Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بڑھتی ہوئی آبادی،پاکستان کا سنگین مسئلہ ،تحریر:مرزا عارف رشید

نقطہ نظر

پاکستان اس وقت جن بڑے مسائل کا سامنا کر رہا ہے ان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک انتہائی اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ ماضی کی مردم شماریوں پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔ 1951 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 3 کروڑ 37 لاکھ تھی۔ 1961 میں یہ بڑھ کر 4 کروڑ 28 لاکھ ہو گئی۔ 1972 میں 6 کروڑ 53 لاکھ، 1981 میں 8 کروڑ 38 لاکھ اور 1998 میں 13 کروڑ 47 لاکھ تک پہنچ گئی۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی 19 کروڑ 75 لاکھ تھی۔30 اپریل 2023 کو ہونے والی ساتویں مردم شماری کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 99 ہزار 471 ہو چکی ہے۔ اس میں دیہی آبادی 14 کروڑ 77 لاکھ 48 ہزار 707 جبکہ شہری آبادی 9 کروڑ 37 لاکھ 50 ہزار 724 افراد پر مشتمل ہے۔

صوبوں کے لحاظ سے پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 76 لاکھ 88 ہزار 922، سندھ کی 5 کروڑ 56 لاکھ 96 ہزار 148، خیبر پختونخوا کی 4 کروڑ 8 لاکھ 56 ہزار 97 جبکہ بلوچستان کی آبادی 1 کروڑ 48 لاکھ 94 ہزار 402 ہے۔

اتنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملکی معیشت، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ آج ملک میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں واضح کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ گندم، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی قلت بھی ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔حکومت کی جانب سے آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے پاپولیشن ویلفیئر کا ادارہ قائم ہے جو خاندانی منصوبہ بندی اور آگاہی کے حوالے سے کام کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومتی سطح پر فنڈز اور وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ ادارہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر پا رہا۔ بہت سے لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسا کوئی ادارہ موجود ہے جو بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے پر کام کر رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ادارے کو مضبوط کیا جائے، اس کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور ملک بھر میں عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگ بڑھتی ہوئی آبادی کے اثرات کو سمجھ سکیں۔

دوسری طرف ہسپتالوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ مریضوں کی تعداد زیادہ جبکہ ڈاکٹر اور سہولیات کم ہیں۔ کئی ہسپتالوں میں ایک بستر پر متعدد بچوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ ادویات کی کمی بھی عام مسئلہ بن چکی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں بھی مسائل کم نہیں۔ غربت اور وسائل کی کمی کے باعث بہت سے بچے تعلیم چھوڑ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔شہری آبادی میں بے تحاشا اضافے سے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ نئی ہاؤسنگ کالونیوں کے قیام سے زرعی زمینیں کم ہو رہی ہیں جس سے ملکی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ صاف پانی کی قلت بھی مستقبل میں ایک بڑا بحران بن سکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور مؤثر پالیسی بنائے۔ ضلعی سطح پر کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاپولیشن ویلفیئر کے ادارے کو مضبوط بنانا اور عوام میں شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔دنیا میں وہی ممالک ترقی کرتے ہیں جو اپنے وسائل اور آبادی کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں۔ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے تو بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرنا ہوگا۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL