دل ہے کہ مانتا ہی نہیں میں تو ابھی جوان ہوں ۔مکمل طور پر صحت مند اور فٹ ہوں بڑی عمر تک پہنچنے کے بعد ہم اسی غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ
ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں ہمارا جسم بتدریج کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن ہمارا دل اس حقیقت کو فوری طور پر تسلیم ہی نہیں کرتا جب تک ہم تیز چلنے کی کوشش میں پھسل کر گر نہیں جاتے یا تھوڑی سی محنت و مشقت کے بعد تھک کر بیٹھ نہیں جاتے
انسان جوں جوں عمر عزیز کے ساٹھ سال پورے کرتا ہے یا ساٹھ سال سے اوپر کا ہو جاتا ہے تو اس کی جسمانی ساخت میں عمر کے لحاظ سے کچھ تبدیلیاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں تھوڑی سی مشقت کے بعد تھکن محسوس ہوتی ہے اور بتدریج کمزوری ہونا شروع ہو جاتی ہے
عمر کے اس حصے میں ہمیں کھانے پینے میں اعتدال کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔
متوازن خوراک و غذا تو لا محالہ ضروری ہے
خوراک کے بعد آج احباب کی خدمت میں کچھ جسمانی احتیاطی تدابیر پیش کر رہا ہوں جن پر عمل کرنے کے بعد ہم یقینی طور کسی بڑے خطرہ سے بچ سکتے ہیں
1۔باتھ روم میں وضو کرتے وقت اپنے پاؤں کبھی بھی بیسن ٹب سینک میں نہ دھوئیں کیونکہ ایک ٹانگ پر کھڑا ہونے سے توازن بگڑ جاتا ہے اور گرنے کا احتمال و خدشہ رہتا ہے۔
گرنے سے۔خدانخواستہ اگر کسی عضو کا فریکچر ہو جائے تو بڑی عمر میں ہڈی مشکل سے جڑتی ہے، کولہے کی ہڈی تو جڑتی ہی نہیں
پھسل کر گرنے سے ۔ہیڈ انجری انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے
۔میرے ایک دوست کے والد صاحب باتھ روم میں وضو کے لئے جب سینک کے اوپر پائوں رکھ کر دھونے لگے تو توازن برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے گر گئے ان کا سر دیوار سے لگا اور بیہوش ہو کر قومے میں چلے گئے اور بیس دن بعد قومے ہی کی حالت میں فوت ہو گئے
لہذا دوران وضو پائوں سینک پر رکھ کر دھونے سے حد درجہ
احتیاط انتہائی ضروری ہے
2۔ نہانے کے بعد پورے جسم کو نرم تولیے سے اچھی طرح خشک کر لیں کیونکہ اگر گیلے جسم کے ساتھ کمرے میں جائیں گے جہاں اے سی یا پنکھا چل رہا ہو تو پھر فالج ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے
نہانے کے بعد کپڑے تبدیل کرتے وقت خاص کر شلوار، پاجامہ یا پینٹ باتھ روم میں کھڑے ہو کر کبھی تبدیل نہ کریں بلکہ باتھ روم سے باہر آ کر کرسی یا بیڈ پر بیٹھ کر تبدیل کریں اور اگر باتھ روم میں ہی کپڑے تبدیل کرنے ہوں تو کبھی بھی کھڑے ہو کر نہ کریں۔کموڈ کا ڈھکن بند کر کے اس پر بیٹھ کر تبدیل کریں یا پھر باتھ روم میں کرسی رکھ لیں اس پر بیٹھ کر تبدیل کریں
3۔ اپنے باتھ روم میں فرش پر چکنی ٹائلز قطعی طور پر نہ لگائیں بلکہ کھردری ٹائلز لگوائیں جس سے پائوں سلپ نہ ہوں اگر چکنی ٹائلز لگی ہوئی ہیں تو اس پر میٹ بچھا لیں تاکہ سلپ ہونے سے بچا جا سکے
۔اپنے باتھ روم کے فرش پر کبھی بھی پانی کھڑا نہ ہونے دیں اس سے پھسل کر گرنے کا خطرہ رہتا ہے
بظاہر یہ احتیاطی تدابیر معمولی سی ہیں مگر ان کے اثرات انتہائی مفید اور مؤثر ہیں
ان مفید گزارشات پر عمل کرنے کے ہم بڑے خطرات سے یقینی طور پر محفوظ رہ سکتے ہیں
مزید پڑھیں






