اختلافِ رائے اور ہماری تنگ ہوتی سوچ،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم نے دوسروں کو سمجھنے سے زیادہ انہیں غلط ثابت کرنے میں دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔ کسی سے بات کرتے ہوئے ہماری توجہ اس کی بات سمجھنے پر کم اور اپنے جواب پر زیادہ ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سامنے والا ہماری بات مان لے، ہماری سوچ کو درست تسلیم کرے اور ہمارے نقطۂ نظر سے اتفاق کرے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو جانے کیوں ہمیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس نے ہماری ذات کو رد کر دیا ہے۔ شاید ہم اختلافِ رائے کو محض ایک مختلف سوچ سمجھنے کے بجائے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔
یہ رویہ ہمارے روزمرہ معاملات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ گھر میں کسی کی رائے ہماری رائے سے مختلف ہو تو بات سمجھنے سمجھانے کے بجائے بحث شروع ہو جاتی ہے۔ دوستوں میں کسی معاملے پر اختلاف ہو جائے تو بعض اوقات برسوں کا تعلق چند لمحوں کی تلخی کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہم یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ ایک شخص کا ہم سے مختلف سوچنا ضروری نہیں کہ ہمارے خلاف ہونا بھی ہو۔ ہر اختلاف کے پیچھے مخالفت تلاش کرنا شاید ہماری اپنی سوچ کی تنگی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم خود کو سمجھانے کے لیے دوسروں سے ہمیشہ ایک موقع چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے حالات دیکھیں، ہماری مجبوریوں کو سمجھیں اور ہمارے فیصلوں کے پیچھے موجود وجوہات کو جاننے کی کوشش کریں۔ لیکن جب کسی دوسرے کی باری آتی ہے تو ہم اتنی گنجائش نہیں دیتے۔ ہم چند باتیں سن کر رائے قائم کر لیتے ہیں، کسی کے ایک جملے سے اس کی پوری شخصیت کا فیصلہ کر دیتے ہیں اور پھر اسی فیصلے کو درست ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ شاید ہم دوسروں کو سمجھنے سے پہلے ہی ان کے بارے میں بہت کچھ طے کر چکے ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے بھی ہمارے اس رویے کو خوب نمایاں کیا ہے۔ کسی کی تحریر پسند نہ آئے، کسی کی رائے ہمارے نظریات سے مختلف ہو یا کسی معاملے کو دیکھنے کا اس کا زاویہ ہم سے الگ ہو تو اختلاف کرنے کے بجائے اس کی تضحیک شروع کر دی جاتی ہے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے ذاتی حملے کیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات تبصرے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو بات سے اختلاف نہیں، بات کرنے والے سے مسئلہ ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ جس عزت کی توقع ہم اپنے لیے رکھتے ہیں، وہی عزت دوسروں کا بھی حق ہے۔
اس سب کے درمیان ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر ہمیں اپنی رائے بدلنے سے اتنا خوف کیوں لگتا ہے؟ کیا اپنی کسی غلطی کو تسلیم کر لینے سے ہماری اہمیت کم ہو جاتی ہے؟ یا ہم نے اپنے ذہن میں یہ تصور بٹھا لیا ہے کہ جو شخص اپنی بات سے پیچھے ہٹ جائے، وہ کمزور ہوتا ہے؟ حالاں کہ زندگی میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم وقت کے ساتھ بہتر طور پر سمجھ پاتے ہیں۔ کچھ تجربات ہماری سوچ بدل دیتے ہیں، کچھ واقعات ہمیں اپنی غلط فہمیوں کا احساس دلاتے ہیں اور بعض اوقات کسی دوسرے کی ایک بات ہمیں وہ پہلو دکھا دیتی ہے جس پر ہماری نظر کبھی گئی ہی نہیں ہوتی۔
انسان کا سیکھنا تبھی ممکن ہے جب وہ یہ تسلیم کرے کہ اس کے علم اور سمجھ کی بھی ایک حد ہے۔ اگر ہم پہلے ہی یہ طے کر لیں کہ درست صرف ہماری سوچ ہے تو پھر کسی نئی بات کو قبول کرنے کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ اپنی رائے پر قائم رہنا اچھی بات ہے، لیکن اس رائے پر نظرِ ثانی کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ ضد اور اصول میں فرق ہوتا ہے۔ اصول انسان کو ایک سمت دیتے ہیں، جبکہ ضد بعض اوقات اسے اپنی ہی غلطی کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے۔
میرے خیال میں اختلافِ رائے کا سب سے خوب صورت پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں اپنی سوچ سے باہر نکلنے کا موقع دیتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر بات سے اتفاق کریں، نہ ہی ہر شخص کی رائے کو درست ماننا لازم ہے۔ لیکن کسی کی بات سنے بغیر اسے غلط قرار دے دینا بھی دانش مندی نہیں۔ ہم اختلاف کرتے ہوئے بھی شائستہ رہ سکتے ہیں، اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے بھی دوسرے کی عزت کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے صرف اتنا ضروری ہے کہ ہم اپنی انا کو ہر گفتگو کے درمیان نہ لے آئیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہماری سوچیں مختلف ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم مختلف سوچ رکھنے والوں کے ساتھ رہنا بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری پسند کے مطابق چلے، لوگ ہماری توقعات پر پورے اتریں اور ہر معاملے میں ہماری رائے کو اہمیت دی جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کی اپنی ایک دنیا ہے، اپنے تجربات ہیں اور اپنے نتائج تک پہنچنے کی اپنی وجوہات ہیں۔ کسی کو سمجھنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم اس کی جگہ خود کو رکھ کر ہر بات سے اتفاق کریں، کبھی صرف اس کی جگہ کو تسلیم کر لینا ہی کافی ہوتا ہے۔
شاید ہمیں دوسروں کی سوچ بدلنے کی کوشش سے پہلے اپنے رویے پر نظر ڈالنی چاہیے۔ ممکن ہے جس اختلاف کو ہم اپنی توہین سمجھ رہے ہوں، وہ محض ایک مختلف نقطۂ نظر ہو۔ اور ممکن ہے ہر بحث میں اپنی بات منوانے کی خواہش میں ہم اس چیز سے محروم ہو رہے ہوں جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے: ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت۔
کیونکہ ہر شخص کا ہم سے متفق ہونا ضروری نہیں، لیکن ہر شخص کے لیے یہ حق ضرور ہونا چاہیے کہ وہ اپنی بات کہہ سکے۔ آخر اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا ہی تو اس بات کی علامت ہے کہ ہم صرف اپنی رائے کے نہیں، اپنے شعور کے بھی قائل ہیں۔
مزید پڑھیں





