بدلتے موسموں کے ساتھ، بدلتا ہوا انسان،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
موسم بدلنے سے پہلے آسمان اپنا رنگ بدلتا ہے۔ ہوا میں ایک انجانی سی خنکی اترتی ہے، درختوں کے پتے بے سبب خاموش ہونے لگتے ہیں اور فضا میں کچھ ایسی تبدیلی آتی ہے جسے آنکھ دیکھ تو نہیں پاتی، مگر دل محسوس کر لیتا ہے۔ شاید تبدیلی ہمیشہ اسی طرح خاموش احساس کی صورت میں آتی ہے؛ شور کے ساتھ نہیں، ایک انسان بھی تو ایک دن میں نہیں بدلتا۔ پہلے اس کے لہجےمیں خاموشی آتی ہے ، پھر باتوں میں، پھر توقعات میں، اور آخرکار وہ خود بھی اپنے پرانے وجود سے کہیں دور نکل جاتا ہے۔
ہم موسموں کو بڑی آسانی سے قبول کرتے ہیں۔ گرمی گزر جائے تو سردی کا استقبال کرتے ہیں، خزاں آئے تو بہار کا انتظار رکھتے ہیں، مگر زندگی کا موسم بدل جائے تو ہم ٹھہر جاتے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں آتا کہ جو شخص کبھی ہماری دنیا کا مرکز تھا، وہ اب ہماری زندگی کا محض ایک باب رہ گیا ہے۔ جو راستہ کبھی منزل تک لے جاتا تھا، شاید اب وہیں سے ایک نئی سمت نکلتی ہو۔ ہم اختتام کو اختتام سمجھ کر روتے رہتے ہیں، جبکہ زندگی اکثر اختتام کے لباس میں آغاز چھپا کر رکھتی ہے۔
خزاں کو دیکھیے۔ درخت اپنے پتے خود سے جدا کر دیتا ہے۔ بظاہر یہ منظر اداسی سے بھرا ہوتا ہے، مگر درخت جانتا ہے کہ ہر چیز کو ہمیشہ تھامے رکھنا زندگی نہیں۔ کچھ چیزوں کو چھوڑ دینا بھی زندہ رہنے کا ہنر ہے۔ انسان مگر عجیب ہے؛ وہ ان رشتوں کو بھی سینے سے لگائے رکھتا ہے جو کب کے مر چکے ہوتے ہیں، ان یادوں کو بھی زندہ رکھتا ہے جو صرف اسے زخمی کرتی ہیں، اور ان لوگوں کا انتظار بھی کرتا رہتا ہے جو کبھی واپس آنے کے ارادے سے گئے ہی نہیں تھے۔
شاید ہماری سب سے بڑی کم عقلی یہی ہے کہ ہم گزرے ہوئے موسموں کو واپس لانا چاہتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ بچپن پھر لوٹ آئے، وہی لوگ پھر ہمارے پاس بیٹھیں، وہی شامیں پھر ہماری دہلیز پر اتریں، اور دل دوبارہ ویسا محسوس کرے جیسا کبھی کیا کرتا تھا۔ مگر وقت کی سب سے بے رحم حقیقت یہی ہے کہ وہ کسی منظر کو دوبارہ اسی شکل میں نہیں لوٹاتا۔ کچھ لوگ واپس آ بھی جائیں تو ہم وہ نہیں رہتے جو ان کے جانے سے پہلے تھے۔
وقت صرف کیلنڈر نہیں بدلتا، انسان بھی بدل دیتا ہے۔
کبھی کوئی دکھ ہمیں اتنا خاموش کر دیتا ہے کہ ہم پہلے جیسے نہیں رہتے۔ کبھی کوئی جدائی ہمیں یہ سکھا دیتی ہے کہ ہر تعلق ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کی بے وفائی ہمیں لوگوں سے نہیں، اپنی توقعات سے محتاط کر دیتی ہے۔ اور کبھی زندگی کی ایک چھوٹی سی ٹھوکر انسان کو وہ سچ سمجھا دیتی ہے جسے برسوں کی نصیحتیں نہیں سمجھا سکیں۔
اس لیے ہر بدلتا موسم اپنے ساتھ صرف درجۂ حرارت نہیں لاتا، ایک پیغام بھی لاتا ہے۔ بہار کہتی ہے کہ زندگی میں دوبارہروشنی کی کرن پھوٹ سکتی ہے۔ خزاں سکھاتی ہے کہ چھوڑ دینا ہمیشہ ہار نہیں ہوتا۔ سردی بتاتی ہے کہ کچھ وقت خاموش رہنا بھی ضروری ہے، اور بارش شاید یہ سمجھانے آتی ہے کہ بادل جتنا بھی بوجھ اپنے اندر رکھیں، ایک وقت پر برسنا پڑتا ہے۔
انسان بھی تو ایک موسم ہے۔ کبھی کسی کے لیے بہار، کبھی کسی کی زندگی میں خزاں۔ کبھی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بن کر اترتا ہے اور کبھی اپنی ہی خاموشیوں میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو مستقل سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں، حالاں کہ ہمارے اندر بھی روز کچھ نہ کچھ مرتا اور کچھ نیا جنم لیتا رہتا ہے۔
شاید اسی لیے بعض اوقات آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر بھی انسان خود کو پہچان نہیں پاتا۔ چہرہ وہی ہوتا ہے، مگر آنکھوں میں موسم بدل چکا ہوتا ہے۔
اور پھر ایک دن ہمیں سمجھ آتا ہے کہ زندگی میں کچھ لوگ ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آتے، کچھ صرف ہمیں بدلنے کے لیے آتے ہیں۔ کچھ رشتے ہمیں خوشی دیتے ہیں، کچھ ہمیں سبق، اور کچھ ہمیں خود سے ملوا دیتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ساتھ ایک موسم لاتا ہے اور جاتے ہوئے ہمارے اندر کچھ نہ کچھ بدل جاتا ہے۔
سو، اگر آج زندگی میں خزاں ہے تو گھبرائیے نہیں۔ ہر جھڑتا ہوا پتّا موت کی علامت نہیں ہوتا؛ بعض اوقات وہ آنے والی بہار کے لیے جگہ بنا رہا ہوتا ہے۔ اور اگر آج آپ کے اندر کوئی پرانا موسم ختم ہو رہا ہے تو اسے زبردستی تھامنے کی کوشش نہ کریں۔ شاید زندگی آپ سے کچھ چھین نہیں رہی، صرف آپ کو کسی نئے وجود کے لیے تیار کر رہی ہے۔
کیونکہ موسموں کا بدلنا صرف فطرت کا قانون نہیں، انسان کی تقدیر بھی ہے۔
ہم سب کے اندر ایک موسم مسلسل بدل رہا ہے؛
کبھی کوئی شخص رخصت ہو کر خزاں چھوڑ جاتا ہے،
کبھی کوئی امید خاموشی سے بہار بن کر اترتی ہے۔
اور شاید زندگی کا اصل حسن یہی ہے کہ
جو موسم آج ہمیں ختم ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے،
وہی کل ہماری نئی ابتدا کا سبب بن جاتا ہے۔
مزید پڑھیں





