چھوٹے بچوں میں ضد، غصے میں زمین پر لیٹنا، چیخنا چلانا،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
گزشتہ دنوں کلینک میں ایک ماں اپنے ساڑھے تین سال کے بچے کو لے کر آئیں تو ان کے چہرے پر بے بسی اور پریشانی صاف عیاں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کل شام جب وہ ایک قریبی مارکیٹ میں خریداری کر رہی تھیں تو بچے نے اچانک ایک مخصوص کھلونا لینے کی ضد کر دی۔ جب ماں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ کھلونا اس کے پاس پہلے سے موجود ہے، تو بچے نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر چیخنا شروع کر دیا، ہاتھ پاؤں مارے اور بازار کے عین درمیان فرش پر لیٹ کر تڑپنے لگا۔ ماں نے شرمندگی اور گھبراہٹ کے عالم میں پہلے اسے ڈانٹا، پھر منتیں کیں، اور جب لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تو آخر کار مجبور ہو کر وہی کھلونا خرید کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ کھلونا ملتے ہی بچے کا رونا پل بھر میں تھم گیا۔ یہ منظر صرف اس ایک ماں کا نہیں بلکہ آج ہمارے معاشرے کے لاتعداد گھرانوں کا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، جہاں والدین بچوں کے اس غیر معمولی رویے کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔
طبی اور نفسیاتی زبان میں اس کیفیت کو "ٹیمپر ٹینٹرم" یعنی غصے اور ضد کے دورے کہا جاتا ہے۔ عام طور پر ایک سے چار سال کی عمر کے دوران یہ کیفیت شدت اختیار کرتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ کوئی لاعلاج ذہنی مرض نہیں بلکہ بچے کے اعصابی اور جذباتی ارتقا کا ایک نازک مرحلہ ہے۔ اس عمر میں بچے کے دماغ کا وہ حصہ جو منطق اور صبر کو کنٹرول کرتا ہے، ابھی پوری طرح پختہ نہیں ہوا ہوتا، جبکہ اس کے جذبات پوری شدت کے ساتھ بیدار ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس رویے کے پس پردہ سب سے بڑا سبب ابلاغ کی کمی ہے۔ بچہ اپنے اندر کی الجھن، مایوسی، تھکن یا جسمانی تکلیف کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتا، چنانچہ جب سامنے والا اس کی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے تو وہ شدید بے بسی کا شکار ہو کر چیخنے، زمین پر گرنے اور ہاتھ پاؤں چلانے پر اتر آتا ہے۔ اس کے علاوہ نیند کا پورا نہ ہونا، بھوک کی شدت، اور شاپنگ مالز یا شادی بیاہ کے ہجوم میں حسی دباؤ بھی اس اشتعال کو ہوا دیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اکثر والدین جانے انجانے میں بچے کو یہ سکھا دیتے ہیں کہ زمین پر لیٹنا اور چیخنا اپنی بات منوانے کا سب سے کارگر ہتھیار ہے، کیونکہ جب بھی بچہ تماشا لگاتا ہے، والدین اپنی جان چھڑانے کے لیے اس کا ناجائز مطالبہ مان لیتے ہیں۔
ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے والدین کو اپنے رویے میں سنجیدہ اور مستقل تبدیلی لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلا اور سنہری اصول یہ ہے کہ جب بچہ غصے کے عروج پر ہو تو والدین اپنا آپ ہرگز نہ کھوئیں، کیونکہ غصے کا جواب غصے سے دینے سے آگ پر تیل چھڑکنے کا کام ہوتا ہے۔ اس وقت بچے کو نہ تو لمبی نصیحت کریں اور نہ ہی ڈانٹیں، بلکہ صرف اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ کسی نوکیلی چیز سے ٹکرا کر خود کو زخمی نہ کر لے۔ جب بچہ محفوظ جگہ پر لیٹ کر چیخ رہا ہو تو اسے پرسکون انداز میں بالکل نظر انداز کر دیں، تاکہ اسے اندازہ ہو کہ اس تماشے کا کوئی خریدار نہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کے رونے یا ضد کے دباؤ میں آ کر اپنی کہی ہوئی "نہ" کو کبھی "ہاں" میں نہ بدلیں۔ اگر آپ نے سو میں سے ایک بار بھی اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے تو وہ سمجھ جائے گا کہ اگلی بار تھوڑی زیادہ دیر چیخنے سے مقصد حاصل ہو جائے گا۔ جب دورہ ختم ہو جائے اور بچہ بالکل پرسکون ہو جائے، تب اسے گلے لگائیں، پیار دیں اور سمجھائیں کہ غصہ آنا برا نہیں لیکن چیخنا اور زمین پر لوٹنا غلط بات ہے۔
ہومیوپیتھی طریقہ علاج میں ایسے بچوں کی باقاعدہ مزاجی علامات کو پرکھ کر مکمل شفا دی جاتی ہے۔ اگر بچہ دانت نکالنے کے زمانے میں انتہائی چڑچڑا، بد مزاج ہو جائے اور کسی چیز کی ضد کرے مگر ملنے پر غصے سے پھینک دے اور صرف گود میں اٹھا کر جھلانے سے چپ ہو، تو 'کیمومیلا' اس کی بے مثال دوا بنتی ہے۔ جن بچوں میں پیٹ کے کیڑوں کا شبہ ہو، وہ کسی کو اپنے قریب نہ آنے دیں، چھونے پر چیخیں اور بار بار ناک رگڑتے ہوں، وہاں 'سینا' جادو اثر ثابت ہوتی ہے۔ تیز مزاج، بدہضمی کا شکار اور معمولی مخالفت برداشت نہ کرنے والے بچوں میں 'نکس وامیکا' بہترین کام کرتی ہے، خاص طور پر وہ بچے جو زیادہ سکرین دیکھتے ہوں یا غیر معیاری خوراک کے عادی ہوں۔ اگر غصے کا دورہ اچانک اور دیوانہ وار ہو، بچہ مارنے، کاٹنے اور چیزیں توڑنے پر اتر آئے اور چہرہ سرخ ہو جائے تو 'بیلاڈونا' مفید رہتی ہے۔ جو بچے مسلسل تخریبی سرگرمیوں میں لگے رہیں، بے چین ہوں اور روکنے پر زمین پر گر جائیں، ان کے لیے 'ٹیوبرکولینم' معاون ہوتی ہے۔ نہانے دھونے سے چڑنے والے اور خود رائے بچوں کے لیے 'سلفر' کا استعمال مزاج کو اعتدال پر لاتا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے بچے کو متوازن رکھنے کے لیے روزمرہ کے معمولات کو منظم بنانا انتہائی ضروری ہے۔ بچے کو سیدھا حکم سنانے کے بجائے محدود اختیارات دیں، مثلاً دودھ پینے پر اصرار کرنے کے بجائے پوچھیں کہ دودھ لال کپ میں پینا ہے یا نیلے میں۔ اس سے بچے کی خود مختاری کی تسکین ہوتی ہے اور ضد کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ کسی بھی سرگرمی کو اچانک بند کرانے کے بجائے چند منٹ پہلے آگاہ کریں کہ اب کھیل ختم ہونے والا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، جب بھی بچہ کسی موقع پر بغیر ضد کیے سکون سے بات مانے، تو اس کی دل کھول کر تعریف کریں تاکہ وہ منفی تماشے کے بجائے مثبت رویے سے آپ کی توجہ حاصل کرنا سیکھے۔ محبت، مستقل مزاجی، مناسب ہومیوپیتھک رہنمائی اور ٹھوس نفسیاتی حکمت عملی کے ذریعے اس کیفیت پر بغیر کسی سختی کے مکمل قابو پایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں





