ہم بدلے یا وقت بدل گیا؟تحریر: مبراء عبدالقیوم
نقطہ نظر
کبھی کبھی زندگی کی بھیڑ میں چلتے چلتے اچانک دل ٹھہر سا جاتا ہے۔ نگاہیں اپنے ہی گزرے ہوئے دنوں کو تلاش کرنے لگتی ہیں۔ وہ دن جب شام کا اترتا ہوا دھندلکا گھر کی دہلیز پر سکون بن کر ٹھہرتا تھا۔ جب صحن میں بیٹھے لوگوں کی باتوں میں اپنائیت ہوتی تھی۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر دل بے اختیار خوش ہو جاتا تھا۔ تب بھی زندگی شاید اتنی آسان نہیں تھی مگر جینے میں ایک عجیب سا سکون ضرور تھا۔ آج ہمارے ہاتھوں میں بہت کچھ ہے مگر شاید ہاتھ تھامنے والے لمحے کم ہو گئے ہیں۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں مگر دلوں کے درمیان دوریاں بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ پیغام چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن کسی اپنے کے پاس بیٹھ کر اس کی خاموشی سمجھنے کے لیے ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ اپنی اپنی دنیا میں گم ہو گئے ہیں۔ چہروں پر روشنی موبائل کی ہے مگر آنکھوں میں پہلے جیسی چمک کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی ہے۔
کبھی رشتے نبھانے کے لیے بڑے بڑے وعدوں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ کسی کے گھر چلے جانا، چند لمحے ساتھ بیٹھ کر، ایک کپ چائے پیتے ہوئے اپنے دل کی بات کہہ دینا ہی کافی ہوتا تھا۔ خوشیاں بانٹنے کے لیے تصویروں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اور دکھ سنانے کے لیے بھی کسی خاص وقت کا انتظار نہیں کیا جاتا تھا۔ اب ہمارے پاس رابطوں کے ہزاروں ذرائع ہیں مگر دل کی بات کہنے کے لیے الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔ شاید وقت واقعی بدل گیا ہے مگر کیا صرف وقت ہی بدلا ہے؟ شاید ہم بھی بدل گئے ہیں۔ ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں۔ ہماری مصروفیات بڑھ گئی ہیں۔ ہماری خواہشوں نے ہماری ضرورتوں سے زیادہ جگہ لے لی ہے۔ ہم نے سہولتوں کو تو اپنا لیا مگر ان سہولتوں کے درمیان چھپی تنہائی کو محسوس ہی نہیں کیا۔ ہم منزل تک پہنچنے کی جلدی میں راستے کے خوبصورت لمحے پیچھے چھوڑتے چلے گئے۔
کبھی ایک چھوٹی سی خوشی پورے دن کو خوبصورت بنا دیتی تھی۔ بارش کی پہلی بوند، ایک گھر میں پکتی ہوئی کسی پسندیدہ چیز کی خوشبو، اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر بے مقصد باتیں کرنا، ہنسنا ہنسانا، کسی بزرگ کی شفقت بھری آواز سننا، یہ سب زندگی کا حصہ تھا۔ اب خوشی بھی شاید کسی بڑی کامیابی کی محتاج ہو گئی ہے۔ ہم آنے والے کل کی فکر میں آج کو جینا بھولتے جا رہے ہیں۔ لیکن شاید ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ شاید ہمیں صرف ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھنے کی، اپنے لوگوں کو محسوس کرنے کی، ان لوگوں کو دوبارہ پہچاننے کی، جو ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ وقت کو واپس تو نہیں لایا جا سکتا۔ گزرے ہوئے لمحوں کو بھی دوبارہ جیا نہیں جا سکتا مگر آنے والے لمحوں کو ضرور خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔
شاید وقت کبھی بدلتا ہی نہیں، بس ہم اس کے ساتھ بدلتے چلے جاتے ہیں۔ گھڑی کی سوئیاں آج بھی وہی ہیں۔ صبح آج بھی روشنی لے کر آتی ہے۔ شام آج بھی خاموشی سے اترتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ہم ان لمحوں کو محسوس کرتے تھے۔ اور اب ہم انہیں خاموشی سے گزر جانے دیتے ہیں۔ پھر دل کے کسی کونے سے ایک سوال ابھرتا ہے ہم بدلے ہیں یا وقت بدل گیا؟ شاید جواب دونوں کے درمیان کہیں چھپا ہے۔ وقت نے ہمیں بدلنے پر مجبور کیا، اور ہم نے بھی وقت کے ساتھ خود کو بدل لیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو آج بھی کچھ لمحوں کو روک کر، کچھ دوستوں کو وقت دے کر، کچھ خوشیوں کو دوبارہ محسوس کر کے، اپنی دنیا کو پہلے سے زیادہ خوبصورت بنا سکتے ہیں۔





