اپنی زندگی میں دوسروں کو بھی شامل کریں،تحریر:نمرہ امین
نقطہ نظرمیرا آج اِس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ایک دن کسی اور کے لیے سوچ کر تو دیکھیں!
کسی اور کی مدد کر کے تو دیکھیں جو واقعی مدد کے لائق ہیں! اُن لوگوں کے بارے میں سوچیں جن کے پاس رہنے کو کوئی چھت نہیں ہے، کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے، پہننے کو کپڑے، جوتے نہیں ہیں اور پھر بھی وہ لوگ اللہ سے امید لگائے ہوئے اِس دُنیا میں زندہ ہیں۔ ایسے ہی کسی رستے پر، جہاں گرم دُھوپ، بارش، ہڈیوں پر سے گوشت نوچتی ہوئی سردی اور کڑکڑاتی آسمانی بجلی سب اُن تک پہنچتی ہیں لیکن اُن کے پاس خود کو بچانے کے لیے کوئی سُہولیات موجود نہیں ہوتیں۔ بچے، بوڑھے، مرد، عورت سبھی ایک دوسرے کے ساتھ اِن سب حالات میں اکٹھے رہتے ہیں۔ صرف یہی اُمید باندھے کہ ان کا رب اُن کی مدد کے لیے کوئی نا کوئی مسیحا ضرور بھیجے گا۔ وہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کوئی ضرور اُن کی مدد کرے گا۔ وہ اپنے اللہ سے مانگتے ضرور ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ اُن کی اپنے بندوں کے ذریعے سے مدد کرے گا۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو اِس حال میں رکھ کر باقی تمام لوگوں کو یہ بتایا ہے کہ ساری بادشاہی اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے جو پوری کائنات کا مالِک ہے۔ وہ جس کو جس مقام پر رکھنا چاہے جب مرضی رکھ سکتا ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں کو بہت رحم دل بنایا ہے۔ اُن کے دل میں محبت، احساس، پیدا کیا ہے۔ تاکہ وہ سب لوگوں کی مدد کر سکیں، سب کا دُکھ، درد، تکلیف، غمی، خوشی، سب کو محسوس کر سکیں اور اِس میں شامل ہوسکیں۔ لیکن یہ دولت کا گھمنڈ ہی ہے جو انسان کے دل سے محبت، احساس اور ہمدردی ختم کرکے بس پیسے کی ہوس اور لالچ ہی زندہ رکھتا ہے۔
ہمیں چاہیئے اِنسانیت کی خاطر ایک دوسرے کی مدد کریں اور آپس میں مِل جُل کر پیار، محبت، سُلوک کے ساتھ رہیں۔
پر کیا ہم انسان یہ سب سوچتے ہیں؟
کیا ہمارا ایمان اپنے رب پر مکمل ہے؟ کیا ہم لوگ اِنسانیت کا 10 فیصد بھی حق ادا کرتے ہیں؟
نہیں۔۔ ہم تو اپنی زندگی کو سنوارنے کے لیے بس محنت کرنے میں مصروف ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ ایک دوسرے سے حسد کر کے اُن کو نیچا دِکھانے میں لگا ہوا ہے۔
ایک دوسرے کی ترقی، مال و دولت، سے حسد کرتا ہے، گویا سب ہی اپنی اپنی دُنیا میں اپنے اپنے طریقوں سے زندگی گُزارنے میں مصروف ہیں۔
کوئی کسی کے لیے مثبت سوچ نہیں رکھتا ہے۔
کسی کے لیے اچھے گُمان نہیں رکھتا ہے۔ کسی کا بَھلا کرنا تو دُور کی بات ہے کسی کی مدد کرنا کوئی نہیں چاہتا ہے۔
کیا یہ ہم لوگوں کا فرض نہیں ہے کہ اگر اللہ نے ہمیں صاحبِ حیثیت بنایا ہے، ہمیں ہر نعمت عطاء کی ہے تو اِس پر ہم اپنے
رب کا شُکر ادا کریں؟
اُس کے بندوں کی مدد کریں۔ ہم نے تو اپنے رب کے دیے ہوئے مال سے ہی اُس کے بندوں کی مدد کرنی ہے تو پھر ہم کیوں نہیں کسی کی مدد کرتے ہیں؟
کیوں نہیں سب کی مجبوریوں، پریشانیوں کو سمجھتے ہیں؟ یہ مال تو ہمارا نہیں ہے یہ تو اللہ کا مال ہے جو اُس نے ہمیں عطا کیا ہے وہ جب مرضی ہمیں دے بھی سکتا ہے اور واپس لے بھی سکتا ہے۔ پھر ہم اُس کے اِسی دیے ہوئے مال سے سب کی مدد کیوں نہیں کر سکتے ہیں؟
ہمارے مدد کرنے سے ہمارے مال میں تو اور زیادہ برکت ہوگی، مزید اضافہ ہوگا اور جس کی ہم مدد کریں گے وہ بھی خوش ہوسکے گا۔ اُس کے دل سے دُعا نکلے گی جس سے ہمارا رب ہم سے راضی ہوگا اور ہمیں مزید مال و دولت، عزت، سے نوازے گا۔
تو کیا ہم ایک بار خود سے پوچھیں یا سوچیں؟ کہ یہ جس مال کے لیے ہم اپنوں سے لڑتے ہیں؟ اُن سے ناراض ہوتے ہیں؟ حسد کرتے ہیں؟ اُن کا حق مارتے ہیں؟ خود پر فخر کر کے مغرور ہوتے ہیں؟ لوگوں کی جانیں تک لے لی جاتی ہیں اِسی دولت کے لیے۔ تو کیا یہ ہمارا مال ہے؟ کیا یہ ہم اپنے ساتھ قبر میں لے کر جائیں گے؟
اِس مال سے تو اللہ نے ہمیں نوازا ہے، اِس پر تو سب اُن لوگوں کا بھی حق ہے جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور وہ ہمارے آسرے، اُمیدوں پر زندہ رہتے ہیں کہ کوئی تو اُن کی مدد کرے گا۔
"پھر کیوں نہیں ہم اپنے اندر احساس، جذبات، پیدا کر سکتے ہیں؟ اپنے دل کو اتنا وسیع نہیں کر سکتے ہیں کہ ہم دوسروں کی مدد کر سکیں؟"
کیا ہمارا ایمان، یقین اور بھروسہ نہیں ہے اپنے رب پر کہ وہ ہمیں مزید عطا کرے گا؟
انسان بہت خودغرض، لالچی مطلبی اور مفاد پرست ہے وہ صرف اپنے بارے میں سب سوچتا ہے اور اپنی زندگی بس اپنے لیے جینا چاہتا ہے۔ اُس کو کسی اور سے کوئی غرض نہیں ہے۔ اگر سوچا، سمجھا جائے تو ہمارا مال و دولت سب اِسی دُنیا میں رہ جانا ہے۔ کوئی کچھ بھی ساتھ نہیں لے کر جائے گا، صرف وہ اپنی اچھے، بُرے، نیک، اعمال ساتھ لے کر اِس جہانِ فانی سے کُوچ کر کے اگلے سفر پر چلا جائے گا اور پیچھے بس اپنے کیے ہوئے اچھے کام اور اچھی یادیں چھوڑ جائے گا۔ وہ یادیں اور باتیں جو سب یاد کریں گے اور اُس انسان کے لیے دُعائے مغفرت کریں گے۔ جب وہ کسی کے ساتھ اچھا سُلوک ہی نہیں کرے گا، تو اُس کے جانے کے بعد نہ ہی کوئی اُس کو یاد کرے گا، نہ کوئی دُعائیں کرے گا۔ ایسے لوگوں کو کوئی بھی یاد نہیں رکھتا ہے۔
"آج کچھ پل کے لیے سوچیں۔۔"
" آپ اپنی زندگی کو کس طرح گُزار رہیں ہیں، ہر گُزرتے دن میں کیا سب کھو رہے ہیں اور کیا پا رہے ہیں؟"
تب آپ کو اندازہ ہوگا آپ کی زندگی کیسے گُزر رہی ہے اور یہ زندگی کیسے گُزارنی چاہیے۔
"میں چاہتی ہوں میری اِس تحریر کو ہر کوئی پڑھ کر ضرور سوچے کہ وہ اپنی زندگی کو کیسے گُزار رہا ہے، اور کیسے گُزار کے مزید بہتر بنا سکتا ہے"؟
"کیا وہ اپنے سب حقوق پورے کر رہا ہے؟ اُس کی وجہ سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہوئی؟"
بہت سی ایسی باتیں ہیں جو ہر انسان کی سمجھ میں نہیں آتی ہیں نہ ہی وہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ بس اپنی زندگی میں اپنے طریقے سے مصروف رہتے ہیں۔ صرف اپنے بارے میں سوچ کر۔ زندگی کے معنوں کو سمجھیں اور اُس کے مطابق اپنی زندگی گزاریں آپ خود بھی خوش اور خوشحال رہیں گے اور باقی سب کو بھی رکھ سکیں گے۔
"کوشش کریں کسی کی آنکھوں سے کوئی آنسو آپ کی وجہ سے نہ نکل سکے اور جب بھی جو بھی آپ کسی کو دیں خوشیاں ہی دیں ہمیشہ"۔
اللہ بھی آپ سے راضی اور خوش رہے گا ہمیشہ۔
"دُنیا میں ایسے بن کر رہیں کہ ہر کوئی آپ سے ملنے کی خواہش کرے۔"





