جیل کی دیواروں کے اندر ایک طویل انتظار،تحریر:آصف محمود
نقطہ نظر
لاہور کا رہائشی سلیم صبح سویرے کوٹ لکھپت جیل کی ایک بیرک میں آنکھ کھولتا ہے۔ چند لمحوں کے لیے اسے یاد نہیں رہتا کہ وہ یہاں کتنے دن گزار چکا ہے۔ پھر اسے اپنا مقدمہ یاد آتا ہے، اگلی پیشی کی تاریخ یاد آتی ہے اور گھر میں موجود بیوی اور بچوں کے چہرے ذہن میں آتے ہیں۔ سلیم ابھی سزا یافتہ نہیں۔ اس کا مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور وہ ہر پیشی کے بعد اسی امید کے ساتھ جیل واپس آتا ہے کہ شاید اگلی بار اس کی زندگی کا انتظار ختم ہوجائے۔
سلیم کوئی ایک شخص نہیں، بلکہ پاکستان کی جیلوں میں موجود ہزاروں ایسے افراد کی نمائندگی کرتا ہے جن کے خلاف مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ قانون کی نظر میں ان کا جرم ابھی ثابت نہیں ہوا، لیکن ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیل کی چار دیواری میں گزر رہا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی پالیسی رپورٹ ’’جیل کی دیواروں سے باہر، پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کا حل‘‘اسی تلخ حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان کی جیلوں میں 73.41 فیصد قیدی زیرِ سماعت تھے۔ یعنی تقریباً ہر چار قیدیوں میں سے تین ایسے تھے جنہیں ابھی کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی تھی۔ 2017 میں یہ تناسب 66 فیصد تھا۔
اپنے مقدمات کے فیصلوں کے منتظر 73 فیصد قیدیوں کے پیچھے سلیم جیسے ہزاروں چہرے ہیں، جن کے لیے مقدمے کی تاریخ صرف عدالت کی کارروائی نہیں بلکہ گھر سے دور گزرنے والا ایک اور دن ہے۔
پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کا مسئلہ بھی اسی تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے 2024 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک بھر کی جیلیں اپنی سرکاری گنجائش کے اوسطاً 152.2 فیصد تک بھری ہوئی تھیں۔ ایچ آر سی پی کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جیلوں میں جگہ کم ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ نظامِ انصاف لوگوں کو طویل عرصے تک جیل میں رکھ رہا ہے۔
پنجاب کے اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی مزید واضح کرتے ہیں۔ ستمبر 2026 میں صوبے کی 45 جیلوں میں 74 ہزار 773 قیدی موجود تھے، جبکہ سرکاری گنجائش صرف 39 ہزار 204 تھی۔ یوں پنجاب کی جیلیں اپنی گنجائش کے 190.73 فیصد پر چل رہی تھیں۔ ان قیدیوں میں 54 ہزار 932 زیرِ سماعت تھے۔ یعنی اگر سلیم پنجاب کی کسی جیل میں بیٹھا ہے تو اس کے ساتھ جیل میں موجود ہر دس قیدیوں میں سے تقریباً سات کے مقدمات بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 2010 کے بعد نئی جیلیں، بیرکس اور دیگر سہولیات تعمیر کی گئیں۔ 2010 میں 32 جیلوں میں 52 ہزار 803 قیدی موجود تھے، جبکہ گنجائش 21 ہزار 527 تھی۔ 2024 تک پنجاب میں جیلوں کی تعداد 43 اور گنجائش 37 ہزار 563 تک پہنچ گئی، لیکن اس کے باوجود 2024 میں صوبائی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی شرح 173.6 فیصد تھی۔اس کا مطلب صاف ہے: مسئلہ صرف جیلوں کی تعداد بڑھانے سے حل نہیں ہوگا۔
ایچ آر سی پی کے مطابق زیرِ سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد کی وجوہات میں غیر مؤثر ضمانت کا نظام، مقدمات اور تحقیقات میں غیر معمولی تاخیر اور مقدمے سے پہلے حراست پر ضرورت سے زیادہ انحصار شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض افراد ماہوں بلکہ سالوں تک مقدمے سے پہلے جیل میں رہتے ہیں۔
سلیم کے لیے اس کا مطلب شاید صرف اتنا ہے کہ اگلی پیشی پر بھی فیصلہ نہ ہو۔ لیکن ایک خاندان کے لیے اس کا مطلب آمدنی کا ایک ذریعہ ختم ہونا، بچوں کا والد سے دور ہونا اور ہر پیشی کے ساتھ بڑھتی ہوئی بے یقینی ہے۔
ایچ آر سی پی نے تجویز دی ہے کہ ضمانت کے نظام میں اصلاحات کی جائیں، مقدمے سے پہلے حراست کے بجائے ذاتی مچلکے اور نگرانی جیسے متبادل استعمال کیے جائیں، قانونی مدت سے زیادہ تاخیر کی صورت میں ضمانت کو حق بنایا جائے اور ملزم کو ضمانت کے مرحلے پر اپنے خلاف موجود شواہد تک رسائی دی جائے۔
رپورٹ پراسیکیوشن کو آزاد بنانے، ایسے مقدمات واپس لینے کی بھی سفارش کرتی ہے جن میں سزا کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں، جبکہ پروبیشن اور پیرول کے نظام کو مضبوط بنانے، جیلوں کا ڈیٹا عوام کے سامنے رکھنے اور جیلوں کی نگرانی کے لیے ایک آزاد ادارہ قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
جیل کی اونچی دیوار کے باہر سلیم کا گھر ہے، اس کے بچے ہیں اور ایک ایسی زندگی ہے جس کا فیصلہ ابھی عدالت نے نہیں کیا۔ مگر جیل کے اندر گزرتا ہر دن واپس نہیں آتا۔
پاکستان میں جیلوں کا مسئلہ شاید اینٹوں، سیمنٹ اور نئی بیرکس سے زیادہ انتظار کا مسئلہ ہے۔ جب تک مقدمات بروقت نہیں نمٹیں گے، ضمانت کا نظام مؤثر نہیں ہوگا اور مقدمے سے پہلے حراست کو آخری راستے کے بجائے معمول سمجھا جاتا رہے گا، نئی جیلیں بھی پرانی دیواروں کی طرح جلد بھر جائیں گی اور سلیم جیسے لوگ اگلی پیشی کی تاریخ کا انتظار کرتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں





