شہر کی ایک تنگ گلی میں ایک قدیم مکان تھا۔ اس کی دیواریں وقت کی گرد سے اٹی ہوئی تھیں، مگر ان دیواروں میں تین نسلوں کی سانسیں بستی تھیں۔ اس مکان میں دادا جان رہتے تھے، جن کی دنیا ایک تسبیح، ایک جائے نماز اور محلے بھر کے احوال تک محدود تھی۔ ان کا بیٹا سعید تھا، جس کی ہتھیلی میں سارا جہاں سمٹ آیا تھا، اور سعید کے دو چھوٹے بچے تھے، جن کی آنکھیں پیدا ہوتے ہی اسکرین کی روشنی سے آشنا ہو گئی تھیں۔دادا جان کے پاس خبر رساں کوئی آلہ نہ تھا، مگر وہ ہر دل کی خبر رکھتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ کس گھر میں چولہا نہیں جلا، کس ماں کا بیٹا پردیس میں ہے، اور کس بوڑھے کو دوا کی ضرورت ہے۔ سعید کے پاس ہر خبر تھی، دنیا کے ہر کونے کی خبر اس کے موبائل پر لمحوں میں آ جاتی تھی، مگر وہ کسی دل کی خبر سے بے خبر تھا۔ وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن چکا تھا۔ بچے اس کے سامنے بیٹھے ہوتے، مگر وہ ان کی آنکھوں میں نہیں، اسکرین میں دیکھتا تھا۔ایک شام دادا جان کی طبیعت اچانک بگڑی۔ ان کے چہرے پر پسینہ آیا اور سانس اکھڑنے لگی۔ سعید نے گھبرا کر خاندانی گروہ میں پیغام بھیجا۔ لمحوں میں اسکرین پر دعاؤں کے پھول کھلنے لگے۔ کسی نے آمین لکھا، کسی نے دل والا نشان بھیجا، کسی نے لمبی دعا نقل کر کے چسپاں کر دی۔ مگر دہلیز پر کوئی قدم نہ آیا۔ کوئی دروازہ نہ کھٹکا۔ گھر میں خاموشی تھی، صرف موبائل کی ٹک ٹک گونج رہی تھی۔
اس لمحے سعید کو شدت سے یاد آیا کہ بچپن میں جب وہ بیمار پڑتا تھا تو محلے کی مائیں شوربہ لے آتی تھیں، بزرگ سرہانے بیٹھ کر دعائیں دیتے تھے، اور بچے اس کے بستر کے گرد بیٹھ کر کہانیاں سناتے تھے۔ اس وقت وسائل کم تھے، مگر انسان بہت تھے۔ آج وسائل بہت ہیں، مگر انسان کم ہو گئے ہیں۔ آج محبت پیغام میں ہے، عمل میں نہیں۔ آج ہمدردی لائک میں ہے، ہاتھ تھامنے میں نہیں۔
وہ دادا جان کو سہارا دے کر اسپتال کی جانب نکلا۔ راستے میں مسجد تھی، سنگِ مرمر سے مزین، روشنیوں سے جگمگاتی ہوئی۔ سعید نے اندر جھانکا، صفیں تو بھری تھیں، مگر خشوع ناپید تھا۔ ہر شخص سجدے سے فارغ ہو کر فوراً اسکرین میں گم ہو جاتا تھا۔ کسی کے ہاتھ میں تسبیح کے بجائے موبائل تھا، کسی کی نگاہ محراب کے بجائے اطلاع پر تھی۔ عبادت بھی اب جلدی میں تھی، جیسے کوئی بوجھ اتارنا ہو۔ سعید کا دل بوجھل ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ ہم نے مسجدیں تو خوب صورت بنا لیں، مگر دل ویران کر دیے۔
اسپتال سے واپسی پر اسے اپنے استادِ محترم ملے، بوسیدہ بستہ لٹکائے سائیکل پر۔ وہی استاد جنھوں نے کبھی اسے قلم پکڑنا سکھایا تھا۔ سعید نے جھک کر سلام کیا۔ استاد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے کہا:
"بیٹا، علم بہت بڑھ گیا ہے، ادب گھٹ گیا ہے۔ اب معلومات تو ہر جیب میں ہیں، مگر تربیت کسی دل میں نہیں رہی۔"
رات کو سعید نے زندگی میں پہلی بار اپنے سارے آلات خاموش کر دیے۔ اس نے موبائل بند کیا، ٹی وی کا بٹن دبایا اور لیپ ٹاپ ایک طرف رکھ دیا۔ کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی، جو برسوں بعد اسے اپنی لگی۔ وہ دادا جان کے پہلو میں زمین پر بیٹھ گیا اور ان کا جھریوں بھرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ وہ ہاتھ کانپ رہا تھا، مگر اس میں برسوں کی دعاؤں کی گرمی تھی۔
دادا جان نے دھیرے سے کہا:
"بیٹا، زر کی چمک نے آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہے۔ اب صداقت تنہا ہے اور جھوٹ کے قافلے ہیں۔ لوگوں نے سچ کو چھوڑ دیا ہے، کیونکہ جھوٹ زیادہ چمک دار لگتا ہے۔"
سعید کی آنکھیں کھل گئیں۔ اسے لگا جیسے وہ برسوں کی نیند سے جاگا ہو۔اگلی صبح اس نے گھر کے صحن میں مٹی کا ایک چھوٹا سا دیا جلایا۔ برقی روشنی نہیں، لو والا دیا۔ اس نے بچوں کو بلایا، ان کے ہاتھ سے فون لے کر ایک طرف رکھے اور دادا جان سے کہا:
"ابا جی، آج کوئی کہانی سنائیے۔"
دادا جان نے کہانی شروع کی۔ بغیر اسکرین کے، بغیر تصویر کے۔ بچے حیرت سے سن رہے تھے۔ محلے کے دو بچے بھی آ کر بیٹھ گئے۔ وہ دیا جل رہا تھا۔ چھوٹا سا، مگر اس کی لو میں پورا مکان روشن تھا۔
سعید نے سوچا کہ وہ عہد تو شاید نہ لوٹے جہاں دل سے دل ملتے تھے، مگر اپنے مکان میں وہی عہد وہ آج سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ اگر ہر گھر میں ایک دیا جل جائے تو یہ شہر پھر سے روشن ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں






