یمن میں حوثیوں کا میزائلوں سے فوجی کیمپ پر حملہ، 53 اہلکار جاں بحق، 200 سے زائد زخمی

یمن میں حوثی باغیوں نے توانائی کے وسائل سے مالا مال صوبے شبوا میں فوجی کیمپ پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 53 سے زائد جاں بحق اور 200 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام اورفوجی ذرائع نے پیر کو بتایا کہ حملے میں سکیورٹی فورسز کے نئے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جو کیمپ میں تربیت حاصل کر رہے تھے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران یہ سب سے زیادہ ہلاکتوں کا سبب بننے والا حملہ ہے، جس کے بعد حوثی باغیوں اورسعودی عرب کی حمایت یافتہ یمن کی تسلیم شدہ حکومت کے درمیان لڑائی میں مزید شدت آگئی ہے۔
صوبائی حکام کے بیان کے مطابق حملے میں داخلی سکیورٹی فورسز کے 53 سے زائد نئے اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، فوجی ذرائع نے بتایا کہ شبوا کے علاقے میں واقع العلم کیمپ پر تین بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان ماجد النزیلی نے العلم کیمپ کو سکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کی تربیت کا مرکز قرار دیا۔ شبوا کے نائب گورنر فہد الخلیفی نے اے ایف پی کو بتایا کہ صوبے کے اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں اور شدید زخمیوں کو پڑوسی صوبوں حضرموت اور عدن منتقل کرنا پڑا، بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
صوبہ شبوا یمن کے اہم تیل اور گیس کے ذخائر کا مرکز ہے، یہاں ملک کی سب سے بڑی توانائی تنصیب، بلحاف مائع قدرتی گیس ٹرمینل بھی واقع ہے، جسے یمن کا اہم معاشی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ صوبے میں حکومت کے ایک فوجی ذریعے نے خدشہ ظاہر کیا کہ میزائل حملے کسی بڑی زمینی کارروائی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق صورتحال بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا میں پیش آنے والے واقعات جیسی ہوسکتی ہے، جس پر حوثی باغیوں نے گزشتہ ماہ قبضہ کیا تھا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے فوجی ذریعے نے بتایا کہ حوثیوں نے اتوار کو شبوا کو اپنے زیر کنٹرول صوبے البیضا سے ملانے والی سڑک بھی بند کردی تھی۔
دوسری جانب حوثیوں کی خبررساں ایجنسی سبا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ العلم کیمپ میں سعودی دشمن کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یمن کی حکومت نے رواں ماہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کے قبضے میں جانے والے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی تھی، حوثیوں نے ستمبر میں ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔
یمن میں کشیدگی کا دائرہ سعودی عرب تک بھی پھیل چکا ہے، حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر متعدد حملے کیے، جن میں ریاض کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق رواں ماہ ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے جو ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والا حملہ تھا۔
اے ایف پی کے مطابق جولائی میں حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان 2022 میں قائم ہونے والی کمزور جنگ بندی اس وقت ختم ہوگئی جب حوثیوں نے ریاض کے فضائی حدود پر کنٹرول کے دعوے کے برخلاف ایک ایرانی طیارے کو صنعاء میں اترنے کی اجازت دی اس کے بعد حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ حوثیوں نے بعدازاں سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اورسعودی بحری جہازوں، علاقوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔
گزشتہ ماہ انہوں نے تیزرفتارکارروائی کے دوران بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں یمنی حکومت کی افواج کو ان کی پوزیشنوں سے پیچھے دھکیل دیا۔





