جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پانچ منٹ میں تیار ہونے والے عظیم فنکار،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

نقطہ نظر
almas fatimah

دنیا میں یوں تو کئی قسم کے جھوٹ بولے اور سنے جاتے ہیں، جن میں سے بعض کو مصلحت آمیز کہہ کر ہضم کر لیا جاتا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا سب سے بڑا، کائناتی اور آفاقی جھوٹ وہ ہے جو کوئی آپ سے ہنستے ہوئے کہتا ہے: "بس پانچ منٹ! میں ابھی تیار ہو کر آیا۔" اس ایک جملے کے پیچھے کتنے ہی شوہروں کے ارمان، کتنی ہی گاڑیوں کے فیول اور کتنے ہی دوستوں کے صبر کا جنازہ نکل جاتا ہے، اس کا حساب شائد دنیا کا کوئی کیلکولیٹر نہیں کر سکتا۔ یہ "پانچ منٹ" دراصل کوئی وقت نہیں، بلکہ ایک طویل صابرانہ سفر کی شروعات ہے جس کا انجام صِرف قدرت کو معلوم ہوتا ہے۔

 

ان عظیم فنکاروں کی سب سے پہلی نشانی ان کا پرسُکون چہرہ ہوتا ہے۔ جب آپ تپتی دھوپ میں گاڑی اسٹارٹ کر کے ہارن پر ہارن بجا رہے ہوتے ہیں، تو یہ فنکار اندر لاپرواہی سے کنگھی گھما رہے ہوتے ہیں۔ ان کا پانچ منٹ کا مائیکرو ویو ٹائمر اس وقت شروع ہوتا ہے جب یہ ابھی الماری کے سامنے کھڑے ہو کر کائنات کا سب سے مشکل فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں کہ "آج پہننا کیا ہے؟" حالانکہ الماری کپڑوں سے ٹھسا ٹھس بھری ہوتی ہے، مگر ان کا پہلا فقرہ یہی ہوتا ہے، "میرے پاس تو پہننے کو کچھ ہے ہی نہیں!" اب جو بندہ ابھی لباس کے انتخاب کے ابتدائی مراحل میں ہو، اس کا پانچ منٹ میں باہر آنا ایسے ہی ہے جیسے کسی نوآموز کا پہلی کوشش میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لینا!

 

مزاحیہ المیہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان پانچ منٹ والے فنکاروں کے ساتھ قدرت بھی اپنا حصہ ڈال دیتی ہے۔ ابھی کپڑے استری ہونا شروع ہی ہوتے ہیں کہ اچانک "لائٹ کا ایشو" بن جاتا ہے اور بجلی غائب ہو جاتی ہے۔ پھر اندھیرے میں موبائل کی ٹارچ جلا کر استری ڈھونڈی جاتی ہے۔ چلو جیسے تیسے لائٹ آ جائے، تو اگلا جھٹکا یہ لگتا ہے کہ پانی اچانک سے ختم ہو جاتا ہے اور ٹینکی بالکل خالی ملتی ہے۔ اب ایک طرف موٹر چلا کر پانی کا انتظار ہو رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف گھڑی کی سوئیاں کسی تیز رفتار ٹرین کی طرح بھاگ رہی ہوتی ہیں۔ ان قدرتی آفات کے نتیجے میں جو فنکار گھر سے ہی پہلے دو گھنٹے لیٹ نکلتا ہے، وہ ہمیشہ وقت کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

 

گھر سے تو جیسے تیسے نکل گئے، لیکن ان عظیم فنکاروں کی قسمت کا آخری فیصلہ راستے کا "ٹریفک جام" کرتا ہے۔ جب آپ پہلے ہی دو گھنٹے تاخیر کا شکار ہوں، تو سڑک پر موجود ہر گاڑی یوں رینگتی ہے جیسے چیونٹیوں کی بارات جا رہی ہو۔ گاڑی میں بیٹھے وقت کے پابند مسافر خون کے آنسو رو رہے ہوتے ہیں، جبکہ ہمارے یہ پانچ منٹ والے فنکار گاڑی کے شیشے میں اپنا ہیئر اسٹائل درست کرتے ہوئے بڑے اطمینان سے کہتے ہیں، "اچھا ہوا نا میں نے گھر میں آرام سے پانچ منٹ لگا لیے، ویسے بھی باہر آ کر ٹریفک میں ہی پھنسنا تھا!" بندہ پوچھے کہ اگر گھر سے وقت پر نکلتے تو شائد ٹریفک جام سے پہلے ہی فنکشن ہال میں بریانی پلیٹ میں ڈال رہے ہوتے!

 

جب یہ عظیم فنکار آخر کار دو تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد فنکشن میں پہنچتے ہیں، تو وہاں آدھی محفل ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ مگر ان کے چہرے پر ذرا برابر بھی ندامت نہیں ہوتی، بلکہ وہ اتنی معصومیت سے داخل ہوتے ہیں جیسے سب سے پہلے وہی پہنچے ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان پانچ منٹ والے فنکاروں اور ان کے ساتھ پیش آنے والے پانی، لائٹ اور ٹریفک کے مسائل کے بغیر زندگی کی رونق ادھوری ہے۔ ان کی اس معصومانہ تاخیر پر غصہ تو بہت آتا ہے، لیکن جب یہ بن ٹھن کر سامنے آتے ہیں، تو ان کی اس عظیم فنکاری کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے۔