سچ بولنے کے لیے بدتمیز ہونا ضروری ہے؟تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
نقطہ نظر
ہمارے معاشرے میں اب ایک عجیب سا معیار بن گیا ہے۔ جو شخص زبان کا تیز ہو، بات بات پر غصہ کرے، سامنے والے کو جھاڑ دے اور کسی کی عزت کا خیال کیے بغیر جو دل میں آئے منہ پر کہہ دے، ہم کہتے ہیں، بس اس کا غصہ تیز ہے، دل کا برا نہیں، جو بات ہوتی ہے صاف کہہ دیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص دھیمے لہجے میں بات کرے، اختلاف بھی نرمی سے کرے اور اپنے الفاظ کا خیال رکھے تو فوراً شک ہونے لگتا ہے کہ یہ اتنی میٹھی باتیں کیوں کر رہا ہے، ضرور کوئی مطلب ہوگا، بڑا منافق ہے۔
آخر ہم نے یہ پیمانہ کہاں سے نکالا ہے کہ بدتمیزی سچائی کی علامت ہے اور شائستگی منافقت کی؟
صاف گوئی اور بدزبانی میں بہت فرق ہے۔ صاف گو انسان وہ ہے جو بات کو گھما پھرا کر پیش نہ کرے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دوسرے کی عزت بھی روند دے۔ آپ کسی کو غلط کہہ سکتے ہیں، مگر اسے ذلیل کرنا ضروری نہیں۔ آپ اختلاف کر سکتے ہیں، مگر چیخنا لازم نہیں۔ آپ ناراض ہو سکتے ہیں، مگر بدتمیزی آپ کا حق نہیں بن جاتی۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ میں تو منہ پر بات کرتا ہوں۔ لیکن کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ منہ پر بات کرنے اور منہ پر مارنے میں فرق ہوتا ہے۔ ہر سچ ہر انداز میں نہیں بولا جا سکتا۔ بعض سچ ایسے ہوتے ہیں جو اگر نرم لہجے میں کہے جائیں تو سامنے والا سوچتا ہے اور اگر تضحیک کے ساتھ کہے جائیں تو وہ صرف آپ کے لہجے کو یاد رکھتا ہے، بات کو نہیں۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے بدتمیزی کو صرف برداشت کرنا ہی نہیں سیکھا بلکہ اسے خوبی بنا دیا ہے۔ جو شخص دفتر میں ماتحت سے اونچی آواز میں بات کرے وہ ’’رعب دار‘‘ ہے۔ جو گھر میں سب کو ڈانٹ کر رکھے وہ ’’اصولی‘‘ ہے۔ جو سوشل میڈیا پر ہر دوسرے شخص کو گالی دے وہ ’’بے باک‘‘ ہے۔ جو کسی کی بات کا جواب دلیل کے بجائے طنز سے دے وہ ’’منہ پھٹ مگر سچا‘‘ ہے۔ شاید ہم نے اپنے رویوں کے لیے ایسے خوبصورت نام ڈھونڈ لیے ہیں تاکہ ہمیں اپنی غلطی غلط محسوس ہی نہ ہو۔
دوسری طرف نرم مزاج انسان کے لیے ہمارے پاس بڑے عجیب القاب ہیں۔ ’’یہ تو بڑی چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے۔‘‘ ’’اس پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ ’’یہ سامنے کچھ اور ہوتا ہے، پیچھے کچھ اور۔‘‘ حالانکہ نرم لہجہ رکھنے والا ہر شخص منافق نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صرف اس لیے نرم ہوتے ہیں کہ انہوں نے زندگی میں یہ سیکھ لیا ہوتا ہے کہ غصے میں کہے گئے الفاظ اکثر مسئلہ حل نہیں کرتے، مسئلہ بڑھا دیتے ہیں۔
اصل میں خاموشی اور نرمی بھی ایک تربیت ہے۔ ہر بات کا جواب دینا، ہر اختلاف کو لڑائی بنانا اور ہر ناراضی کو آواز بلند کرکے ثابت کرنا کوئی کمال نہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ آپ کے پاس غصے کی پوری وجہ موجود ہو، آپ کے پاس جواب بھی ہو، مگر آپ پھر بھی اپنے لہجے کو قابو میں رکھیں۔ کیونکہ زبان پر قابو رکھنا اکثر دوسرے کو قابو کرنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ سخت ہونا اور بدتمیز ہونا ایک چیز نہیں۔ اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا اچھی بات ہے، مگر کسی کی عزت پامال کرکے اپنا حق حاصل کرنا کوئی بہادری نہیں۔ اسی طرح نرم ہونا کمزوری نہیں۔ بعض اوقات سب سے مضبوط انسان وہ ہوتا ہے جو جواب دے سکتا ہے مگر جواب دینے کے لیے چیخنے چلانے کا سہارا نہیں لیتا۔
معاشرہ صرف اس وقت خراب نہیں ہوتا جب لوگ جھوٹ بولتے ہیں، چوری کرتے ہیں یا قانون توڑتے ہیں۔ معاشرہ اس وقت خراب ہوتا ہے جب ہم غلط رویوں کو اچھے نام دے کر قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب بدتمیزی کو صاف گوئی، غصے کو اصول پسندی اور شائستگی کو منافقت کہا جانے لگے تو پھر مسئلہ صرف چند افراد کا نہیں رہتا، پورا معاشرہ اپنے معیار کھو دیتا ہے۔
بات بہت سادہ ہے، بدزبانی بدزبانی ہی ہے، چاہے کرنے والا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔ بدتمیزی بدتمیزی ہی رہے گی، چاہے اسے غصے، صاف گوئی یا بے باکی کا نام دے دیا جائے۔ اور نرمی نرمی ہی ہے، اسے منافقت کہہ دینے سے اس کی خوبصورتی ختم نہیں ہو جاتی۔
شاید ہمیں پھر سے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر بلند آواز مضبوط نہیں ہوتی اور ہر خاموش انسان کمزور نہیں ہوتا۔ سمندر بھی شور نہیں کرتا، مگر اس کی گہرائی کا اندازہ ساحل پر کھڑے ہو کر نہیں لگایا جا سکتا۔ اپنی تحریر کا اختتام اس شعر پہ کروں گا:
**شور دریا سے یہ کہتا ہے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ہے ظرف، اتنا ہی وہ خاموش ہے۔**





