استاد کو صرف سلام یا انصاف بھی ،تحریر: نوشین تاج
نقطہ نظر
یومِ اساتذہ آتا ہے تو سوشل میڈیا پر استاد کے احترام میں خوبصورت جملے لکھے جاتے ہیں۔ استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے، مستقبل کا معمار کہا جاتا ہے، استاد کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے، پھول پیش کیے جاتے ہیں، تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور چند گھنٹوں کے لیے استاد کو معاشرے کا سب سے اہم فرد بنا دیا جاتا ہے۔
لیکن ایک سوال ہر یومِ اساتذہ پر میرے ذہن میں ضرور آتا ہے:
کیا استاد کو صرف ایک دن عزت چاہیے؟
یا پھر اسے پورا سال عزت، انصاف، تحفظ اور اپنے بنیادی حقوق بھی چاہییں؟
میں ایک استاد کی حیثیت سے یہ بات شاید زیادہ شدت سے محسوس کرتی ہوں، کیونکہ استاد کی زندگی کو باہر سے دیکھنا اور اندر سے گزارنا دو مختلف تجربے ہیں۔
ایک استاد روزانہ کلاس روم میں داخل ہوتا ہے تو اس کے سامنے صرف بچے نہیں ہوتے، بلکہ ایک پوری نسل کا مستقبل ہوتا ہے۔ وہ انہیں کتابیں پڑھاتا ہے، سوالوں کے جواب دیتا ہے، ان کے رویوں کو درست کرتا ہے، ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور کئی مرتبہ ان کے گھریلو مسائل کا بوجھ بھی اپنے دل پر لے لیتا ہے۔
لیکن اسی استاد کو جب اپنے حقوق کے لیے دفتر کے دروازے پر کھڑا ہونا پڑے تو اس کی آواز کیوں کمزور پڑ جاتی ہے؟
استاد کی ترقی برسوں کیوں رکتی ہے؟
سینیارٹی ایک استاد کے لیے محض ایک کاغذی معاملہ نہیں۔ یہ اس کی برسوں کی خدمت، تجربے اور محنت کا اعتراف ہے۔ مگر جب سینیارٹی کے معاملات برسوں تک زیرِ التوا رہیں تو استاد کے اندر ایک خاموش مایوسی جنم لیتی ہے۔
پھر سالانہ انکریمنٹ کا معاملہ ہو، سروس بک کی درستگی ہو، پروموشن ہو یا ٹرانسفر—استاد کو بار بار اپنی محنت اور حق ثابت کرنے کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
سب سے تکلیف دہ بات تب ہوتی ہے جب کسی استاد کی سروس بک میں معمولی سی غلطی بھی اس کے مستقبل کو متاثر کرے، یا سروس ریکارڈ کی حفاظت اور بروقت تکمیل کو وہ اہمیت نہ ملے جس کی ضرورت ہے۔
کیا یہ وہی استاد ہے جسے ہم قوم کا معمار کہتے ہیں؟
ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ استاد معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتا ہے، دوسری طرف اسی بنیاد کو مضبوط رکھنے والے انسان کو مسلسل غیر یقینی اور انتظامی مشکلات میں رکھا جاتا ہے۔
گھر سے دور ٹرانسفر بھی ایک استاد کے لیے صرف دفتر کے کاغذ پر لکھی ہوئی چند سطریں نہیں ہوتیں۔ اس کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے، بچے ہوتے ہیں، والدین ہوتے ہیں، گھریلو ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور بعض اوقات صحت اور مالی مسائل بھی ہوتے ہیں۔
خاص طور پر خواتین اساتذہ کے لیے دور دراز تبادلہ کئی اضافی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن کیا فیصلہ کرتے وقت ان انسانی پہلوؤں کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے؟
استاد سے بہترین کارکردگی کی توقع ضرور کیجیے، مگر اسے بہترین ماحول بھی دیجیے۔
ہم چاہتے ہیں کہ استاد جدید تعلیم دے، ٹیکنالوجی استعمال کرے، طلبہ کو تخلیقی بنائے، بہترین نتائج دے اور ہر بچے پر انفرادی توجہ دے۔
یہ سب ہونا بھی چاہیے۔
لیکن پھر استاد سے یہ سوال بھی ہونا چاہیے:
کیا اسے ضروری وسائل میسر ہیں؟
کیا اسے مناسب تربیت مل رہی ہے؟کیا اس کے مسائل سنے جاتے ہیں؟کیا اس کی ترقی میرٹ پر ہو رہی ہے؟کیا اسے اپنے مستقبل کے بارے میں اطمینان ہے؟
اور سب سے اہم کیا وہ ذہنی سکون کے ساتھ اپنا فرض ادا کر رہا ہے؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پریشان استاد سے خوشحال تعلیمی نظام کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
اگر ایک استاد ہر روز اپنے سروس ریکارڈ، ترقی، تبادلے، مالی مسائل یا انتظامی ناانصافیوں کے بارے میں پریشان رہے گا تو اس کا اثر لازماً اس کی ذہنی کیفیت اور بالآخر کلاس روم پر بھی پڑے گا۔
اس لیے یومِ اساتذہ پر صرف پھول اور الفاظ کافی نہیں۔
استاد کو نظام میں آواز دیجیے۔
اس کے مسائل سننے کے لیے مؤثر نظام بنائیے۔
سینیارٹی کے معاملات بروقت حل کیجیے۔
پروموشن کو غیر ضروری تاخیر سے بچائیے۔
سروس ریکارڈ کو محفوظ اور شفاف بنائیے۔
انکریمنٹ اور دیگر جائز حقوق بروقت دیجیے۔
تبادلے کے معاملات میں انسانی پہلوؤں کو مدنظر رکھیے۔
اور سب سے بڑھ کر استاد کو یہ احساس دیجیے کہ وہ اس نظام کا ایک قابلِ احترام ستون ہے، محض ایک ایسا ملازم نہیں جس سے صرف نتائج مانگے جائیں۔
ایک اچھا تعلیمی نظام صرف اچھے نصاب، عمارتوں اور امتحانی نتائج سے نہیں بنتا۔
اچھا تعلیمی نظام خوش، بااختیار اور باعزت استاد سے بنتا ہے۔
آج یومِ اساتذہ پر میں اپنے تمام ساتھی اساتذہ سے کہنا چاہتی ہوں کہ آپ کی محنت ضائع نہیں جاتی۔
وہ بچہ جسے آپ نے پہلی بار قلم پکڑنا سکھایا، وہ طالب علم جس کا حوصلہ آپ نے اس وقت بڑھایا جب وہ خود پر یقین نہیں کرتا تھا، وہ شاگرد جو آج ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، فوجی افسر، استاد یا کسی اور شعبے میں کامیاب ہے—وہ آپ کی محنت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
اور حکمرانوں، افسران اور معاشرے سے میری صرف ایک گزارش ہے:
استاد کو صرف یومِ اساتذہ پر سلام نہ کریں، استاد کے حق میں فیصلے بھی کریں۔
کیونکہ استاد کو تعریف سے زیادہ انصاف کی ضرورت ہے۔
اسے نعروں سے زیادہ عمل چاہیے۔اسے پھولوں سے زیادہ احترام چاہیے اور اسے ایک دن کی تقریبات سے زیادہ پورے سال عزت کے ساتھ کام کرنے کا حق چاہیے۔
آخر میں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ جس معاشرے میں استاد اپنے حق کے لیے خاموش ہو جائے، وہاں تعلیم صرف کتابوں میں رہ جاتی ہے۔
اور جس معاشرے میں استاد کو عزت، انصاف اور آزادیِ فکر مل جائے، وہاں نسلیں صرف تعلیم یافتہ نہیں بلکہ باشعور بھی بنتی ہیں۔
سلام ہر اس استاد کو جو اپنے مسائل بھول کر آج بھی کسی بچے کا مستقبل سنوار رہا ہے۔
یومِ اساتذہ مبارک—مگر اس بار صرف مبارک باد نہیں، استاد کے حق میں ایک عملی قدم بھی اٹھائیے۔
مزید پڑھیں




