Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مذاکرات 2 بنیادی نکات پر اختلاف کی وجہ سے ناکام ہوئے,سلمان اکرم راجہ


حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات  کے 2 دور بے نتیجہ ثابت ہوئے جس کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت متعدد حکومتی نمائندوں نے ڈیڈ لاک کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سارے عمل کو سبوتاژ کیا اور جب مسودہ فائنل ہو گیا تو اچانک انہوں نے معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا۔


بابر اعوان کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سلمان اکرم راجا نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات 2 بنیادی نکات پر اختلاف کی وجہ سے ناکام ہوئے، پہلا نکتہ عمران خان سےقانون کے مطابق ملاقاتوں کا تھا اوردوسرا خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت دونوں مطالبات ماننے سے انکاری رہی جس پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔


ان کا کہنا تھا کہ ہم آج امن جرگہ کی دستاویزات دکھائیں گے جس پر مسلم لیگ ن، اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے دستخط موجود ہیں، ہم نے ح88کرنے کے لیے خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کو شامل کئے بغیر آگے چلنا ممکن نہیں،اس جرگے کے لوگوں کی بات کو اہمیت دی جائے۔


سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہر مکالمے میں بانی پی ٹی آئی کو شامل کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کو شامل کئے بغیر کوئی حتمی بات نہیں ہو سکتی۔ بانی پی ٹی آئی کیخلاف 300 سے زائد مقدمات ہیں۔ بانی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات ضروری ہے۔


سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ وکلاء، خاندان کے افراد اور رفقہ سے ملاقاتوں کا معاملہ ہم نے حکومت کے سامنے رکھا، بانی پی ٹی ائی تک ذاتی معالجین تک رسائی کے مطالبے کو بھی نہیں مانا گیا، ذاتی معالجین تک رسائی کا معاملہ کوئی سیاسی مطالبہ نہیں تھا، اگر بانی پی ٹی ائی کو ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دی جاتی تو بات کرنے کا فائدہ نہیں۔


حکومتی رہنماؤں کے بیانات پر پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ پریس کانفرنسوں میں کہتے ہیں کہ ہم مذا کرات کے لیے تیار نہیں، کوئی ریاست مذاکرات کا راستہ بند نہیں کر سکتی ، جنگ میں بھی فریقین کے مابین مذاکرات ہوتے ہیں کیا پاکستان اور بھارت کی جنگ میں ہاٹ لائن کھلی نہیں ہوتی؟


سلمان راجا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کو گرفتار کرکے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے خطرہ ہے اس لیے گرفتاری ہوئی، بانی کی ایک بہن ڈاکٹر ہیں اگر ان سے خطرہ ہے تو مجھ سے تو بہت زیادہ خطرہ ہو گا۔


انہوں نے کہا کہ ہم عزت قانون و آئین اور امن کی خاطر نکلیں گے ،مذاکرات میں ناکامی کے بعد سہیل افریدی لانگ مارچ کیلئے نکلے، میں نے مذاکرات والے دن کہا تھا کہ میں اور میری بیٹیاں کلاشنکوف نہیں پھول لے کر نکلیں گے۔


ان کا کہنا تھا کہ ہم کوئی مسلح لوگ نہیں، ہم آج بھی کہتے ہیں قربتوں کو دوریوں میں نہ بدلا جائے، ہم اس دن معاملات کے حل کے قریب تھے ایک دم قربت کو دوری میں بدل دیا گیا۔ حکومتی کمیٹی نے کہا کہ ہم نہیں دیتے ذاتی معالجین کو رسائی، ہم نہیں کرتے متفقہ لائحہ عمل پر کام، پھر ہم کیا کریں۔


دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے متعدد فیصلے ہیں جن کو نہیں مانا گیا، اب تو اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنا بھی مشن نا ممکن بن چکا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی فکسیشن برانچ ویسے تو کیسز مقرر نہیں کرتی، جب باہر ٹمپریچر اتنا ہائی ہے تو اس کیس کو مقرر کرنا چاہیئے۔