھر روزانہ ہوگئے بوڑھا باپ رب کریم کے آگے فریاد کرتا رہا کوئی مسیحا میرے لال کو بچا لیے میرا سب کچھ اپنے نام کروا لیے لیکن بے رحم ڈاکٹروں نے کچھ بھی نہ کیا ڈیوٹی پوری کر کے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے کہا ہے حکومتی دعوے ہم نے ہسپتالوں کو پہلے سے بہتر کر دیا ہے آخر کار مریض زندگی کی جنگ ہار گیا موت کو گلے لگا لیا بوڑھا باپ اپنے بیٹے کی لاش پر چیخیں مار مار کر روتا رہا انسان آج ضرور تھک جائے گا کل کے اندیشے آج کی توانائی، سکون اور مسکراہٹ چھین لیتے ہیں۔ ہم ایک ایسے دکھ کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں جس کا وجود ابھی صرف ہمارے خیال میں ہوتا ہے۔ یوں حقیقت سے زیادہ ہمارا وہم ہمیں زخمی کر دیتا ہے کہا گئی مسلمان کی انسانیت کہا ہے وزیر اعلی پنجاب کے دعوے وزیر صحت پنجاب سے اتنی سی گزارش ہے کبھی ہسپتالوں کا ریکارڈ بھی چیک کیا گیا روزانہ کی بنیاد پر کتنے مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں روزانہ پنجاب کے ہسپتالوں میں کتنی اموات ہوتی ہیں ہمارے ڈاکٹروں کو اپنی کلینک کی بہت زیادہ فکر ہوتی ہے شام میں سرکاری گھروں میں مریض چیک پوتے ہیں کسی حکومت نے آج تک ان خلاف ایکشن نہیں لیا تمام سرکاری وسائل اور مرات استمال کرتے ہیں ہسپتالوں میں کوئی بھی ایمرجنسی ہو جائے تو ڈاکٹر نہیں پہنچتے جوئنیر ڈاکٹروں کے حوالہ سب کچھ ہوتا ہے انسانی زندگیوں سے طرح کا کھیل کب کھیلا جاتا رہیے گا کب تک ایسا ہوتا رہیں گا کب یہ نظام بدلے گا





