تکلیف اور درد زندگی کے وہ استاد ہیں جن کی کوئی کتاب نہیں ہوتی، کوئی کلاس نہیں ہوتی، مگر ان کے سبق انسان عمر بھر نہیں بھولتا۔ خوشی کے لمحے تو اکثر گزر جاتے ہیں، تالیوں کی گونج خاموش ہو جاتی ہے، مگر درد انسان کے اندر اتر کر اسے اپنے آپ سے ملاتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ وہ کتنا نازک ہے، کتنا محتاج ہے، اور کتنا بے بس۔
اسی طرح جسمانی چوٹ انسان کی زندگی کا ایک ایسا تجربہ ہے جس سے شاید ہی کوئی شخص مکمل طور پر محفوظ رہتا ہو۔ کبھی کھیل کے میدان میں معمولی سی ٹھوکر لگ جاتی ہے، کبھی باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے ہاتھ زخمی ہو جاتا ہے، کبھی سڑک پر ایک لمحے کی غفلت حادثے میں بدل جاتی ہے، اور کبھی گھر میں معمولی سی بے احتیاطی بھی تکلیف کا سبب بن جاتی ہے۔ چوٹ چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، وہ چند لمحوں کے لیے انسان کو اس حقیقت کا احساس ضرور دلاتی ہے کہ صحت کتنی قیمتی نعمت ہے اور ہم اس نعمت کا شکر تک ادا نہیں کرتے۔۔۔
اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے:
وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ
"اور اگر تم اللّٰہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔" (سورۃ ابراہیم: 34)
صحت، سلامتی، چلتا پھرتا وجود، یہ سب انہی ان گنت نعمتوں میں سے ہیں جن کا احساس ہمیں تب ہوتا ہے جب ہم بستر سے لگ جاتے ہیں۔
کبھی کبھی تکلیف صرف جسم تک محدود نہیں رہتی۔ کبھی تکلیف کسی اپنے کے بدل جانے سے بھی ملتی ہے۔ کبھی کسی رشتے کی خاموشی سے، کبھی امید کے ٹوٹنے سے، اور کبھی ان حالات سے جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ انسان بظاہر مسکراتا رہتا ہے، لوگوں سے باتیں کرتا ہے، اپنے معمولات نبھاتا ہے، مگر دل کے کسی کونے میں ایک ایسا درد چھپا ہوتا ہے جس کا ذکر وہ کسی سے نہیں کرتا۔ جسمانی زخم تو مرہم سے بھر جاتے ہیں، مگر دل کے زخموں کو وقت اور صبر چاہیے ہوتا ہے۔
چوٹ کا درد صرف جسم تک محدود نہیں رہتا۔ جب انسان کسی جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔ چلنا، بیٹھنا، کام کرنا، پڑھنا یا روزمرہ کے معمولات انجام دینا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو دوسروں کی مدد اور ہمدردی کی قدر پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہاتھ جو پانی کا گلاس تھما دے، وہ لہجہ جو تسلی دے دے، وہ سب کسی دوا سے کم نہیں لگتا۔
ہمیں لگنے والی ہر چوٹ احتیاط کا سبق بھی دیتی ہے۔ تیز رفتاری، حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کرنا، کھیل کے دوران بے احتیاطی یا کام کی جگہ پر حفاظتی اصولوں سے غفلت، بعض اوقات معمولی غلطی کو بڑی تکلیف میں بدل دیتی ہے۔ اس لیے احتیاط محض ایک نصیحت نہیں بلکہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔ اسلام نے بھی اسی ذمہ داری کا درس دیا ہے کہ اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
چوٹ لگنے کے بعد سب سے اہم بات گھبرانے کے بجائے مناسب ابتدائی مدد حاصل کرنا ہے۔ معمولی زخم میں صفائی اور مناسب مرہم پٹی ضروری ہو سکتی ہے، جبکہ شدید درد، زیادہ خون بہنے، ہڈی کے متاثر ہونے یا حرکت میں غیر معمولی دشواری کی صورت میں طبی ماہر سے فوری مدد لینا چاہیے۔ خود سے ہر چوٹ کا علاج کرنا یا سنی سنائی باتوں پر عمل کرنا ہمیشہ مناسب نہیں ہوتا۔
ہمیں زخمی انسان کے ساتھ بھی وہی ہمدردی اختیار کرنی چاہیے جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔ کسی کی تکلیف کو معمولی سمجھ کر مذاق اڑانا یا یہ کہنا کہ "اتنی سی تو چوٹ ہے" اس کے درد کو کم نہیں کرتا۔ بعض اوقات چند تسلی کے الفاظ اور بروقت مدد کسی تکلیف زدہ شخص کے لیے بہت بڑا سہارا بن جاتی ہے۔
قرآن ہمیں اسی صبر اور امید کا درس دیتا ہے:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
"بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔" (سورۃ الشرح: 5-6)
یہ آیت بتاتی ہے کہ کوئی بھی درد، کوئی بھی چوٹ، کوئی بھی غم مستقل نہیں۔ ہر مشکل کے ساتھ ہی اس کی آسانی بھی لکھی جا چکی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر درد صرف توڑنے نہیں آتا۔ کچھ درد انسان کو جوڑتے بھی ہیں، مضبوط بھی کرتے ہیں۔ وہ سکھاتے ہیں کہ ہر تعلق ہمیشہ ساتھ نہیں رہتا، ہر وعدہ پورا نہیں ہوتا اور ہر خواہش کا انجام ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتا۔ یہی احساس انسان کو صبر، برداشت اور حقیقت کو قبول کرنے کا ہنر دیتا ہے۔
زندگی میں جب تکلیف آئے تو اسے اپنی پوری زندگی کا فیصلہ نہ سمجھیں۔ وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں اور دل کے زخم بھی آہستہ آہستہ ہلکے پڑتے ہیں۔ بعض اوقات جس درد کو ہم اختتام سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہی کسی نئے آغاز کا دروازہ بن جاتا ہے۔
درد کو اپنی شناخت نہ بننے دیں، اسے اپنی زندگی کا ایک باب بننے دیں۔ وہ باب جس نے آپ کو گرنا اور پھر سنبھلنا سکھایا ہو۔
اس لیے احتیاط کیجیے! حفاظتی اصولوں پر عمل کیجیے اور دوسروں کی تکلیف کو بھی اپنی تکلیف سمجھ کر ان کا ساتھ دیجیے۔ جسمانی چوٹ شاید چند دن کی آزمائش ہو مگر احتیاط اور صبر پوری زندگی کو محفوظ اور پر سکون بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں






