وزیراعظم کل کے پی کیلئے 137 ارب کے پیکیج کا اعلان کریں گے: بیرسٹر عقیل

بیرسٹرعقیل نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرز سیاست میں سارے شامل ہیں، عوام کہتے ہیں ان کی باریاں ہیں،یہ تلخ باتیں ہیں،انکارنہیں کیاجاسکتا،پی ٹی آئی کی طرف سے عوام کو نعرہ دیاگیا، پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ کا دعویٰ کرتی تھی، پی ٹی آئی کہتی تھی90فیصد عوام ہمارےساتھ ہے، کون سےعوام پی ٹی آئی کےساتھ نکلے؟ ہم نے کہا احتجاج کریں لیکن قانونی دائرےمیں رہتے ہوئے پر امن احتجاج کریں، ایشوزکی سیاست کریں، پارلیمنٹ میں یہ نہیں ہیں۔
یہ اپوزیشن میں برائےنام ہیں،ان کی طرف سے کوئی ان پٹ نہیں،پیپلزپارٹی کہتی ہے ان کا کام بھی ہم کررہے ہیں، ایشوز پر بات کریں، ہم پر تنقید کریں، ویلکم کریں گے،یہ نہیں ہوناچاہیے کہ 804، 504نکال دو، ہم اڈیالہ یا فلاں جگہ چلے جائیں گے، مولانافضل الرحمان سینئر سیاستدان،ان سے سیکھتے ہیں، مولانافضل الرحمان کی غلط بات کوغلط کہنابھی ہماری ذمہ داری ہے، 3دن انتظار کیا گیا،سیر حاصل گفتگو اور بحث ہوئی، مولانافضل الرحمان خود جوائنٹ سیشن میں موجودنہیں تھے۔
ان کا کہناتھا کہ معدنیات سے متعلق کسی کمپنی سے کنٹریکٹ نہیں کیا،ہم پر الزام لگا امریکا کو معدنیات دےدی ہیں،میں نےآج ثبوت مانگا، کےپی میں پہلے مولانافضل الرحمان،پھرپی ٹی آئی کی حکومت تھی، 2010تک 482لائسنس کس نےدیئے؟ کےپی میں اکتوبر 2026 تک 4 ہزار 917 لائسنس دیئے گئے، کےپی میں ن لیگ یا پیپلزپارٹی کی حکومت نہیں تھی، لائسنس کیلئے 500 درخواستیں زیر التوا ہیں، 3دن انتظار کیا گیا اور معدنیات کی من گھڑت کہانی بنائی گئی، بتائیں شام کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کیوں نہیں جایاجاسکتا؟
بیرسٹرعقیل نے کہا کہ کیوں کہا جاتا ہے کےپی میں لاقانونیت ہے،ریاست کی عملداری نہیں ہے؟ انہی مسائل کی وجہ سےخیبرپختونخوامیں گورنرراج لگا، خیبرپختونخوامیں ایڈوائزری کونسل بنی ہے، انسدادہشتگردی کیلئے انہیں مضبوط کیا جا رہا ہے، خیبرپختونخوامیں پولیس کو بہتر کیا جا رہا ہے، وزیراعظم کا کل خیبرپختونخوا کا دورہ متوقع ہے، وزیراعظم کےپی کیلئے 137 ارب کے پیکیج کا اعلان کریں گے۔
مزید پڑھیں

میر رضا کیس، سندھ کابینہ کا اہم اجلاس منگل کو ہوگا


کامران مرتضیٰ کی حکومت سے مذاکرات کیلئے تجویز


