Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسلام آباد،راولپنڈی والوں کیلئے مشکل کی گھڑی آنے کو،چار لانگ مارچ رواں ہفتے

جماعت اسلامی،کسان اور پی ٹی آئی کا رخ اسلام آباد کی جانب،سیکورٹی سخت

ICTP
مصنف:

جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں آئندہ ہفتہ سیاسی اور احتجاجی سرگرمیوں کے باعث غیر معمولی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے، مختلف جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے صرف سات روز کے دوران چار بڑے لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔


انتظامیہ نے ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی کو ہائی الرٹ کردیا ہے، پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی انتظامات کے تحت رینجرز اور فوج پہلے ہی مختلف مقامات پر تعینات ہے۔انتظامیہ کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ 20 ستمبر سے شروع ہو کر 27 ستمبر تک جاری رہے گا، جس کے باعث جڑواں شہروں میں ٹریفک، کاروباری سرگرمیوں، تعلیمی اداروں اور شہریوں کی معمول کی نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔


سب سے پہلے 20 ستمبر کو جماعت اسلامی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف بڑا لانگ مارچ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی، چینی، گندم اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔جماعت اسلامی کے مطابق کارکن چار مختلف سمتوں سے اسلام آباد پہنچیں گے۔ جماعت اسلامی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو دھرنا طویل کیا جاسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر یہ احتجاج ایک ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔


اس کے بعد 22 ستمبر کو آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی اور کشمیری مظاہرین کی جانب سے آزاد کشمیر سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔اس احتجاج کے باعث اسلام آباد کی جانب آنے والی شاہراہوں اور شہر کے داخلی راستوں پر اضافی دباؤ پیدا ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے سیکیورٹی اور ٹریفک انتظامات کو مزید سخت کرنے کی تیاری کرلی ہے۔


25 ستمبر کو کسان اور مختلف کسان تنظیمیں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کسان تنظیموں کے نمائندوں سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے اور انہیں لانگ مارچ منسوخ کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔اگر مذاکرات کے ذریعے معاملہ طے نہ ہوسکا تو کسان تنظیموں کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ شیڈول کے مطابق اسلام آباد کی طرف پیش قدمی متوقع ہے۔


احتجاجی سرگرمیوں کا اگلا مرحلہ 27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی صورت میں ہوگا۔ پی ٹی آئی نے انصاف کے حصول کے لیے بڑے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے جماعت اسلامی کے دھرنوں کی حمایت کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث دونوں احتجاجی سرگرمیوں کے دوران سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد اسلام آباد پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔



ممکنہ احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر سیکیورٹی انتظامات شروع کردیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریڈ زون، ڈی چوک، فیض آباد، ترنول، سنگجانی اور شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں کو سیل کرنے کے لیے 400 سے 1000 کنٹینرز منگوائے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں تقریباً 600 کنٹینرز پہلے ہی پہنچ چکے ہیں جبکہ ضرورت کے مطابق تعداد 1000 تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ایک کنٹینر کا یومیہ کرایہ تقریباً 20 ہزار روپے بتایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ مرتبہ اسی نوعیت کے سیکیورٹی انتظامات پر تقریباً 17 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔سیکیورٹی پلان کے تحت اسلام آباد اور راولپنڈی میں 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں، رینجرز اور اینٹی رائٹ فورس کو تعینات کیا جائے گا۔احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں سمیت دیگر ضروری سامان بھی طلب کرلیا گیا ہے، جبکہ حساس مقامات اور اہم تنصیبات کی سیکیورٹی مزید بڑھانے کی تیاری کی جارہی ہے۔پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کیے جانے کے باعث بڑی تعداد میں نفری ڈیوٹی پر موجود رہے گی۔



ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں 30 پی ٹی آئی کارکنوں کے حوالے سے حراستی احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے بھی ممکنہ احتجاج میں شرکت کرنے والے کارکنوں سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے احتجاجی مقامات اور شہر میں داخل ہونے والے راستوں کی نگرانی مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔متوقع احتجاج اور ممکنہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسپتالوں کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور ایمرجنسی انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔دوسری جانب ممکنہ احتجاج کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے کیا جائے گا۔


کاروباری حلقوں نے بھی مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاجروں اور شہریوں کو خدشہ ہے کہ اہم شاہراہوں کی بندش اور ٹریفک میں رکاوٹ سے کاروباری سرگرمیاں اور روزمرہ معمولات متاثر ہوسکتے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران مری روڈ، فیض آباد، ڈی چوک اور ایکسپریس وے سمیت ان علاقوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کریں جہاں احتجاج یا سیکیورٹی اقدامات کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے۔شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ گھروں میں ضرورت کے مطابق ایندھن، نقد رقم اور ضروری ادویات کا انتظام پہلے سے کرلیں تاکہ ممکنہ سڑکوں کی بندش یا کاروباری مراکز کے متاثر ہونے کی صورت میں مشکلات سے بچا جاسکے۔ذرائع کے مطابق 3 ستمبر کو جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران بعض علاقوں میں دکانیں بند رہی تھیں، جس کے باعث شہریوں کو روزمرہ اشیا کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


بلیو ایریا اور ریڈ زون میں قائم دفاتر میں کام کرنے والے افراد کو بھی 20 اور 27 ستمبر کو ممکنہ ٹریفک اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر متبادل انتظامات کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اداروں میں گھر سے کام کرنے یا ملازمین کے لیے متبادل انتظامات کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔