Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فوڈ کورٹ کی چمک اور غریب کی بجھتی ہوئی امید،تحریر: طارق نوید سندھو

نقطہ نظر
tariq naveed blog

قصور میں فوڈ کورٹ کی چمکتی روشنیاں یقیناً دیکھنے میں خوبصورت ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اس روشنی کی چمک اُن پسماندہ علاقوں تک کب پہنچے گی جہاں آج بھی شہری کچی گلیوں، ٹوٹی سڑکوں، ابلتی نالیوں، بدبودار سیوریج اور بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟

فوڈ کورٹ کی چمک اپنی جگہ، مگر غریب کی بجھتی ہوئی امید کا کیا؟

قصور کو ’’سوہنا شہر‘‘ بنانے کے دعوے اپنی جگہ، لیکن شہر کی اصل خوبصورتی چند مرکزی مقامات کو سجانے سے نہیں بلکہ ان گلیوں کو سنوارنے سے ہوگی جہاں عام آدمی رہتا ہے۔ اگر پسماندہ محلوں میں بارش ہوتے ہی گلیاں جوہڑ بن جائیں، نالیاں ابل پڑیں، سیوریج گھروں کے سامنے جمع ہو اور لوگ بنیادی سہولیات کے لیے ترستے رہیں تو پھر بڑے بڑے ترقیاتی دعوے شہریوں کے سوالات کا جواب نہیں بن سکتے۔

آج کا غریب پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے۔ بجلی اور گیس کے بل، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتیں، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مختلف ٹیکسز، فیسیں اور چالان—عام شہری کی آمدن کو چاروں طرف سے دباؤ کا سامنا ہے۔

جس شخص کے گھر کا چولہا مشکل سے جل رہا ہو، وہ فوڈ کورٹ کی مہنگی رونقوں میں اپنا حصہ کہاں تلاش کرے؟

کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ شہر کے ایک حصے میں جدید تفریحی مقامات آباد ہوں اور دوسرے حصے میں بچے ٹوٹی گلیوں اور گندے پانی کے درمیان کھیلیں؟ کیا ’’سوہنا شہر‘‘ کا خواب صرف مرکزی سڑکوں اور خوبصورت مقامات تک محدود ہے، یا اس خواب میں وہ پسماندہ بستیاں بھی شامل ہیں جہاں آج بھی بنیادی شہری سہولیات ایک خواب ہیں؟

حکومتیں عوام سے ٹیکس لیتی ہیں، مختلف مدات میں فیسیں وصول کرتی ہیں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان کرتی ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ذریعے بھی عوام کی جیب متاثر ہوتی ہے۔ یقیناً ریاست کو محصولات درکار ہوتے ہیں، مگر شہری یہ سوال کرنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ ان کی جیب سے نکلنے والے پیسے کے بدلے ان کی زندگی میں آسانی کہاں پیدا ہو رہی ہے؟

قصور کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو بھی حق ہے کہ ان کی گلیاں پکی ہوں، نالیاں صاف ہوں، سیوریج کا نظام درست ہو، بارش کا پانی کھڑا نہ ہو، صاف پانی میسر ہو اور ان کے بچوں کو بھی بہتر ماحول ملے۔

فوڈ کورٹ میں چند گھنٹوں کی رونق شاید شہر کی تصویر خوبصورت بنا دے، مگر پسماندہ علاقے کی ایک پکی گلی پورے خاندان کی زندگی بدل سکتی ہے۔

لہٰذا سوال فوڈ کورٹ بنانے پر اعتراض کا نہیں، ترجیحات کا ہے

قصور کو اگر واقعی ’’سوہنا شہر‘‘ بنانا ہے تو ترقی کا رخ صرف ان جگہوں کی طرف نہ ہو جہاں پہلے ہی سہولیات موجود ہیں۔ ترقی کا اصل امتحان تو وہاں ہونا چاہیے جہاں سہولت سب سے کم اور ضرورت سب سے زیادہ ہے۔

ڈی سی قصور اور متعلقہ حکام سے سوال ہے کہ کیا پسماندہ علاقوں کی کچی گلیوں کی مکمل نشاندہی کرکے انہیں پختہ کرنے کا کوئی واضح منصوبہ موجود ہے؟

کیا ابلتی نالیوں اور ناقص سیوریج کے مستقل حل کے لیے ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے؟

کیا ترقیاتی منصوبوں میں غریب آبادیوں کو بھی وہی اہمیت دی جا رہی ہے جو مرکزی علاقوں کو حاصل ہے؟

اور سب سے بڑھ کر—کیا قصور کا ’’سوہنا شہر‘‘ صرف فوڈ کورٹ کی روشنیاں ہیں، یا اس میں غریب کی کچی گلی بھی شامل ہے؟

عوام کو صرف خوبصورت منصوبوں کی تصاویر نہیں چاہییں؛ انہیں اپنے محلوں میں عملی تبدیلی چاہیے۔کیونکہ جب ایک طرف فوڈ کورٹ جگمگا رہا ہو اور دوسری طرف پسماندہ بستی کی گلی میں گندا پانی کھڑا ہو تو سوال اٹھنا فطری ہے۔

شہر کی اصل ترقی وہ نہیں جو صرف نظر آئے، اصل ترقی وہ ہے جو غریب کی زندگی آسان بنائے۔

اور اگر غریب کی گلی آج بھی کچی ہے، نالی آج بھی ابل رہی ہے، نوجوان آج بھی بے روزگار ہے اور گھر کا بجٹ مہنگائی کے ہاتھوں بکھر رہا ہے تو پھر فوڈ کورٹ کی چمک کے ساتھ غریب کی بجھتی ہوئی امید کا حساب بھی دینا ہوگا۔