منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بھرم،تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشوں پر مسلسل دستک دے رہی تھیں۔ حورین کی نظریں سامنے دیوار پر لگی اُس تصویر پر جمی تھیں؛ جس میں وہ اور اس کی ماں مسکرا رہی تھیں۔ تصویر میں دونوں کے چہروں پر خوشی تھی۔ لیکن وقت نے اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپے دکھ کو صرف حورین کے لیے قابلِ فہم بنایا تھا۔

وہ ایک ایسے گھر میں پلی بڑھی تھی، جہاں رشتوں کی عزت کو انسانوں کے احساسات سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ باپ کے انتقال کے بعد اس کی ماں نے لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے، اپنے گرد خاموشی کا حصار کھینچ لیا تھا۔ وہ ہر محفل میں یہی کہتی، "میری بیٹی بہت خوش نصیب ہے، اسے کسی چیز کی کمی نہیں۔"

حورین بھی مسکرا دیتی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ماں کی اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی مجبوریاں دفن ہیں۔

گھر میں سب کچھ تھا؛ خوب صورت فرنیچر، قیمتی پردے، الماریوں میں سجے برتن اور لوگوں کی نظروں میں عزت بھی تھی۔ بس ایک چیز نہیں تھی، اور وہ دل کا سکون تھا۔

حورین کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی، جس کے بارے میں اس کی ماں کا خیال تھا: کہ وہ ان کی بیٹی کو دنیا کی ہر خوشی دے گا۔ حماد ایک کامیاب کاروباری شخص تھا۔ اس کی گفتگو میں شائستگی، لباس میں نفاست اور لوگوں کے سامنے رویے میں ایسی مٹھاس تھی کہ ہر کوئی اس کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ لیکن بند دروازوں کے پیچھے، یہی شخص حورین کے وجود کو اپنی انا کے سامنے بے معنی سمجھتا تھا۔

اس کی پسند، اس کی رائے، یہاں تک کہ اس کی خاموشی بھی حماد کی مرضی کی محتاج تھی۔

اگر حورین کسی بات پر اختلاف کرتی تو وہ فوراً کہتا، تمہیں اندازہ بھی ہے کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ میری عزت کا خیال رکھنا سیکھو!

حورین سوچتی، جو شخص اپنی عزت بچانے کے لیے میری عزتِ نفس روند دے، کیا وہ واقعی عزت دار ہے؟

مگر وہ یہ سوال زبان پر نہیں لا سکتی تھی۔

اسے اپنی ماں کی وہ نصیحت یاد تھی، کہ بیٹیاں اپنے گھروں سے ڈولیاں اٹھنے کے بعد واپس نہیں آیا کرتیں۔ چنانچہ وہ ہر روز اپنے اندر کے ایک حصے کو دفن کرتی اور چہرے پر مسکراہٹ سجا لیتی۔ وقت گزرتا رہا۔

ایک دن حماد کے گھر میں ایک بڑی دعوت تھی۔ شہر کے معزز لوگ مدعو تھے۔ حورین نے صبح سے تمام انتظامات سنبھال رکھے تھے۔ مہمانوں کے سامنے حماد نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا، "میری کامیابی کے پیچھے میری بیوی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔"

محفل تالیوں سے گونج اٹھی۔ حورین کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک انجانا سا سوال آنسوؤں کی صورت تیر گیا۔ اسے یاد آیا کہ پچھلی رات معمولی سی بات پر اسی شخص نے اسے اس کی حیثیت یاد دلائی تھی۔

کتنا عجیب تھا یہ بھرم!

لوگوں کے سامنے محبت کا مظاہرہ کرنے والا شخص تنہائی میں محبت کے بنیادی تقاضے بھی بھول جاتا تھا۔

دعوت ختم ہوئی تو حورین باورچی خانے میں برتن سمیٹ رہی تھی کہ اس کے موبائل پر ماں کا پیغام آیا:

بیٹا، تم خوش تو ہو نا؟ تمہارے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر دل کو تسلی ملتی ہے۔ حورین کی انگلیاں اسکرین پر رک گئیں۔

وہ لکھنا چاہتی تھی، امی! میں خوش نہیں ہوں۔ میں تھک گئی ہوں۔ ہر روز خود کو مضبوط ثابت کرتے کرتے اب اپنے ہی وجود سے اجنبی ہو گئی ہوں۔

لیکن اس نے صرف اتنا لکھا:

"جی امی، بہت خوش ہوں۔ آپ فکر نہ کریں۔"

پیغام بھیج کر اس نے موبائل ایک طرف رکھ دیا اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ جھوٹ ہمیشہ دوسروں سے نہیں بولا جاتا؛ بعض اوقات انسان اپنے پیاروں کے سکون کی خاطر، خود کو بھی دھوکا دیتا رہتا ہے۔

اگلی صبح حورین کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ رات بھر رونے کے بعد اس نے فیصلہ کر لیا تھا، کہ اب وہ اپنی زندگی کے بارے میں خاموش نہیں رہے گی۔

حماد ناشتہ کرنے بیٹھا تو اس نے دھیمی آواز میں کہا، "مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔"

حماد نے اخبار سے نظریں اٹھائے بغیر جواب دیا، "جلدی کہو، میرے پاس وقت نہیں۔"

میں اس گھر میں خوش نہیں ہوں۔ مجھے آپ کی دولت نہیں، آپ کی عزت، محبت اور توجہ چاہیے۔ میں آپ کی شریکِ حیات ہوں، آپ کی ملکیت نہیں۔

حماد نے اخبار میز پر پٹخ دیا۔ تمہیں کس چیز کی کمی ہے؟ گھر دیا، آسائشیں دیں، نام دیا! اب اور کیا چاہیے؟

حورین نے پہلی مرتبہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، مجھے وہ احترام چاہیے جو آپ دوسروں کے سامنے میرا تعارف کرواتے وقت ظاہر کرتے ہیں۔ مجھے وہ محبت چاہیے جس کا ذکر آپ محفلوں میں کرتے ہیں۔ مجھے وہ انسان چاہیے جس کا بھرم آپ نے سب کے سامنے قائم کر رکھا ہے۔

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

حماد کے پاس دولت تھی، دلائل تھے۔ بلند مرتبے کا غرور تھا مگر اس ایک سوال کا جواب نہیں تھا۔

چند دن بعد حورین اپنی ماں کے گھر واپس آ گئی۔

ابتدا میں لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں۔ کسی نے کہا، "اتنے اچھے گھر کو چھوڑ آئی!" کسی نے اس کی تربیت پر سوال اٹھایا اور کسی نے حماد کی شرافت کی قسمیں کھائیں۔ حورین سب سنتی رہی۔ پھر ایک روز اس کی ماں نے اسے اپنے پاس بٹھا کر پوچھا، "بیٹا، کیا تمہیں اپنے فیصلے پر افسوس نہیں ہوتا؟ لوگ تمہارے بارے میں کیا کچھ کہتے ہیں!"

حورین نے ماں کے ہاتھ تھام لیے۔ امی! لوگ میرے بارے میں جو بھی کہیں مگر کم از کم اب مجھے ہر روز خود سے یہ جھوٹ نہیں بولنا پڑتا؛ کہ میں خوش ہوں۔ آپ نے ہمیشہ میری مسکراہٹ پر یقین کیا، کبھی میری آنکھوں کو نہیں پڑھا۔ میں چاہتی ہوں کہ اب آپ مجھے ٹوٹا ہوا قبول کریں۔

ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔ اس لمحے دونوں کے درمیان برسوں سے قائم ایک اور بھرم ٹوٹ گیا تھا؛ یہ بھرم کہ خاموشی ہمیشہ عزت بچاتی ہے۔ اور برداشت ہر رشتے کو قائم رکھتی ہے۔

کھڑکی کے باہر بارش تھم چکی تھی۔ آسمان پر بادلوں کے پیچھے سے سورج کی کرنیں نمودار ہو رہی تھیں۔

حورین نے کھڑکی کھولی تو تازہ ہوا کا ایک جھونکا کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے گہری سانس لی۔ زندگی شاید اب بھی آسان نہیں تھی مگر پہلی بار وہ اپنی زندگی کی حقیقت سے نظریں نہیں چرا رہی تھی۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ رشتوں کی خوب صورتی، انہیں دنیا کے سامنے بے عیب ثابت کرنے میں نہیں ہے۔ بلکہ ایک دوسرے کے سامنے سچ بولنے کی ہمت رکھنے میں ہے۔

کیونکہ بعض اوقات ایک رشتے کو بچاتے بچاتے انسان خود کو کھو دیتا ہے۔ اور جس دن وہ خود کو تلاش کرنے نکلتا ہے، سب سے پہلے اسی کے ٹوٹنے کا شور سنائی دیتا ہے۔ جسے دنیا برسوں سے قائم سمجھ رہی ہوتی ہے۔ اور شاید زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے، کہ لوگ بھرم ٹوٹنے پر ماتم کرتے ہیں مگر اس حقیقت کو دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے، جس نے اس بھرم کو جنم دیا تھا۔