Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف، سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

میرا نام سید علی جبران نقوی ہے، ابنِ پروفیسر سید اسرار حسین نقوی، اور تعلق لاہور سے ہے۔


میرا پیشہ ورانہ اور عملی سفر ایک ہی شعبے تک محدود نہیں رہا۔ تعلیم، ابلاغ، صحافت، ڈیجیٹل میڈیا، نوجوانوں کی رہنمائی، کیریئر کونسلنگ، بزنس ڈویلپمنٹ اور سماجی شعور کے مختلف میدانوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔


تعلیم میرے سفر کا ابتدائی اور اہم حوالہ ہے۔ والدِ محترم پروفیسر سید اسرار حسین نقوی کے تعلیمی ادارے آکسفورڈ سکول آف سائنس اور اکیڈمی ملتان میں اور ٹبہ سلطان پور تحصیل میلسی ضلع وہاڑی سے سالہا سال وابستگی کے دوران تدریس، طلبہ کی تربیت اور تعلیمی رہنمائی کے میدان میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ نوجوانوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ کسی معاشرے کی حقیقی ترقی صرف عمارتوں اور ڈگریوں سے نہیں بلکہ باشعور، باصلاحیت اور درست سمت رکھنے والی نسل سے ہوتی ہے۔اور سب سے خاس بات یہ کہ مجھ سے پہلے میرے والد محترم پروفیسر سید اسرار حسین نقوی کے شاگرد بھی اس فورم میں بطور لکھاری موجود ہیں جن طلباء کو میں بھی پڑھایا کرتا تھا ،یہ بات میرے لئے قابل فخر ہے کہ ہمارے زیر تعلیم رہنے والے طلباء و طالبات ملک و قوم کا نام خوب روشن کررہے ہیں ۔اسی لیے طلبہ و طالبات کی تعلیمی رہنمائی، کیریئر کونسلنگ، اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور مستقبل کے پیشہ ورانہ راستوں سے متعلق معلومات عام کرنا میرے پسندیدہ کاموں میں شامل رہا ہے۔


صحافت میرے لیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ معاشرے کو سمجھنے اور اس سے مکالمہ کرنے کا ذریعہ ہے۔میرے صحافتی سفر میں مختلف اداروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ شامل ہے، جن میں روزنامہ اپنا اخبار ، روزنامہ مصافحہ ، راز میڈیا گروپ، اور راوی نیوز چینل کے ساتھ مختلف ادوار میں صحافتی ذمہ داریاں شامل رہی ہیں۔ پریس کلب ٹبہ سلطان پور کا چیئرمین مجلس عاملہ رہا اور رپورٹنگ، انٹرویوز، عوامی و معاشرتی مسائل اور مختلف موضوعات پر مواد کی تیاری اس سفر کا حصہ رہے ہیں۔صحافت کے ساتھ ساتھ ابلاغ کے جدید تقاضوں کو سمجھنے اور ڈیجیٹل دنیا میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔



موجودہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں انٹرلنک ملٹی میڈیا ، جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ساتھ ڈیجیٹل میڈیا، میڈیا سیلز، برانڈ پارٹنرشپس، اشتہاری مہمات اور ڈیجیٹل کیمپین سے متعلق کام شامل ہے۔اس شعبے نے مجھے یہ سمجھنے کا موقع دیا کہ آج کا میڈیا صرف اخبارات، ٹی وی اور ریڈیو تک محدود نہیں رہا۔ اب خبر، رائے، ویڈیو، ڈیٹا اور عوامی ردِعمل ایک ہی ڈیجیٹل منظرنامے کا حصہ ہیں۔اسی لیے Digital Media Strategy، Strategic Communication، Content Creation، Business Development، Data Analysis اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ عملی وابستگی میرے پیشہ ورانہ سفر کا اہم حصہ ہے۔



بطور سینئر جرنلسٹ، کالم نگار، تجزیہ کار اور اینکر پرسن میری کوشش رہتی ہے کہ حالاتِ حاضرہ اور معاشرتی مسائل کو محض خبر کے طور پر نہیں بلکہ ان کے پس منظر، اثرات اور انسانی پہلوؤں کے ساتھ سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جائے۔اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تعلیم، نوجوان، کیریئر، اعلیٰ تعلیم، سماجی مسائل، انسانی حقوق، عوامی شعور، معاشرتی رویوں اور حالاتِ حاضرہ جیسے موضوعات پر گفتگو اور پروگرامز کا سلسلہ جاری ہے۔"سید علی جبران نقوی شو" کے ذریعے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین، اہلِ علم اور تجربہ رکھنے والی شخصیات سے گفتگو کے ذریعے ایسی معلومات عوام، بالخصوص نوجوانوں اور طلبہ و طالبات تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے جو ان کے تعلیمی، پیشہ ورانہ اور عملی سفر میں معاون ثابت ہو سکیں۔


میں کالم کو محض اپنی رائے لکھنے کا نام نہیں سمجھتا۔میرے نزدیک کالم نگاری دراصل معاشرے کو پڑھنے، سوال کرنے، مشاہدہ کرنے، مختلف زاویوں کو سمجھنے اور پھر ایک ذمہ دارانہ مکالمہ قائم کرنے کا نام ہے۔تعلیم، نوجوان، کیریئر، سماجی رویے، انسانی حقوق، عوامی شعور اور معاشرتی مسائل میرے نمایاں موضوعات ہیں۔کوشش یہی رہتی ہے کہ مشکل موضوع کو بھی عام قاری کے لیے سادہ، واضح، مدلل اور قابلِ فہم زبان میں پیش کیا جائے اور اختلافِ رائے کو بھی مکالمے کا حصہ سمجھا جائے۔



تعلیمی اعتبار سے بی ایس ماس کمیونیکیشن کی تعلیم ہے، جبکہ ہیومن ریسورسز میں ایسوسی ایٹ ڈگری بھی زیرِ تکمیل ہے۔ اس کے علاوہ ایسوسی ایٹ انجینیئر کی ڈگری رکھتا ہوں ۔ڈیجیٹل دور کے بدلتے تقاضوں کے پیشِ نظر Data Analytics & Business Intelligence، Digital Marketing اور Communication & Soft Skills میں بھی تربیت حاصل کی ہے اور باقاعدہ سرٹیفیکیشن یونیورسٹی سے کی ہے ۔میرا یقین ہے کہ سیکھنے کا سفر کسی ایک ڈگری پر ختم نہیں ہوتا؛ جو شخص ابلاغ، صحافت اور عوام کے ساتھ کام کرتا ہے، اس کے لیے سیکھنا عمر بھر جاری رہتا ہے۔



میرے لیے باغی رائٹرز فورم کی سب سے خوبصورت جہت یہی ہے کہ یہاں قلم، فکر، تحقیق، سوال، مشاہدے اور عوامی مسائل کو گفتگو کا موضوع بنایا جا سکتا ہے۔میری خواہش اور کوشش ہوگی کہ اس فورم میں اپنی تحریروں، مشاہدات، تجربات اور فکری کاوشوں کے ذریعے مثبت اور تعمیری مکالمے میں اپنا حصہ ڈالوں۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک قلم کار کی اصل طاقت اس کے الفاظ کی گونج نہیں بلکہ اس کے الفاظ کی ذمہ داری ہے۔ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس میں عام آدمی کے مسائل، نوجوانوں کے سوالات، تعلیم کے چیلنجز، روزگار کے مسائل، سماجی رویے اور بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضے ایسے موضوعات ہیں جن پر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ گفتگو کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔قلم اگر سوال اٹھاتا ہے تو اسے جواب تلاش کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔اسی سوچ کے ساتھ باغی رائٹرز فورم کے اس علمی و قلمی سفر کا حصہ بننے پر خوش ہوں۔


تمام معزز اراکینِ فورم کو میرا سلام، محبت اور احترام۔


امید ہے کہ یہاں اختلاف بھی علم کے ساتھ ہوگا، گفتگو بھی دلیل کے ساتھ ہوگی، اور قلم بھی ذمہ داری کے ساتھ چلے گا۔آپ سب سے سیکھنے، مکالمہ کرنے اور مل کر کچھ مثبت لکھنے کی امید کے ساتھ۔خلوص و احترام کے ساتھ