محبت سے گندھی دوستی میں شکریہ کیسا؟ تحریر: ایس اے شازِم
نقطہ نظر
رشتوں کی دنیا بھی ایک عجیب بستی ہے۔ کچھ رشتے خون کی سیاہی سے لکھے جاتے ہیں، کچھ وقت کی دھوپ میں پروان چڑھتے ہیں، کچھ ضرورت کی ڈوری سے بندھے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کسی نسب، کسی مفاد اور کسی تمہید کے محتاج نہیں ہوتے۔ محبت سے گندھی دوستی اسی بے غرض بستی کا سب سے روشن چراغ ہے۔ جب دو اجنبی دل ایک دوسرے کی خاموشی کا ترجمہ کرنے لگیں، جب ایک کی آنکھ کی نمی دوسرے کو اپنا زخم لگنے لگے اور جب بغیر آواز دیے کوئی کندھے سے آ لگے، تو سمجھ لیجیے وہاں بے غرض محبت نے جنم لے لیا ہے۔
آج کے اس جدید دور میں ہم دوستوں کے ہجوم میں تنہا کھڑے ہیں۔ فہرستوں میں سینکڑوں چہرے ہیں، رابطوں میں ہزاروں نام ہیں مگر دل کے قریب گنے چنے چند لوگ ہی بچتے ہیں۔ ہم دیواروں پر "سالگرہ کی مبارک باد" اور "اپنا خیال رکھنا" کے رنگ برنگے الفاظ چسپاں کر دیتے ہیں، کامیابی پر تالیاں بجا دیتے ہیں مگر اس تالی کے پیچھے کتنی بے خواب راتیں، کتنے بے آواز آنسو ہیں، یہ دیکھنے کی فرصت نہیں نکالتے۔ کبھی پلٹ کر یہ نہیں پوچھتے کہ "تم واقعی خوش بھی ہو؟" ہم یہ نہیں سوچتے کہ مخاطب اندر سے کس قدر بکھرا ہوا ہے۔
تو پھر یہیں سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ دوستی میں شکریہ کیسا۔۔۔۔؟
شکریہ کہنا بے ادبی نہیں، بلکہ تربیت کی دلیل ہے۔ کسی کے خلوص کی قدر کرنا انسانیت کا تقاضا ہے مگر محبت نما دوستی کا حسن وہاں شروع ہوتا ہے جہاں شکریہ رسم سے نکل کر احساس بن جاتا ہے۔ رسمی شکریہ زبان سے ادا ہوتا ہے جیسے کہ! "آپ نے میرے لیے یہ کیا، شکریہ"۔ جبکہ دل کا شکریہ لفظوں میں نہیں سماتا، وہ آنکھوں میں نمی بن کر ٹھہر جاتا ہے۔ بلکل "تم میرے برے وقت میں میرے ساتھ تھے، میں اسے عمر بھر نہیں بھولوں گا"۔
یہ بھی سچ ہے کہ ایک سچا دوست حساب نہیں رکھتا۔ وہ آپ کی پریشانیوں کی فہرست نہیں بناتا، آپ کے آنسوؤں کا قرض اپنی کتاب میں درج نہیں کرتا۔ وہ بس آ جاتا ہے، جیسے بارش کے بعد مٹی کی خوشبو بغیر بلائے آ جاتی ہے۔ آج کے نفع و نقصان کے زمانے میں جہاں ہر رشتہ ترازو میں تولا جاتا ہے، وہاں ایسی بے غرض محبت نما دوستی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی مگر ہم نے محبت کو بھی لین دین بنا دیا ہے۔ کسی نے تحفہ دیا تو جوابی تحفہ فرض، کسی نے وقت دیا تو ہم اسے قرض سمجھنے لگے۔ حالانکہ دوستی کا کمال حساب رکھنے میں نہیں، حساب بھول جانے میں ہے۔
کسی نے پوچھا، "تم نے میرے لیے اتنا کچھ کیا، میں تمہارا شکریہ کیسے ادا کروں؟" دوست مسکرایا اور بولا، "جب کبھی مجھے تمہاری ضرورت ہو اور تم چلے آؤ، میں سمجھوں گا میرا شکریہ ادا ہو گیا۔"
دوستی کا اصل شکریہ یہی ہے۔ وہ تمہارے لیے رات بھر جاگا تھا، تم اس کے لیے اس کی کسی مشکل گھڑی میں جاگ جاؤ۔ وہ تمہاری خاموشی سمجھ گیا تھا، تم بھی کبھی اس کے خاموش چہرے کو پڑھ لو اور اس کے ماتھے پر آئی شکنیں دور کرنے کی کوشش کرو۔ وہ تمہارے گرنے پر تمہیں تھام چکا ہے، تو تم بھی اس کے لڑکھڑانے پر اسے سہارا دے دو۔
محبتی دوستی میں کبھی کبھی لفظوں کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ایک مختصر سا پیغام "خیریت؟" پورے وجود کو حوصلہ دے جاتا ہے۔ ایک اچانک کال "بس سوچا تم سے بات کر لوں" تنہائی کی پوری رات کو اجال دیتی ہے۔ اور صرف اتنا کہنا "تم فکر نہ کرو اور پریشان بالکل نہیں ہونا، میں ہوں نا! کرتا ہوں کچھ" اندر کی ساری ٹوٹ پھوٹ کو جوڑ دیتا ہے۔ ایسے لمحوں میں شکریہ واقعی بہت چھوٹا لفظ محسوس ہوتا ہے۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھو! احسان جتانا محبت میں گندھی دوستی کا حسن کھا جاتا ہے۔ خلوص وہی ہے جو کر کے بھول جائے اور محبت وہی ہے جو روشنی بانٹ کر یہ نہ دیکھے کہ روشنی کس کے حصے میں گئی۔
آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گی کہ اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں بہت سے لوگ ملتے ہیں۔ کچھ راستے میں سلام کر کے گزر جاتے ہیں، کچھ منزل تک ساتھ چلتے ہیں، کچھ منزل پر پہنچ کر بھی بچھڑ جاتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو راستہ بدل جانے کے باوجود دل سے نہیں اترتے۔ فاصلے بڑھ جائیں تو بھی قربت کم نہیں ہوتی، مہینوں کیا سالوں بات نہ ہو تو بھی اجنبیت نہیں آتی اور برسوں بعد ملیں تو لگتا ہے کل ہی تو جدا ہوئے تھے۔
ایسی دوستی میں بھلا شکریہ کیسا؟ وہاں شکریہ لفظ نہیں رہتا، دعا بن جاتا ہے۔
آخر میں دل بس یہی کہتا ہے کہ؛
'تم نے اپنا سمجھ کر ساتھ دیا تھا، میں نے بھی تمہیں اپنے دل میں رکھ لیا اور جو دل میں ہوں انہیں بس محفوظ رکھا جاتا ہے "لوگوں کے کی بری نظر سے، دکھ سے، تکلیف سے اور حاسدین سے۔۔۔!!
دوست تو ہے اب بھی وہ، شاید محبت نہیں رہی
شازِم نے میری مخلصی پر "شکریہ" جو کہہ دیا!!





