Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

" پُتلی تماشا" "ہائے رے مہنگائی ۔تحریر: فائزہ شہزاد

مصنف:


آج کا موضوع ایسا ہے جو ہر فرد کا مشترکہ دکھ ہےـ زبانی کلامی تو ہم ہر وقت کہتے ہیں کہ ہم ایک ہیں، جب کہ حقیقت اِس کے برعکس ہے مگرجیسے ہی مہنگائی کا ذکر خیر آتا ہے تو سب ایک اور نیک ہو کر بہ آواز بلند کہتے ہیں " سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں"ـ اور جب کوئی کہتا ہے " اف آٹا مہنگا ہوگیا، گھی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، ٹماٹر 500 روپے کلو ہو گیا ، اور تو اور جس بینگن کو کوئی دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا وہ بھی 200 روپے کلو ہوگیا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا کسی نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو اور درد کی ایسی لہر اُٹھتی ہے کہ اب سمجھ آئی ہے کہ شاعر نے کیوں کہا تھا: " دل میں اِک لہر سی اُٹھی ہے ابھی"

اِس مہنگائی اور عوام کا تو" چولی دامن" کا ساتھ ہے اور اِس ساتھ میں کوئی حائل نہیں ہو سکتا سوائے موت کے، لیکن پھر یہ خیال آتا ہے کہ" مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے" آئے دن کی خبروں نے دل دہلا دیا ہےـ ابھی کچھ دن پہلے کی خبر نظروں میں آ گئی کہ بچے کئی دن سے بھوکے تھے، باپ نے ہر جگہ قرض کے لئے ہاتھ پھیلایا مگر ہر ایک نے انکار کر دیا کہ ابھی تو پہلے پیسے واپس نہیں کیئے یہ کیسے کرو گے؟ اُسے آسان طریقہ یہ لگا کہ گھر میں رکھی چوہے مار گولیاں بچوں کو پیس کر کھلا دیں اور بعد میں خود کھا لیں، کیا مسئلے کا حل یہی تھا؟ لیکن شاید جب انسان ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے اور سوائے اندھیرے کے اُسے چاروں طرف کُچھ نظر نہیں آتا تو وہ یہ حرام راستہ چن لیتا ہےـ اور پھر تکلیف دہ بات یہ کہ کھانے کے لئے پیسے دیئے نہیں مگر کفن دفن بھی انہی لوگوں نے مل کر کیا اور کھانا بھی دیا کہ " کل کو اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے، اُسے کیا حساب دیں گے؟" لو جی یہی منہ دکھائیں گے، جو نقاب اِن چہروں پر منافقت اور اچھائی کے پہن رکھے ہیں، اگلے جہان میں سب اُتر جائیں گے اور سب کھاتے کھل جائیں گےـ

مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں اچھے بھلے، پڑھے لکھے شریف النفس لوگ چوری اور ڈکیتی پر مجبور ہو گئے ہیں ـ ایک نوجوان بیکری سے چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تو معلوم ہوا کہ ایم اے انگلش ہے اور نوکری نہیں، گھر میں میرے سوا کوئی کمانے والا نہیں، باپ فوت ہو چکا ہے اور نوکری ملتی نہیں تو کیا کروں؟ میرے چھوٹے بہن بھائی ہیں، اُن کا بھی دل کرتا ہے اور یہ کہہ کر وہ رو پڑاـ بیکری کا مالک اچھا آدمی تھا اُس نے ڈھیر سارا سامان دیا مگر ساتھ اپنے ملازم کو بھی بھیجا کیونکہ آج کل فراڈ بھی تو بہت ہیں اور اِس کی وجہ بھی مہنگائی ہےـ

عوام کو مہنگائی کی صورت میں وہ " وائرس" چمٹ گیا ہے جس کی کوئی ویکسین نہیں، کوئی علاج نہیں ـ عوام بیچاری چیخ چیخ کر، دھرنے دے دے کر، ہڑتالیں کر کر کے اور اب تو خودکشیاں بھی کر کے تھک چُکی ہے مگر ہمارے حکمران ہاتھی کے کان میں سوئے پڑے ہیں، اُن کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ـ عوام مہنگائی اور غربت کی آگ میں جل رہی ہے اور وہ " نیرو " کی طرح چین کی بانسری بجا رہے ہیں ـ ہم بیچارے لکھاری اِس موضوع پر لکھ لکھ کر، صفحات کالے کر کر کے ایک کونے میں خاموش بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنی سوچوں میں گم ہیں کہ زندگی کیسے گزرے گی، ایک وقت کا کھانا کھاتے ہی دوسرے وقت کی فکر لاحق ہو جاتی ہےـ ایک دوست جو کہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتی ہیں، اُن سے بات ہو رہی تھی کہ وہ کہنے لگی:" اف! اِس مہنگائی نے تو جینا محال کر دیا ہےـ اب دیکھو! پیڑول اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ پہلے ہم ہر دوسرے دن اسلام آباد جاتے تھے( چائنیز کھانا کھانے کہ اُن کی نظر میں سب سے بہترین وہاں ملتا ہے) مگر اب سوچا ہے کہ ہفتے میں ایک دن جایا کریں اور باقی کے دن اِدھر پشاور میں ہی گھوم پھر لیا کریں( لوکل شاید گاڑی میں پانی پڑتا ہے)ـ" میں درمیان میں بولی:" ہاں نا! مگر ہم بیچارے مڈل کلاس تو ہفتے میں ایک دن بھی نہیں گھوم سکتے، گاڑی( وہ بھی پطرس کی سائیکل جیسی، جو کبھی کبھار اپنے موڈ کے حساب سے چلتی ہے)" تو ایک دم بولی:" تو بھئی اپنے خرچے کنٹرول کرو نا! غیر ضروری اخراجات کم کرو، اب ہم نے بھی تو دیکھو! تین ڈرائیور تھے ایک کو فارغ کر دیا، تین خانساماں تھے ایک کو فارغ کیا ہے اور اسی طرح کام والی الگ الگ ماسیاں تھیں اُن کی بھی چھانٹی کی ہےـ" میں خاموشی سے اُٹھ کر گھر آ گئی کہ کیا کہوں؟ اب ان کا اور ہمارا مقابلہ کہاں؟ ہم جیسی عوام تو ساری رات سکون سے سو بھی نہیں سکتی کہ اگلے دن کی فکر لگی ہوتی ہےـ ذہن میں بجلی، سوئی گیس کے بل چل رہے ہوتے ہیں جن کی آخری تاریخ سر پر تلوار کی مانند لٹک رہی ہوتی ہےـ خوابوں میں بھی یہ مہنگائی کا عفریت دانت نکالے ہمیں ڈراتا ہے اور بجائے یہ کہ خوابوں میں ہی ہم کہیں گلیات کے نظارے کرلیں، کوئی دو چار بندروں کو بھٹے کھلاتے ہوئے منہ ٹیڑھے میڑھے بناتے ہوئے، سیلفی لیتے ہوئے اِک شان دلربائی سے کہیں" یہ میں ہوں، یہ میرے بندر ہیں اور پاری ہو رہی ہے" اور شاید سوئے نصیب خواب میں ہی جاگ جائیں، اور جاوید میاں داد کی طرح کوئی چھکا ہمارا بھی لگ جائے، مگر نہ جی ! خوابوں میں بھی ٹوٹی پھوٹی ڈائری ہوتی ہے اور مہینے کا حساب کتاب ۔۔ دو جمع دو کی بجائے، دو تفریق دو اور اتنے بڑے بڑے صفر چل رہے ہوتے ہیں، سانس رک جاتی ہے اور خوف سے آنکھ کھل جاتی ہے کہ شاید آخری وقت آ گیا ہےـ مگر ہم پاکستانی قوم ہیں، بہادر اور جی دار قوم، جو دکھوں اور غموں کی بھٹی میں جل جل کر کندن بن چکی ہےـ اب مغربی اقوام جیسے نازک تو نہیں ہم کہ ذرا سی گرمی ہوئی اور دھڑا دھڑ مرنے لگ جائیں ـ ہم تو وہ ڈھیٹ ہیں جو بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ میں بھی یہ گرما گرم چائے پی رہے ہوتے ہیں کیونکہ " زندہ قومیں " ایسی ہی ہوتی ہیں ـ ہاں! تو بات ہورہی تھی مہنگائی کی، بس یہ قلم بھی ناجانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہےـ

آج تک سمجھ یہ نہیں آئی کہ جنگ و جدل دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، کوئی قدرتی آفت کسی بھی ملک میں آئے مگر پاکستان میں مہنگائی کی آفت ایک دم کیوں آ جاتی ہے، اسکول، کالج، یونیورسٹیاں یہاں کیوں بند ہو جاتی ہیں، جب کہ وہاں سب کچھ چل رہا ہوتا ہےـ پھر یہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک طرف عوام رو رہی ہے مہنگائی کے ہاتھوں مگر دوسری طرف بازار بھرے ہوئے ہیں ـ کپڑوں کی، جوتوں کی، کھانے پینے کی دکانوں پر ایک دھکم پیل جاری ہےـ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں اور پیٹرول پمپ پر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور گاڑی کی ٹینکیاں فل کروائی جا رہی ہیں ـ سیاحوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہےـ اب گورے اتنے نظر نہیں آتے، جتنے اپنے پاکستانی بہن بھائی ہوتے ہیں اور گرمیوں کی چھٹیاں ہوتے ہی سب ایسے کونوں کھدروں سے نِکل آتے ہیں جیسے برسات میں کیڑے پتنگےـ اور جب مہنگائی کی بات ہو تو یہ بڑے بڑے بینر اٹھائے یہی لوگ پریس کلب کے باہر نظر آتے ہیں اور غریب بیچارا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھا یہی سوچ رہا ہوتا ہے کہ تنخواہ ختم ہو گئی ہے اب باقی کے دن کیسے گزریں گے؟ بیمار بچے کی دوائی کہاں سے آئے گی؟ بچوں کے کپڑے جوتے، جو پہن پہن کر اپنا رنگ، نسل سب کھو چکے ہیں اور راشن کے لئے پھر اسٹور پر جا کر شرمندوں کی طرح دس بار پڑھنا ہوگا " اُدھار محبت کی قینچی ہے، اُدھار مانگ کر شرمندہ نہ کیجئے" مگر پھر ہاتھ جوڑ کر شرمندہ ہونا ہی پڑتا ہے کہ یہ جو پیٹ کا دوزخ ہے اُسے بھرنا بھی تو ہےـ غریب عوام اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کا بھرتی ہے اور ہمارے حکمران ہمارے پیٹ کاٹ کر بلکہ پورے کا پورا انسان کاٹ کر اپنی تجوریاں بھرتی ہےـ رہی سہی کسر منوں ٹنوں کے حساب سے لگائے ٹیکسوں نے پوری کر دی ہےـ کل ایک عورت نے کہا:" چھوٹا سا ایک گھر ہے اور ٹیکس اتنا آ گیا ہےـ اچھا ہوتا کہ بیوہ ہوتی تو کم از کم یہ ٹیکس تو نہ دینا پڑتاـ" یعنی یہ دیکھیں کہ انسان کس حد تک تنگ آ گیا ہے اس مہنگائی کے ہاتھوں ـ ہر نیا آنے والا حکمران بڑے بڑے دعوے کرتا ہے کہ" مہنگائی کا، غربت کا خاتمہ کروں گا( درحقیقت کہہ رہا ہوتا ہے غریب کا خاتمہ کروں گا، ہمیں غربت سمجھ آتی ہے) نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیئے جائیں گے( اصل میں وہ ساتھ اپنے خاندانی نوجوان کہنا بھول جاتے ہیں) ہر شخص کو مفت تعلیم اور علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی"مگر مسند اقتدار پر فائز ہوتے ہی سب بھول جاتا ہے اور صرف اپنی جیب اور تجوری یاد رہ جاتی ہے، اُس کو بھرنے کے طریقے سوچے جاتے ہیں اور پھر " بجلی، گیس، پیٹرول مہنگا کر کے، ہزار قسم کے ٹیکس لگا کر" عوام کی جیب خالی اور اپنی بھر لی جاتی ہےـ

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عوام چاہے تو مہنگائی کا خاتمہ کر سکتی ہے، مگر یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ کسی فرد واحد کا کام نہیں، جب تک سب متحد نہ ہو جائیں ـ میں یا میرے جیسے 50/ 60 لوگ اگر پیٹرول نہ ڈلوائیں، گوشت نہ لیں، تین وقت کھانے کی بجائے ایک وقت کھائیں تو حکومت کو کیا فرق پڑے گا، ہم خود ہی بھوکے رہ جائیں گے اور باقی سب کاروبار دنیا ویسے ہی چلتا رہے گا، جیسے کسی کے دنیا سے چلے جانے سے کسی کوکوئی فرق نہیں پڑتا، وہ پیچھے دیکھے بغیر آگے ہی چلتی بلکہ بڑھتی رہتی ہےـ وقت بھی بھلا کبھی کسی کے لئے رکا ہے؟

اِس " عفریت " سے جان چھڑانے کا حل سوائے ہمارے حکمرانوں کے اور کسی کے پاس نہیں ـ میں، آپ اور باقی سب چلا چلا کر تھک گئے ہیں اور وہ سب آرام سے ایئر کنڈیشن چلائے اپنی خواب ناک آرام گاہوں میں آرام فرما رہے ہیں ـ اُن کی طرف سے عوام جیے یا مرے، اُنہیں کیا؟ شدید گرمی میں فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے شخص کی اذیت صرف وہ جانتا ہے یا اس کا ربِ کائنات، کچرے کے ڈھیر پر ایک طرف انسان خوراک چن رہا ہے اور دوسری طرف کتے بلیاں ! اور اُن کے اپنے اعلیٰ نژاد کتے بلیاں امپورٹڈ خوراکیں کھاتے ہیں، اُن کے بسکٹ کے ڈبوں پر لکھی قیمت دیکھی تو دل لرز گیا کہ غریب کا بچہ لوکل بسکٹ کے لئے بھی ترستا ہےـ یہ سب لکھتے ہوئے دل رو رہا ہے لیکن ہم مُسکرا رہے ہیں کیونکہ اتنے عرصے سے رو دھو رہے ہیں مگر کچھ بھی تو نہیں بدلا، ہم بچپن سے یہ " پُتلی تماشا" دیکھتے دیکھتے بوڑھے ہوگئے ہیں مگر آج تک سمجھ نہیں آئی کہ اِن پتلیوں کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے؟

( میں نے تھوڑا کالم کو منفرد انداز میں اِس لئے لکھا کہ روتی عوام کو مزید کیا رلانا؟ )