موت انسان کی زندگی کا وہ آخری مقام ہے جہاں عہدے، دولت، شہرت، رشتے، غرور اور انا سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو نہ اپنے دفاع کے لیے موجود ہوتا ہے، نہ اپنی صفائی پیش کر سکتا ہے، نہ کسی سے بحث کر سکتا ہے۔ اس کے پاس اگر کچھ باقی رہ جاتا ہے تو وہ اس کا کردار اور لوگوں کے دلوں میں اس کی بنائی ہوئی جگہ ہوتی ہے۔
کچھ روز قبل فتح پور میں چوہدری ندیم گجر کے جواں سال بیٹے، جو ایف اے کے طالب علم تھے، ایک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ جوان بیٹے کی میت باپ کے سامنے ہو تو اس سے بڑا صدمہ شاید کوئی نہیں۔ پورا علاقہ غم میں ڈوب گیا اور بڑی تعداد میں لوگ جنازے میں شریک ہوئے۔
اسی موقع پر غم سے نڈھال والد نے جو بات کہی، وہ ایک واقعے سے بڑھ کر ہم سب کے لیے ایک سبق بن گئی۔
انہوں نے شرکائے جنازہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگرچہ انہیں اپنے والدین کی دی ہوئی تربیت پر فخر ہے اور انہوں نے وہی تربیت اپنے بچوں کو منتقل کرنے کی کوشش کی، لیکن اللہ کی رضا سے ان کا جواں بیٹا آج میت کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ پھر انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر ان کے بیٹے نے کبھی کسی کا دل دکھایا ہو، کسی سے سخت زبان میں بات کی ہو، کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہو یا کسی کی کوئی رقم اس کے ذمے واجب الادا ہو تو وہ انہیں بتائیں، وہ اس کا حق ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، مگر خدارا ان کے بیٹے کو معاف کر دیں تاکہ وہ اپنے رب کے حضور سرخرو ہو سکے۔
ایک باپ کا اپنی اولاد کی میت کے سامنے کھڑے ہو کر ہاتھ جوڑنا یقیناً آسان نہیں۔ لیکن اس منظر میں ایک بہت بڑا سبق چھپا ہوا ہے۔
کیا ہم اپنی زندگی اس طرح گزار رہے ہیں کہ ہمارے جنازے پر کھڑے ہو کر لوگ ہمیں آسانی سے معاف کر سکیں؟
ہم اکثر زندگی بھر دوسروں سے معافی، محبت اور اچھے سلوک کی توقع رکھتے ہیں، مگر کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ہمارے رویے دوسروں کے ساتھ کیسے ہیں۔ ہماری زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ کسی کے دل میں برسوں رہ سکتا ہے۔ ہماری معمولی سی سختی کسی حساس انسان کے لیے عمر بھر کا دکھ بن سکتی ہے۔ کسی کا حق روک لینا، کسی کی محنت کا صلہ نہ دینا، کسی کے اعتماد کو توڑ دینا، کسی کی عزت پر حرف لانا یا کسی کے جذبات کو معمولی سمجھ لینا شاید ہمارے لیے چند لمحوں کی بات ہو، مگر سامنے والے کے لیے یہ ایک ایسا زخم بن سکتا ہے جو وقت کے ساتھ بھی نہیں بھرتا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وقت سب کچھ بھلا دیتا ہے۔
مگر وقت ہمیشہ دل کے زخم نہیں بھرتا، بعض اوقات صرف انسان کو خاموش رہنا سکھا دیتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے، ایک دن ہمارا جنازہ اٹھے، لوگ جمع ہوں اور کوئی آواز لگائے:
’’اگر اس مرحوم نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو، کسی کا دل دکھایا ہو تو اسے معاف کر دیں۔‘‘
اور مجمع میں سے کسی ایک شخص کی آواز آئے:
’’میری طرف سے اس کے لیے کوئی معافی نہیں ہے۔‘‘
سوچیے، اس سے زیادہ تکلیف دہ گواہی کسی انسان کے جنازے پر اور کیا ہو سکتی ہے؟
اسی لیے جنازے پر مانگی جانے والی معافی کا انتظار نہ کریں۔ اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو آج معافی مانگ لیں۔ کسی کا حق دبایا ہے تو آج واپس کر دیں۔ کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو آج اپنی غلطی تسلیم کر لیں۔ کسی کے بارے میں غلط بات کہی ہے تو آج اس کی تلافی کر دیں۔ کیونکہ زندہ انسان سے معافی مانگنے کا موقع موجود ہوتا ہے، لیکن مرنے کے بعد انسان صرف دوسروں کے رحم و کرم پر رہ جاتا ہے۔
اور اگر کسی نے ہمیں دکھ دیا ہے تو جہاں ممکن ہو، اسے معاف کر دینا بھی سیکھیں۔ معافی ہمیشہ دوسرے کے لیے نہیں ہوتی، کبھی کبھی اپنے دل کو بوجھ سے آزاد کرنے کے لیے بھی ہوتی ہے۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہمارے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے، کتنے بڑے لوگ کندھا دینے آئے یا کتنی آنکھیں ہمارے لیے نم ہوئیں۔ اصل کامیابی شاید یہ ہے کہ ہماری میت کے سامنے کھڑے لوگوں میں سے کسی کے دل میں یہ شکوہ باقی نہ ہو کہ اس شخص نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی اور میں اسے معاف نہیں کر سکتا۔
زندگی بہت مختصر ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کس کی باری پہلے آنی ہے۔ ممکن ہے جس شخص سے ہم آج ناراض ہیں، کل اس کی میت ہمارے سامنے ہو، یا ممکن ہے کل لوگ ہماری میت کے گرد کھڑے ہوں۔
اس لیے اپنے جنازے سے پہلے اپنا حساب کر لیجیے۔
اپنی زبان کا، اپنے رویے کا، اپنے معاملات کا، اپنے وعدوں کا، اپنے قرضوں کا اور سب سے بڑھ کر اپنے دل سے گزرنے والے لوگوں کے دلوں کا۔
کوشش کریں کہ جب آپ دنیا سے رخصت ہوں تو کوئی آپ کے لیے یہ نہ کہے:
’’اس نے مجھے بہت دکھ دیا تھا۔‘‘
بلکہ آپ کے جنازے پر اگر کوئی آخری گواہی دے تو بس اتنی ہو:
’’وہ انسان تھا، غلطیاں اس سے بھی ہوئیں، مگر اس نے کسی کا حق نہیں مارا، کسی کا دل جان بوجھ کر نہیں توڑا، اور جہاں غلطی ہوئی، وہاں معافی مانگ لی۔‘‘
شاید انسان کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت اس سے بڑی دولت کوئی نہیں کہ اس کے جنازے پر کوئی آواز نہ آئے: ’’میں معاف نہیں کرتا۔‘‘






