عوام دکھاوا نہیں حق مانگتی ہے،تحریر:غنی محمود قصوری
نقطہ نظر
ہمارے ہاں جمہوریت کا حسن ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت اپوزیشن میں ہوتی ہے تو وہ موجودہ حکومت پر تنقید کرتی ہے لیکن جب وہی جماعت اقتدار میں آتی ہے اور اس کی اپنی حکومت بنتی ہے تو جمہوریت کے تحت قائم کئے گئے اداروں اور منصوبوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں جاری رکھتی ہے
یہی جمہوری تسلسل ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر معاملہ اس سے آگے بڑھ کر مفادات کی سیاست بن جاتا ہے
کل تک حکومت میں بیٹھ کر جو کر رہا تھا آج آنے والا بھی وہی کچھ کرتا ہے یعنی گورنمنٹ اور اپوزیشن درحقیقت ایک ہی ہیں مگر دکھلاوا کرتے ہیں
آج ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں عوام کا پیسہ خرچ تو کرتی ہیں مگر اس خرچ کا بڑا حصہ ایسی اسکیموں پر ہوتا ہے جو عوام کو مستقل سہولت دینے کے بجائے وقتی ریلیف یا سیاسی تشہیر کا ذریعہ بن جاتی ہیں تاکہ ووٹ لیا جا سکے
مثال کے طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے اربوں روپے مختص کئے جاتے ہیں
سوال یہ نہیں کہ غریب کو مالی مدد کیوں دی جا رہی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مدد واقعی ہر مستحق تک پہنچ رہی ہے؟
بہت سی مستحق خواتین طریقۂ کار سے ناواقف ہونے، سروے نہ ہونے یا کسی مددگار کے ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے اس سہولت سے محروم رہ جاتی ہیں جبکہ کٹوتیوں کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں
اصول تو یہ ہونا چاہیے کہ جو شخص واقعی مستحق ہے اسے عزت کے ساتھ اس کا حق ملے
محض اس بنیاد پر نہیں کہ وہ کسی سیاسی نظام یا انتخابی عمل میں کسی کے لیے مفید ہے
حالانکہ ہمارا محکمہ زکوٰۃ و عشر پہلے سے موجود ہے
اگر ریاست کے پاس غریبوں تک پہنچنے کے لیے پہلے ہی ادارے موجود ہیں تو انہیں مضبوط اور فعال کیوں نہیں کیا جاتا؟ پھر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیوں ضروری ہے؟
جب یہ نظام بنایا گیا تو اس وقت کی اپوزیشن نے بھی اس پر تنقید کی، مگر بعد میں آنے والی حکومتوں نے اسی نظام کو جاری رکھا بلکہ آگے بڑھایا
پاکستان میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جن منصوبوں پر اپوزیشن میں تنقید کی جاتی ہے مگر اقتدار میں آ کر انہی منصوبوں کو جاری رکھا جاتا ہے
یہی سیاسی رویہ عوام کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصل مقصد عوامی فلاح ہے یا صرف اقتدار کا تسلسل؟
ایک طرف حکومتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ بھکاری پن ختم کیا جائے گا تو دوسری طرف ایسے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں جن سے لوگ مستقل طور پر امداد کے منتظر بن جاتے ہیں
غریب کو روزگار، تعلیم، علاج اور باعزت آمدنی دینے کے بجائے اسے چند ہزار روپیہ کی امداد دے کر مسئلہ حل سمجھ لیا جاتا ہے
اب موجودہ پٹرول کی سبسڈی کو ہی دیکھ لیں
اگر مخصوص رجسٹریشن کرنے والے شخص کو سبسڈی ملتی ہے تو سوال یہ ہے کہ جو شخص رجسٹریشن نہیں کرا سکا اس کا کیا قصور ہے؟ اگر عوام کو ریلیف دینا ہے تو ایسا نظام بنایا جائے جس کا فائدہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ملے نہ کہ چند مخصوص افراد کو
اسی طرح گرین بسیں چلانا اور مفت سفری سہولت دینا اپنی جگہ اچھی بات ہے لیکن جو شہری اس بس میں بیٹھ ہی نہیں سکتا تو اس کا کیا قصور ہے؟
ریاست کا پیسہ کسی ایک طبقے کا نہیں ہوتا
غریب ہو یا امیر، ریاست کی بنیادی سہولیات پر ہر شہری کا حق ہوتا ہے
ہمارے ہاں مسئلہ یہ بھی ہے کہ غریب کو اس کا حق آسانی سے نہیں ملتا
بااثر سیاسی افراد، بڑے لوگ اور طاقتور حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اکثر ان سہولیات تک آسانی سے پہنچ جاتے ہیں جبکہ وہ مزدور جو صبح سے شام تک محنت کرکے اپنا گھر چلاتا ہے، کئی مرتبہ بنیادی حق سے بھی محروم رہ جاتا ہے
موجودہ دور میں ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے بھی عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے جس پر عوام کا سوال بالکل سادہ ہے کہ اگر ریاست ہم سے زیادہ ٹیکس لے رہی ہے تو اس کے بدلے میں صحت، تعلیم، روزگار، امن و امان اور دیگر بنیادی سہولیات بھی اسی تناسب سے بہتر کیوں نہیں ہو رہیں؟
اگر ٹیکس بڑھانا ہے تو سہولیات بھی اسی معیار سے بڑھائیں یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام سے ٹیکس مسلسل بڑھتے جائیں اور بنیادی سہولیات کے لئے وہی پرانا نظام موجود رہے؟
پراونشل انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیرا کا مقصد قانون اور ضابطوں کا نفاذ ہے لیکن عام آدمی یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ کارروائی کا دباؤ زیادہ تر چھوٹے ریڑھی بان اور کمزور دکاندار پر ہی کیوں محسوس ہوتا ہے؟
جو غریب آدمی سڑک کنارے ریڑھی لگا کر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے اگر اس کے خلاف قانون حرکت میں آتا ہے تو بڑے پیمانے پر ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں مصنوعی اضافے کے خلاف بھی وہی مؤثر کارروائی نظر آنی چاہیے یعنی کہ قانون اگر ہے تو سب کے لیے برابر ہونا چاہیے مگر افسوس ہمارے ہاںغریب کے لیے قانون سخت جبکہ بااثر کے لئے نرم ہے تبھی تو عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے
حکومت ہم سے ٹیکس لیتی ہے خریداری پر ٹیکس، بجلی کے بل میں ٹیکس، پٹرول پر ٹیکس، مختلف سرکاری دستاویزات اور خدمات کی فیسیں، ہر طرف عوام ہی ادائیگی کر رہے ہیں پھر عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟
بجلی کے بلوں کو ہی دیکھ لیں ایک عام صارف کے لئے یونٹس کی معمولی سی اضافی کھپت بھی بعض اوقات بل میں نمایاں فرق پیدا کر دیتی ہے
غریب آدمی کے لیے چند ہزار روپیہ کا اضافی بل معمولی رقم نہیں جس شخص کی آمدنی محدود ہو اس کے لئے بجلی کا بڑھا ہوا بل گھر کے پورے بجٹ کو متاثر کر دیتا ہے بلکہ کھانا پینا محدود کر دیتا ہے حتی کہ ضرروی ادویات تک دور کر دیتا ہے
دوسری طرف صاحبِ حیثیت لوگ لاکھوں روپیہ خرچ کرکے سولر سسٹم لگا لیتے ہیں اور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے کسی حد تک خود کو محفوظ کر لیتے ہیں۔لیکن جس غریب کے گھر میں روٹی پوری نہیں ہوتی وہ کہاں سے لاکھوں روپیہ کا سولر سسٹم لگائے؟
یہی اصل مسئلہ ہے کہ
ریاست کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جس میں غریب آدمی پر بوجھ کم ہو نہ کہ ہر نئی پالیسی کا پہلا اثر اسی کی جیب پر پڑے
اسلحہ لائسنس کی فیس ہو، ڈرائیونگ لائسنس کی فیس ہو، پاسپورٹ کی فیس ہو یا دیگر سرکاری دستاویزات کے اخراجات، عام آدمی کے لئے ہر اضافی فیس ایک نیا بوجھ بن جاتی ہے
ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت سڑکیں نہ بنائے، بسیں نہ چلائے، ترقیاتی منصوبے نہ بنائے
ضرور بنائے لیکن سوال یہ ہے کہ ترقی کا بوجھ کس پر ڈالا جا رہا ہے؟
اگر ریاست قرض لیتی ہے، اگر قوم سے ٹیکس وصول کرتی ہے اور اگر قومی خزانے میں عوام کا پیسہ جمع ہوتا ہے تو اسے ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے جو طویل مدت میں پوری قوم کے لئے فائدہ مند ہو
صرف چند چیزیں مفت دے دینا عوامی فلاح نہیں
اگر ایک طرف چند روپئے کی چیز مفت دی جائے اور دوسری طرف ٹیکسوں، فیسوں، بجلی اور دیگر اخراجات کے ذریعے عوام سے کہیں زیادہ رقم وصول کر لی جائے تو عام آدمی اسے ریلیف کے بجائے بوجھ ہی بڑھے گا
ہمیں ایسی مفت سہولیات نہیں چاہئیں جو ہماری عزتِ نفس اور مستقل معاشی خودمختاری چھین لیں
ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں انسان اپنی محنت سے باعزت زندگی گزار سکے
جو مزدور صبح سے شام تک خون پسینہ بہاتا ہے اسے شاید یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ روزمرہ کی خریداری میں وہ کتنے ٹیکس ادا کر رہا ہے لیکن جب اسی شخص کو صحت کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ہسپتال جانے کے لئے کرایہ یا پٹرول خرچ کرتا ہے گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرتا ہے اور آخرکار دوائیوں کے لئے اپنی محدود آمدنی سے مذید رقم خرچ کرتا ہے
اگر ایک عام آدمی کو بخار ہو جائے تو اسے علاج کے لئے بھی اپنی جیب سے خرچ کرنا پڑتا ہے اور ہسپتال جانے کی وجہ سے اس کی دیہاڑی بھی ضائع ہو جاتی ہے
تو پھر سوال بنتا ہے کہ
یہ کون سا انصاف ہے؟
یا تو ریاست عوام سے اتنا ٹیکس نہ لے یا پھر عوام کو بنیادی سہولیات واقعی فراہم کرے
جب ٹریفک چالان کے لئے کیمرے لگ سکتے ہیں تو جرائم کی روک تھام، ڈکیتیوں اور قتل کے مقدمات میں یہی جدید ٹیکنالوجی پوری صلاحیت کے ساتھ کیوں استعمال نہیں کی جا سکتی؟
اگر ریاست کے پاس نگرانی اور شناخت کی ٹیکنالوجی موجود ہے تو اس کا فائدہ صرف چالان تک محدود نہیں ہونا چاہیے
حکومت عوام کی مالک نہیں، عوام کی خادم ہے
جو پیسہ حکومت خرچ کرتی ہے وہ حکمرانوں کی ذاتی کمائی نہیں یہ عوام سے جمع کیا گیا پیسہ ہے
یا پھر عوام کے نام پر لیا گیا قرض ہے
اس لئے اس کے استعمال میں حکمرانوں پر عوام سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے
آج جو غریب مزدور ٹیکس دیتا ہے وہ ریاست پر احسان نہیں کرتا بلکہ اپنا فرض ادا کرتا ہے لیکن ریاست کی ذمہ داری بھی ہے کہ اس کے بدلے اسے بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کرے نا کہ چند پیسوں کی سہولت دینے کیلئے ذلیل و رسواء کرے
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا آج ایک حکومت ہے تو کل دوسری ہوگی
آج اختیار کسی کے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس ہوگا لیکن انسان اپنے اعمال سے فرار نہیں ہو سکتا
اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب ضرور ہو گا یہاں تو بچ جاؤ گے وہاں اوپر کون بچائے گا؟
اس لئے حکمرانوں کو صرف اگلے انتخابات اور اگلی حکومت کی فکر نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس عوام کی فکر کرنی چاہیے جو آج مہنگائی، ٹیکسوں، بجلی کے بلوں، علاج کے اخراجات اور روزگار کی مشکلات میں پسی ہوئی ہے
لوگ اگر پریشان ہیں تو ان کی آواز سنیں اگر عوام سوال کر رہے ہیں تو جواب دیں اگر کوئی پالیسی غریب پر بوجھ ڈال رہی ہے تو اسے تبدیل کریں اور امیروں سے لے کر غرباء پر لگائیں
کیونکہ ایک ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کا شہری اپنے آپ کو محفوظ، باعزت اور ریاست کا برابر کا حصہ سمجھتا ہے
حکمرانوں خدارا عوام پر رحم کرو،دکھاوے کی سیاست ختم کرو وقتی ریلیف کے بجائے مستقل حل دو، بااثر اور کمزور کے لئے قانون کا ایک ہی معیار رکھو، ٹیکس کا پیسہ شفاف طریقے سے خرچ کرو اور غریب کو اس کا حق دو کیونکہ ہمیں خیرات نہیں چاہیے ہمیں اپنا حق چاہیے
ہمیں ایسے منصوبے نہیں چاہئیں جن کی تشہیر چند دن ہو اور پھر عوام دوبارہ اسی مشکل میں چلے جائیں
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں مزدور اپنی محنت سے عزت کے ساتھ گھر چلائے، جہاں غریب علاج کے لئے پریشان نہ ہو جہاں ٹیکس دینے والا شہری ریاست سے اپنا حق مانگنے کے لئے محتاج نہ ہو اور جہاں قانون کمزور کے لئے بھی اتنا ہی مضبوط ہو جتنا طاقتور کے لیے
ملک کو دکھاوے سے نہیں، انصاف، شفافیت اور عوام کے حقیقی حق سے ترقی ملے گی
خدارا پیرس بنانے سے پہلے لوگ پیرس والے بنا لیں پیرس خود بن جائے گا





