ایک وعدہ جو وقت کی گرد میں دھندلا گیا تھا،تحریر: ماہ جبین اظہر
نقطہ نظر
شادی کے تیس سال بعد ایک دن عمران نے گھر کے اسٹور روم میں رکھا پرانا صندوق کھولا۔ مقصد تھا پرانے سامان کو چھانٹ کر کباڑی کے حوالے کرنا، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اس صندوق میں پرانے سامان کے ساتھ اس کی زندگی کا ایک ایسا باب بھی محفوظ ہے، جو وقت کی گرد تلے دب جانے کے باوجود آج بھی زندہ ہے۔
صندوق کھولتے ہی پرانے کپڑوں، کتابوں اور کاغذات کے درمیان اسے ایک تہہ شدہ کاغذ نظر آیا۔ عمران نے احتیاط سے اسے اٹھایا اور کھولا تو اس کی نظریں وہیں ٹھہر گئیں۔ یہ ایک پرانی ڈرائنگ تھی، جس کے کاغذ کا رنگ وقت کے ساتھ زرد پڑ چکا تھا، مگر اس پر بنی تصویر اب بھی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
وہ ڈرائنگ عمران نے دوسری جماعت میں بنائی تھی۔ اس میں خانۂ کعبہ کا منظر تھا اور دو ننھے سے بچے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے طواف کر رہے تھے۔ وہ تصویر اس نے ماہم کو دیتے ہوئے کہا تھا:
"وعدہ کرو، ایک دن تم اسی طرح میرا ہاتھ پکڑ کر میرے ساتھ خانۂ کعبہ کا طواف کرو گی۔"
ماہم نے اس وقت معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا تھا۔
اس عمر میں دونوں کو کہاں معلوم تھا کہ بچوں کی زبان سے نکلا ہوا یہ چھوٹا سا وعدہ ایک دن ان کی پوری زندگی کا حصہ بن جائے گا۔ انہیں تو بس ایک دوسرے کا ساتھ اچھا لگتا تھا، ایک دوسرے کی بات سمجھ آتی تھی اور شاید یہی معصوم سی محبت وقت کے ساتھ ایک مضبوط رشتے میں بدلنے والی تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ دونوں پڑھائی کے میدان میں آگے بڑھتے رہے۔ بچپن کی دوستی آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی، مگر اس محبت میں شور نہیں تھا، صرف احترام، عزت اور ایک دوسرے کے لیے خلوص تھا۔
عمران نے تعلیم مکمل کی اور ایک اچھی کمپنی میں ملازمت حاصل کرلی۔ حالات بہتر ہوئے تو اس نے ماہم کے گھر رشتہ بھیجا۔ دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ان کی شادی ہوگئی۔ یوں بچپن کا ساتھی زندگی کا ہم سفر بن گیا۔
شادی کے ابتدائی سال خوشیوں میں گزرے، مگر زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ ایک جھوٹے الزام نے عمران کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ اسے ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ اچانک خوش حالی نے تنگ دستی کا روپ دھار لیا۔ گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہونے لگے۔
عمران نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے چھوٹی بڑی ملازمتیں کیں، کئی جگہ درخواستیں دیں، انٹرویوز دیے اور کبھی کبھی ناکامی کے بعد تھکا ہارا گھر لوٹا۔ مگر ماہم نے کبھی اسے احساس نہیں ہونے دیا کہ حالات نے ان دونوں کے درمیان کوئی کمی پیدا کردی ہے۔
وہ ہر قدم پر عمران کے ساتھ کھڑی رہی۔ کبھی اس کی پریشانیوں کا شکوہ نہ کیا اور نہ ہی اسے اس پرانے وعدے کی یاد دلائی۔ خانۂ کعبہ کی وہ ڈرائنگ بھی کہیں محفوظ تھی اور وعدہ بھی، مگر دونوں خاموش تھے۔
کبھی ماہم کسی کتاب یا تصویر میں خانۂ کعبہ کا منظر دیکھتی تو چند لمحوں کے لیے اس کی آنکھیں ٹھہر جاتیں۔ دل کے کسی کونے میں وہ معصوم وعدہ آج بھی سانس لے رہا تھا، مگر وہ جانتی تھی کہ وعدوں کی تکمیل صرف خواہش سے نہیں، وقت اور حالات کے ساتھ ہوتی ہے۔
پھر وقت نے ایک بار پھر عمران کا ساتھ دیا۔ اس کی محنت، دیانت داری اور مستقل مزاجی رنگ لے آئی۔ اسے ایک اچھی کمپنی میں ملازمت مل گئی اور کچھ عرصے بعد اسے سعودی عرب میں کام کرنے کا موقع بھی مل گیا۔
سعودیہ روانگی سے پہلے عمران اپنا سامان سمیٹ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر اسی پرانی ڈرائنگ پر پڑی۔ اس نے کاغذ کو ہاتھ میں لیا اور دیر تک اسے دیکھتا رہا۔ خانۂ کعبہ کے سامنے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دو ننھے بچے جیسے اسے تیس برس پیچھے لے گئے۔
اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
اسے ماہم کا وہ معصوم چہرہ یاد آیا، اس کی مسکراہٹ یاد آئی اور سب سے بڑھ کر اپنا وہ وعدہ یاد آگیا۔
وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس نے ڈرائنگ کو سینے سے لگا لیا۔
سعودی عرب پہنچنے کے بعد پہلے ہی جمعے عمران ماہم کو ساتھ لے کر خانۂ کعبہ پہنچا۔ سامنے بیت اللہ تھا۔ وہی مقدس مقام جسے دیکھنے کا خواب دونوں نے بچپن میں اپنی ایک چھوٹی سی ڈرائنگ میں سجایا تھا۔
ماہم کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ عمران نے خاموشی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
وہی ہاتھ، جسے کبھی ایک ننھے سے بچے نے یہ کہتے ہوئے تھاما تھا کہ ایک دن ہم خانۂ کعبہ کا طواف ساتھ کریں گے۔
دونوں نے طواف شروع کیا۔ ہر چکر کے ساتھ جیسے تیس برس کی آزمائشیں، محرومیاں، دعائیں اور انتظار پیچھے چھوٹتے گئے۔ بچپن کا وہ خواب آج حقیقت بن کر ان کے سامنے تھا۔
طواف مکمل ہوا تو عمران سجدۂ شکر میں جھک گیا۔ اس کے آنسو زمین پر گر رہے تھے اور ماہم خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے، مگر ان آنسوؤں میں دکھ نہیں، شکر تھا۔
اس لمحے دونوں سمجھ چکے تھے کہ زندگی نے ان کا امتحان ضرور لیا، مگر ان کے صبر اور وفا کو شکست نہیں دے سکی۔
کچھ وعدے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔ وہ دل کے کسی کونے میں خاموشی سے زندہ رہتے ہیں اور پھر ایک دن دعا، محبت، صبر اور وفا کے سہارے اپنی تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں۔
عمران اور ماہم کا تیس سال پرانا وعدہ بھی آج مکمل ہوچکا تھا۔
مزید پڑھیں





