خواہشات کا انسان کی زندگی میں کردار،تحریر: بشریٰ سلیم

خواہش انسان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہر انسان کے دل میں مختلف خواہشات پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ کوئی اچھا گھر بنانا چاہتا ہے، کوئی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتا ہے، کوئی اچھی ملازمت حاصل کرنا چاہتا ہے اور کوئی اپنے ملک و قوم کے لیے کچھ بڑا کرنا چاہتا ہے۔ خواہشات ہی انسان کو آگے بڑھنے، محنت کرنے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ اگر انسان کے دل میں کوئی مقصد اور خواہش نہ ہو تو اس کی زندگی بے مقصد اور بے رنگ ہو سکتی ہے۔
خواہشات انسان کو محنت اور جدوجہد کا راستہ دکھاتی ہیں۔ ایک طالب علم کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرے۔ اس خواہش کی وجہ سے وہ باقاعدگی سے پڑھتا، وقت کی پابندی کرتا اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح ایک کسان اچھی فصل کی خواہش میں زمین تیار کرتا، بیج بوتا اور فصل کی دیکھ بھال کرتا ہے۔
خواہشات انسان کو مستقبل کے بارے میں سوچنے اور اپنی زندگی کو بہتر انداز میں منظم کرنے کا موقع دیتی ہیں۔ جب انسان اپنے مستقبل کے لیے کوئی مقصد مقرر کرتا ہے تو وہ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کرتا ہے۔ ایک اچھا مقصد انسان کو بے مقصد سرگرمیوں سے بچاتا ہے اور اسے کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
لیکن خواہشات ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتیں۔ اگر انسان اپنی خواہشات کو قابو میں نہ رکھے تو وہ پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ضرورت سے زیادہ دولت، شہرت، آرام اور دوسروں سے آگے نکلنے کی خواہش انسان کو بے سکون کر سکتی ہے۔ بعض اوقات انسان اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے غلط راستہ بھی اختیار کر لیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو عقل، اصول اور اخلاق کے مطابق رکھے۔
انسان کو اپنی خواہشات اور ضروریات میں فرق سمجھنا چاہیے۔ ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ سمجھ دار انسان پہلے اپنی بنیادی ضروریات پوری کرتا ہے اور پھر اپنی جائز خواہشات کے لیے کوشش کرتا ہے۔ ایسا توازن انسان کو پرسکون زندگی دیتا ہے۔
خواہشات کو پورا کرنے کے لیے صبر، مستقل مزاجی اور محنت بھی بہت ضروری ہے۔ ہر کامیابی فوراً حاصل نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اسے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ ناکامی سے سبق سیکھ کر دوبارہ کوشش کرنی چاہیے۔ کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو اپنی خواہش کو واضح مقصد میں بدلتا ہے اور اس مقصد کے لیے مسلسل محنت کرتا ہے۔
خواہشات صرف ذاتی فائدے تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔ انسان کو اپنے والدین، خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے بھی اچھی خواہشات رکھنی چاہئیں۔ والدین کی خدمت کرنا، دوسروں کی مدد کرنا، غریبوں کا خیال رکھنا، علم حاصل کرنا، سچ بولنا اور ملک کی ترقی میں حصہ لینا بہترین خواہشات ہیں۔ ایسی خواہشات شخصیت کو خوبصورت بناتی ہیں۔
موجودہ دور میں اشتہارات اور سوشل میڈیا سے نئی خواہشات پیدا ہوتی ہیں۔ ہمیں ہر دکھائی دینے والی چیز حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ جو چیز ہم چاہتے ہیں، کیا وہ واقعی ہمارے لیے ضروری اور فائدہ مند ہے؟ دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے انسان کو اپنی صلاحیتوں، حالات اور مقاصد پر توجہ دینی چاہیے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواہشات انسان کی زندگی کا اہم محرک ہیں۔ اچھی اور جائز خواہشات انسان کو محنت، ترقی اور کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں، جبکہ بے قابو خواہشات پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی خواہشات کو مثبت، حقیقت پسندانہ اور اخلاقی رکھنا چاہیے۔ ہمیں خواب ضرور دیکھنے چاہئیں، لیکن انہیں پورا کرنے کے لیے محنت، صبر اور درست راستے کا انتخاب بھی ضروری ہے۔ یہی متوازن خواہشات انسان کی زندگی کو بامقصد، خوشحال اور کامیاب بناتی ہیں
مزید پڑھیں





